سماج سیاست نقطۂ نظر

چابی کا کھلونا

آج شیخ رشید کے ایک بیان نے ہمیں اپنی تحریر کا عنوان دیا۔ موصوف نے فر مایا کہ بلاول چابی کا کھلونا ہے۔ شیخ رشید کی یہ بات ہمارے دل کو چھو گئی۔ چلیں انھیں بھی کوئی دوسری بات سوجھی ورنہ موصوف کی شکل پر تو صرف عمران خان  ہی بجا کر تے ہیں۔

مرزا کا کہنا ہے کہ بلاول ابھی چابی کا کھلونا نہیں کیوں کہ وہ شادی شدہ نہیں۔خود شیخ رشید کو چابی کا کھلونا کہنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہی  کہ وہ تصدیق شدہ غیر شادی شدہ ہیں۔

ہم نے کئی چابی کے کھلونے دیکھے ہیں بلکہ چلائے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک چابی کا کھلونا ہر گھر میں ہوتا ہے۔ اپنی بیویوں کو دیکھ لیں۔ ان کے ہاتھ میں ہر وقت ایک چابی کا کھلونا ہوتا ہے۔جب دل چاہا چابی بھری۔کھیل دیکھتی رہیں پھر ایک کونے میں ڈال دیا۔

    بچوں کی تو بات ہی کیا ہے۔ بالکل چابی کے گڈے۔ مہمان آئے۔ ساتھ میں چابی کا گڈا بھی ہے۔ چلو بیٹا انکل کو ٹوئنکل ٹوئنکل سنا دو۔ پھر تو جناب جو چابی بھری گئی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یہاں تک کہ مہمانوں کو کہنا  پڑتا ہے۔

 ؎            پھر ملیں گے فرصت میں کبھی

ہر شاگرد اپنے استاد کے ہاتھوں چابی کا کھلونا ہے۔ لیکن آج کل ہم نے استادوں کا بھی یہی حشر ہوتے دیکھا ہے۔ اس لیے کبھی شاگرد کے چابی بھری گئی اور کبھی استاد کو چابی کا کھلونا بنا دیا گیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے مولا نا فضل الحق اور شیخ رشید بلاول کو اپنی شاگردی میں لینے کے لیے بے قرار اور مضطرب ہیں۔اپنی باری مقرر کرلیں ۔ باری مقرر کرنے کے لیے تو اور بھی مشہور نام ہیں۔

اب بات چل نکلی  تو مرزا بھی بھڑک اٹھے۔ کہنے لگے ہمارے بچپن میں پلاسٹک کے بنے کھلونے ہوتے تھے جن کی چابی بہت جلدی نہ صرف ختم ہو جاتی تھی بلکہ ٹوٹ بھی جاتی تھی اکثر تو یوں ہوتا تھا کہ صاحب زادے نے چابی بھری اور بھول گئے۔اب بے چارا کھلونا چلا جا رہا ہے، چلا جارہا ہے۔۔۔  یہاں تک کہ یا تو چابی کھلونے کے اندر ٹوٹ گئی یا پھر پھنس گئی۔ بالکل یہی اصول آج کے کارکن پر صادق آتا ہے۔کارکن کیا ہیں؟ اپنے لیڈر اور نام نہاد رہنماؤں کے ہاتھوں چابی کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ جب تک دل چاہا چابی بھر کر تماشا دیکھتے رہے۔ دل بھر گیا۔ چابی ٹوٹ گئی اور بے چارا کارکن اپنی ٹوٹی ٹانگ اور ٹوٹے ہاتھ کے ساتھ ایک کونے میں پڑا انتظار کر رہا ہے۔

نواز شریف نے سینٹ کے انتخابات میں اپنےمخالفین  کو چابی کا کھلونا قرار دیا مگر وہ خود بھول گئے کہ وہ بھی کبھی "کسی” کا چابی کا کھلونا تھے۔ کہاں گئے وہ لوگ جو صرف اپنی آئیڈیالوجی کے بل بوتے پر عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ میاں ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے  اور آج یہ دور بھی دیکھ رہے ہیں۔

ہم چپ رہے ۔ مسکراہٹ تک لبوں پر نہ آسکی۔

کہنے لگے۔ تمھیں سانپ کیوں سونگھ گیا۔ کچھ سر سے کھیلو۔ کچھ منھ سے پھوٹو۔ بڑی بری عادت ہے تمھاری۔

مرزا نے سا نپ کی بات نکالی تو ہم بول پڑے،

بات نکلی تو پھر دور تلک جائے گی۔ بھئ مرزا! یہ آج کل ہمارے دانشوروں کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔

ادب پر جمود کیوں طاری ہے؟ گفتار پر کیوں پابندی ہے؟

چلو!تم کچھ تو بولے۔ ہم نے تو سانپ پر ایک محاورہ کیا بولا تمھاری تو بولتی کھل گئی۔ میاں! دانشوروں کو سانپ  سونگھ نہیں گیا۔ اب لکھنے کو باقی کیا رہ گیا۔جو اچھا لکھنے والے تھے۔وہ لکھ گئے۔ہم جو لکھنا چاہتے تھے وہ لکھ گئے۔قسم سے میں جب بھی سابق مرزا کا کلام پڑھتا ہوں تو یہی کہتا ہوں

؎            میں نے یہ جا نا کہ یہ بھی میرے دل میں ہے۔

موصوف نے ہمارے خیالات کو ایک صدی پہلے فرما دیا تو اب ہم گھاس ہی  کاٹیں گے۔ اور آپ فرما تے ہیں کہ دانشوروں  کو سانپ کیوں سونگھ گیا۔ اب دانشور کہاں رہ گئے؟ وہ جو دو چار رہ گئے اپنا آپ چھپائے پھرتے ہیں کہ دھر نہ لیے جائیں۔

ہم نے مرزا کی کبھی مخالفت کی ہے جو اب کرتے۔خاموشی سے اپنا سر جھکایا اور منھ کو مضبوطی سے بھینچے  وہاں سےکھسک لیے۔

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے