طنز و مزاح نقطۂ نظر

چائے چاہیے!

چائے  پینا اور پلانا ہماری روایت میں شامل ہے۔ صبح کا ناشتہ اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جاتا جب تک کہ اس میں چائے  شامل نہ ہو اور  شام کا ناشتہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں وائے شامل نہیں ہوتی۔ چائے  اور وائے  کا امتزاج تو سبحان اللہ ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں جب مہمان آتے ہیں تو چائے  پیے بغیر  نہیں جاسکتے ۔نند کو طعنہ دینا ہوتا ہے تو سب سے پہلے چائے  کی پیالی پر ہی غصہ اتارا جاتا ہے کہ ہائے ہوئے بھابھی نے چائے  کی پیالی تک کو نہ پوچھا۔  ساس کو بہو پر غصہ اتارنا ہو تو چائے کی شامت آجاتی ہے کہ بہو کو تو چائے  بنانی تک نہیں آتی ۔ میاں کے آفس سے واپس آتے ہی چائے کی پیالی  ضروری ہے، ورنہ موڈ بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ اور تو اور شادی بیاہ کا معاملہ ہوتو بھی لڑکی کم چائے زیادہ پسند آئے تو ہی بات بنتی ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ بھی معاملہ ہوتا ے کہ خواہ خاندان بھر کسی بھی تقریب سے واپس آئے لیکن باجماعت چائے تو سب نے یہیں پینا ہے لہٰذا تھکن اور نیند سے جھومتے دیگچے میں چائے چڑھائے سونے کا شوق بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری ملازمت اور چائے کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے اور ان کے ہاں کام کا تمام تر دورانیہ بھی تو چائے سے شروع اور چائے پر ہی ختم ہوجاتا ہے، بلکہ انھیں تو کام کروانے فائل آگے بڑھانے کو بھی  "چائے پانی” کے ہی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھائ شوکت مرزا چائے  کو مشروب السید کہتے ہیں ایک مرتبہ وہ چائے  کے باغ شنکیاری جا چکے ہیں ان کی  چائے  سے ابھی تک شنکیاری کے باغ کی خوشبو آتی ہے۔کہتے ہیں کہ میری نماز میں چستی اسی وقت آتی ہے جب میں ایک پیالہ چائے  چڑھا لیتا ہوں پھر اس گنہگار منھ سے مانگتے ہوئے جھجکتا نہیں ۔ بغیر سوچے سمجھے اپنی اوقات دیکھے بغیر مانگتا ہوں۔ کہتے ہیں چائے  پینے میں مزہ اسی وقت آتا ہے جب اپنے ہاتھوں سے بنائی جائے جس میں  اپنے من پسند برانڈ کی پتیاں ہوں  اور چینی و دودھ کی حسبِ منشا و حسبِ ذائقہ  آمیزش کے ساتھ ہی دل بہار و دل آرام چائے  حاصل آتی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ  وہ دوسروں کے گھر چائے  نہیں پیتے اور اسی لیے ہمیں ان کی بس یہی عادت نہایت  پسند ہے۔

ایک بار ترنگ میں آکر بولے  بعض لوگوں کے ہاتھ سے بنی چائے  نہ پی کر اطمینان محسوس ہوتا ہے۔اس میں تم بھی شامل ہو۔ ہم نے کہا  بھائی جان!جب تک میرا ذکر نہ ہو آپ کا دن نہیں گزرتا بقول شخصے اچھی چائے  وہی ہے جو آپ کو پسند آجائے ورنہ تو لوگوں کو چائے  بنا نی ہی نہیں آتی۔ فر مایا، تم نے تو چائے بنانے کے طور طریقے ہی نہیں دیکھے۔ تم چائے  نہیں بناتے چائے  کا قورمہ بناتے ہو۔ میاں !چائے  وہ نہیں جو ابالی جائے۔ ایک نازک سی چائے دانی ہو اور اس پر ایک ٹی کوزی ہو۔ پھر اس چائے کو ایک نازک سی  پیالی میں انڈیلا جائے۔ شنگرفی رنگ کی چائے  جیسے شہد کا رنگ۔ تم تو اتنے بڑے مگ میں گرم پانی لبا لب بھرے تعویز نما پتی ڈالے پیتے ہو کہ بقول شاعر

ذرا سی چائے  گری اور داغ داغ ورق

یہ زندگی ہے کہ اخبار کا تراشا ہے

بقول شوکت مرزا  ہماری بیگم چائے  بناتی نہیں بلکہ چائے  پکاتی ہیں ۔ ہماری ان آنکھوں نے وہ منظر بھی دیکھا ہے کہ چائے  کے پانی کو المونیم کی پتیلی میں اتنا ابالا گیا کہ پانی نے اپنی رنگت تبدیل کر لی اور جب اس کے نمکیات پانی کی سطح پر تیرنے لگے تو پتیوں کو ڈال کر اسے گھونٹا گیا بلکہ اٹھا اٹھا کر بلندی سے پتیلی میں یوں انڈیلا گیا کہ نرم نرم جھاگ سے اٹھتی پتیوں کی دل فریب خوشبو نے مشامِ جاں کو مہکا دیا۔

چائے پینے کے حوالے سے بھی  شوکت مرزا کا  اپنا ہی فلسفہ ہے، کہتے ہیں  کہ چائے  پینے کا مزہ گھونٹ گھونٹ پینے میں ہے۔جس طرح شراب کو گھونٹ گھونٹ کر کے پیا جاتا ہے اسی طرح چائے  پی جائے تو کچھ اور ہی لطف آتا ہے۔  چائے کی شان میں گستاخی ان سے برداشت نہیں جھٹ کہہ اٹھتے ہیں میاں دل نہ جلاو۔ ہم نے چائے  کی بے حرمتی دیکھی ہے۔ چائے  میں پاپے کو ڈبو کر نوش کرتے ہوئے دیکھا ہے، جیسے چائے  نہ ہو نہاری ہو۔ پھر بعضے تو چائے کو طشتری میں ڈال کر ایسے سڑک سڑک کر پیتے ہیں جیسے شدید نزلے میں ناک سے آوازیں نکل رہی ہوں۔ دل چاہتا ہے ان سے کہیں کہ چائے  کا احترام کرو۔ یہ تمام مشروبات کی مرشد ہے۔

ہم نے کہا !اب جانے بھی دیں 

وقت قلیل ؛ باتیں طویل، شکوے ہزار

پر جانے دیجیئے، چائے  پیجیے!

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

8 thoughts on “چائے چاہیے!”

  1. بلاشبہ ایک معیاری تحریر، لکھاری کے انداز میں شگفتگی، روانی اور جدت اپنی مثال آپ ہے۔ چائے تو یسے بھی ہم سب کا ہی دل پسند مشروب ہے اور جو اس کے جملہ فضائل کی داستاں نظر آئے تو کوئی کیسے اپنا دامن و دل بچائے۔

    1. حمیرا اشرف صاحبہ ہماری زبان اردو میں لکھاری کو مصنف یا مصنفہ لکھا یا کہا جاتا ہے ۔ لکھاری ہندی لفظ ہے۔ مجھے اس زبان سے کوئ بیر نہیں ، میں ہندی زبان بول اور لکھ سکتی ہوں اور اپنی جگہ وہ بھی ایک میٹھی زبان ہے۔ لیکن اردو زبان میں جہاں تک ممکن ہے اردو الفاظ کا استعمال ہی زیب دیتا ہے۔

      1. پپسند اپنی اپنی، لکھاری، لکھائی، لکھنا، لکھاوٹ، اور ان جیسے بےتحاشا الفاظ اردو میں ہندی زبان سے آئے ہیں۔ اردو زبان فارسی عربی ہندی پنجابی و دیگر زبانوں سے مل کر بنی ہے اور اس میں دیگر زبانوں کو جذب کرنے کی بےمثال صلاحیت ہے جسے ہماری محدود سوچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یقینا لکھاری کی جگہ مصنف بھی لکھا جاسکتا ہے، ناثر بھی لیکن اعتراض تو ان پر بھی کیا جاسکتا ہے کہ یہ عربی سے ہیں اردو سے نہیں۔ تو بس عرض یہی ہے مجھے گیسوئے اردو کو سلجھانے سنوارنے نیز دامنِ اردو کو دراز کرنے کا شوق ہے۔ اور کہتے ہیں نا کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا!

        1. اگر اردو زبان میں اپنے خیالات کو ظاہر کرنے کے لئے کوئ لفظ یا الفاظ موجود نہیں ہوں تو بیشک دوسری زبانوں سے ہم مستفید ہو سکتے ہیں لیکن اردو زبان میں موجود اور رائج الفاظ کو نظر انداز کر کے زبردستی دوسری زبانوں سے متبادل الفاظ کا استعمال زبان کو سنوارتا نہیں بلکہ الجھا دیتاہے۔ یہ تنگ نظری نہیں بلکہ اپنی زبان کی حفاظت اور اس کو فروغ دینے کی بات ہے۔

  2. بھئ واہ بہت مزیدار تحریر ہے۔ سیدہ رابعہ کے بلاگ پابندی سے ان کے سوشل میڈیا والے صفحہ پر پڑھتی رہی ہوں اور ایک خوشگوار موڈ کے ساتھ اپنا دن گزارتی ہوں۔ شاعروں کی کال نہیں ۔۔۔ایک ڈھونڈیں ہزار مل جاتے ہیں۔ آج کے دور میں اچھی نثر لکھنے والوں کی بے حد کمی ہے۔ سیدہ رابعہ کی تحریریں آج کے بے حد مصروف اور تجارتی دور میں بہار کی خوبصورت صبح کے خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند ہیں۔ تحریر میں مزاح اور ہلکے پھلکے طنز سے بلا تامل چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے جو آج کے دور کی عنایت کردہ بلاوجہ مصروف اور تھکا دینے والی زندگی میں کہیں گم ہو گئ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے