سماج طنز و مزاح نقطۂ نظر

کیمرہ دیکھ رہا ہے!

کبھی بچپن میں سکھایا جاتا تھا کہ ہمیشہ سچ بولو، بڑوں کا احترام کرو،  چھوٹوں سے پیار سے بات کرو، سب سے مسکرا کر بات کرو،  پانی بیٹھ کر پیو، کھانا تمیز سے کھاؤ، صرف اپنی پلیٹ میں اتنا نکالو جتنی کہ ضرورت ہو،  ادھر اُدھر کچرا مت پھینکو،  راستہ چلتے شائستگی اور تہذیب کا مظاہرہ کرو، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ کیونکہ خدا دیکھ رہا ہے۔

گلی میں کچرا پھینکنے سے لے کر اپنے دماغ کا کچرا کسی دوسرے پر بصورت مغلظات انڈیلنے تک،  کسی  محبوب سے ٹانکا جوڑنے سے  لے کر بجلی کے تار پر کنڈا پھینکنے تک،  کمرہ امتحان میں نقل کرنے سے لے کر فیشن اور اسٹائل کاپی کرنے تک، منھ بنانے سے لے کر الّو بنانے تک، رشوت لینے،  دھوکا دینے،  پاکٹ سے پرس اڑانے، دکان سے اشیا اچکنے،  گلی میں پان، گٹکا تھوکنے،  پیشاب کرنے، اور  انسانوں ، جانوروں کو "بیڈ ٹچ” کرنے ، دودھ میں پانی ملانے، دلوں میں زہر گھولنے،  کتے ، گدھے، گھوڑے کا گوشت کھلانے سے لے کر گٹر کے پانی سے سبزیاں دھونے تک آج کوئی نہیں سوچتا کہ خدا دیکھ رہا ہے۔

کیونکہ خدا دیکھ بھی رہا ہے تو بظاہر کسی کو جا کر نہیں  بتا رہا، اس دیکھے کو کہیں کسی اور کو نہیں دکھا رہا اور اس دیکھے کا کوئی ثبوت فی الحال  تو کسی کے آگے پیش بھی نہیں کر رہا، باقی رہ گئی آخرت کی بات تو یہ جو عشقِ رسول کے ہم نعرے لگاتے ہیں، آقا کے لیے جان قربان کرنے کے دعوے کرتے ہیں، اور کنڈے کی بجلی سے جو محرم ربیع الاول پر چراغاں کرتے اور مزاروں پر دیگیں چڑھاتے ہیں تو وہ پیر صاحب آجائیں گے نا بچانے۔۔۔!!

لیکن کیا کیا جائے کہ یہ نگوڑ ماری سائنس جو "فطری آزادی”   کی ہر راہ میں روڑے اٹکانے چلی آتی ہے۔  اب آپ کہیں دفتر وغیرہ میں  بیٹھ کر اپنی ناک سے چوہے نکال رہے ہوں یا گلی میں کسی نوجوان وجود سے آنکھیں سینک رہے ہوں، شادی بیاہ میں پلیٹ لبالب بھر کر  بھی اس میں مزید بوٹیاں بھرنے کی کوشش فرما رہے ہوں،  یا کسی  سے حادثاتی مڈبھیڑ پر اپنی اور سامنے والے کی ماں بہن ایک کر رہے ہوں، کوئی دیکھے نہ دیکھے، کیمرہ تو دیکھ رہا ہے۔

آج کے زمانے میں احتساب گم ہوگیا، احساس مرگیا۔ رگوں میں دوڑنے پھرنے کا وعدہ ہو یا اظہارِ محبت و آنکھوں سے ٹپکتی چاہت یا خوفِ خدا: ان سب کو خاطر میں لائے بغیر اب اگر زندہ ہے تو بس کیمرے کا خوف۔ اچھا لباس، چال ڈھال، ایمان داری و خوش اخلاقی، اخلاص و محبت کے سب مظاہرے  ہی نہیں  بلکہ ٹی وی پر بیٹھے سب اینکروں کے چبھتے سوالات اور  سیاست دانوں کی آپسی دشمنیاں بھی ملک و ملت کا کارڈ کھیلتے ہوئے صرف کیمرے کے سامنے ہی ہوا کرتی ہیں۔

  گذشتہ دنوں  ایک حادثہ دیکھنے میں آیا،  زور کا دھماکا چیخیں اور آس پاس کا سب منظر دہل گیا، لوگ تیزی سے جائے وقوعہ کی جانب لپکے اور زخمیوں کو اٹھانے کی بجائے جھٹ پٹ موبائل نکال، کیمرہ کھول کر  دھڑادھڑ تصویریں کھینچنے اور ویڈیو بنانے میں جت گئے۔

ڈیٹ مارنے نکلیں تو  کیمرے کا خوف، اب آنکھوں دیکھا جھٹلا دیں، کیمرے کا کھینچا کیسے رد کریں۔

کمر درد کا بہانہ بنا کر علاج کی غرض سے بیرونِ ملک جانے والے ایک "رہنما” کی محوِ رقص تصاویر ہوں یا کھیل کے میدان کا کھلاڑی دبئی کے نائٹ کلب میں کارہائےنمایاں انجام دے رہا ہو،  کیمرہ ہر جگہ موجود ہے۔

بلکہ کیمرے کا تو ایک اور استعمال بھی راقم کے علم میں لایا گیا۔  بقول شخصے ہوتا یوں ہے کہ کسی بھی فوڈ آؤٹ لیٹ پر پہلے سادہ لباس میں ایک بندہ بھیجا جاتا ہے جو بھاؤ تاؤ طے کرتا ہے اور مخصوص رقم سے انکار پر ٹیم کیمرہ لے کر پہنچ جاتی ہے۔۔۔  اور پھر بنا لیبارٹری تصدیق کیے جائے واقعہ پر ہی  مائیک ہاتھ میں پکڑے کیمرے کے روبرو  کھڑی خوشنما خاتون یا سنگین صورت مرد اعلان فرما دیتے ہیں کہ فریزر میں موجود گوشت کتے یا گدھے کا ہے۔ آگے اللہ جانے!

کسی کی عزت اچھالنا ہو،  یا جھوٹی شان بنانا ہو ہر دو صورتوں میں کیمرہ ہی مددگار ہے۔  ہم تو یہ کہیں گے کہ ملک کے ہر گلی کوچے میں، گھروں ، دفاتر کے اندر یا باہر ہر طرف کیمرے ہوں تاکہ اسی بہانے  کچھ ایمان داری ہماری صفوں میں چلی آئے۔   اگر خوفِ خدا کی مولوی کی ڈوز اب کارگر نہ بھی رہی ہو تو کیمرے کا خوف ہی ہمیں اچھا انسان بنا دے، اے کاش!

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے