کتب خانہ

محبت کی کتاب – آخری قسط

سر کے پچھلے حصّے پر ہر اک نے ہاتھوں کو       کچھ ایسے باندھ رکھا تھا  کہ اُن کی کُہنیاں آنکھوں کا پردہ بن گئی تھیں سنبل اپنی کہنیوں کے درمیاں، نیچے زمیں پرگرنے والے  پھول کی مسلی ہوئی کلیوں پہ نظریں گاڑ کر گھٹنوں کے بَل بیٹھی ہوئی تھی، پھول ابھی ٹوٹا نہ تھا، […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – چھیالیسویں قسط

اچانک ایک بھگدڑ سی مچی گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں بہت سی عورتوں، مردوں کی اور بچوں کی چیخیں جیسے ان دونوں کے دل سے ہوکے دیواروں سے چپکی جارہی تھیں شجرزادی کے دل میں سب سے پہلا یہ خیال آیا کہیں ایسا نہ ہو فخر الزماں اور اس کے ساتھی میرا پیچھا کرتے کرتے ہاسپٹل […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – پینتالیسویں قسط

سنبل:سنو! ہم نے جو اپنے اپنے دل اور اپنے اپنے ماضی کو اک دوسرے  کے سامنے کھولا ہے، اُس میں تو نیا کچھ بھی نہیں فقط کردار اور حالات کا کچھ فرق ہے اور بس… ظفر: محبت کی کہانی ایک سی ہوتی ہے جانِ جاں! سنبل:   تم ٹھیک کہتے ہو  میں جب اک آزمائش کے […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – چوالیسویں قسط

ویلن ٹائن ڈے2010 یہ ویلن ٹائن ڈے کی صبح ہے سنبل جو اپنے آپ سے بھی چھپ کے گھر سے بھاگ آئی تھی reception پرکھڑی تھی ہاسپٹل تک آتے آتے پچھلے سارے سال کی اَن ہونیوں اور ہونیوں کے درمیاں وہ ایک دُہرے راستے پر چل رہی تھی حال اورماضی کے دونوں راستے آپس میں […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – تینتالیسویں قسط

bell کی آواز بھی جیسے پاتال سے آرہی تھی مگر فون تکیے کے نیچے تھا نمبر کو دیکھا تو وہ سنبل افراز تھی اس نے جھٹ سے ہیلو کہہ کے پاتال سے اپنی آواز کھینچی اُدھر سسکیاں سنبل افراز کے حلق میں پھنس رہی تھیں [وہ کہہ رہی تھی]  سنبل: شہرزاد!! میں تمھیں مرنے نہیں […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – بیالیسویں قسط

وہی بے نام و بے مایہ ظفر اک ہاسپٹل میں اپنے حصے کی محبت Vantilator پر لگا کر روز و شب کے درمیاں لٹکی اُمید و بیم کی رسّی کو تھامے منتظر ہے جیسے کوئی آکے اس کے ہاتھ پاؤں کھول کر آزاد کردے گا ابھی کچھ دیر پہلے نرس نے اس کا چیک اَپ […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – چالیسویں قسط

اماں جانی اور سنبل ایک لمبی اور ذاتی تجربوں کے  درد میں گوندھی ہوئی جب ڈھیر ساری دل کی باتیں کررہی تھیں  تو اُدھر بک شیلف میں ملٹن سے ایزرا پاؤنڈ تک اور میر و غالب سے ندیم و فیض اور پروین شاکر تک سبھی چپ سادھ کر دونوں کو تکتے جارہے تھے اماں جانی […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – انتالیسویں قسط

اماں جانی مضمحل سی اُس کے پاس آئیں لرزتا ہاتھ اس کے شانے پر رکھا تو سنبل سانس روکے چپ رہی ماں نے ایزل پرکھڑے کینوس کو دیکھا مختلف رنگوں میں ڈوبے برش اور اُس کے ہاتھوں پر چہرے پر، اُس کی شرٹ کے دامن، دوپٹے اور بالوں پر کئی رنگوں کے دھبے دیکھ کر […]

کتب خانہ

محبت کی کتاب – اڑتیسویں قسط

سنبل بغاوت نہیں کرسکی تھی مگر اب جو پچھلے مہینوں سے وہ کر رہی تھی        وہ اس سے زیادہ خطرناک تھا اس نے بھی اپنے دل کے کسی گوشے میں       اک لحد کھود لی تھی مگر اس کے اندر یہ ہمت نہیں تھی کہ دل کی رگوں میں سسکتی ہوئی، اپنے محبوب کا […]