لائف اسٹائل

بریسٹ کی گلٹی سے میں نے کیا سیکھا؟

بیشتر اوقات اخبارات، ویب سائٹس یا سڑکوں سے گزرتے ہوئے کئی بار بریسٹ اوئیرنس کے سائن بورڈز پر نظر پڑی۔ لیکن جیسا ہمارے معاشرے میں عام ہے اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ پڑھی لکھی،  باشعور اور یہ علم ہونے کے باوجود کہ بریسٹ کینسر آج کل خواتین میں کتنا عام ہو رہا ہے نہ تو کبھی کوئی آرٹیکل پڑھنے کی کوشش کی نہ ہی کسی اور ذریعے سے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کی سعی کی۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ دن پہلے جب چھاتی میں ایک گلٹی محسوس ہوئی تو ہوش اڑ گئے۔

کس کے پاس جاؤں، کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آیا ۔ اسی لیے ایک مشہور اسپتال کی گائنی ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لے کر چیک اپ کرایا تو فوری طور پر الٹراساؤنڈ کا مشورہ دیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ بریسٹ اسپیشلسٹ کو ہی دکھایا جائے۔ الٹرا ساؤنڈ میں خدشات درست ثابت ہوئے۔ ایک بڑے سائز کی گلٹی موجود تھی۔ ایک ہی لمحے میں دنیا تاریک ہوتی دکھائی دی۔ موت تو برحق ہے لیکن کوئی بھی انسان موذی مرض میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا۔ بالغ ہوتے ہوئے جہاں لڑکیاں ماہواری کو ایک بیماری سمجھ رہی ہوتی ہیں وہیں وہ اپنے جسم میں ہونے والی خاص تبدیلی پر بھی سخت نالاں ہوتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس جسمانی تبدیلی کو اس دنیا کا ہر انسان محسوس کر رہا ہے اور سب اسی لڑکی کو دیکھ رہے ہیں۔ زیادہ تر لڑکیاں اس جسمانی تبدیلی سے چڑنے لگتی ہیں لیکن وقت گزرنے اور باشعور ہونے کے ساتھ ساتھ انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جسمانی تبدیلی ان کے جسم کا ایک اہم عضو ہے اور پھر یہی عضو ان کی نسوانیت کی پہچان بن جاتا ہے جس کو کھونے کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتیں کیوں کہ اب اس کے بغیر وہ اپنے آپ کو نامکمل محسوس کرتی ہیں۔

 ایک جاننے والی خاتون کی کچھ ہی دنوں پہلے سرجری ہوئی تھی ان سے رابطہ کیا۔ وہاں سے بہت تسلی بخش جواب ملا اور انھوں نے ہی فریحہ عثمانی سے اپائنمنٹ لیا۔ فریحہ عثمانی کتنی قابل ہیں یہ تو میں نہیں کہ سکتی لیکن گذشتہ چند دن میں جس ذہنی اذیت کا شکار رہی اس سے وہ مجھ کافی حد تک نکال پائیں۔  کچھ مزید کلینیکل ٹیسٹس کے بعد مجھے فوری طور پر سرجری تجویز کی گئی۔  ایک گھنٹے کی سرجری اور مزید ایک گھنٹہ ہوش میں آنے میں لگا۔ دو گھنٹے بعد میں ہاسپٹل سے خود اپنے پیروں پر چل کر گاڑی میں بیٹھ کر گھر روانہ ہو گئی۔ گلٹی محسوس ہونے سے لے کر سرجری تک میں ایک ہفتہ لگا لیکن اس ایک ہفتے میں جہاں میں نے بریسٹ اوئیرنس کے بارے میں بہت کچھ سیکھا وہیں میرے کچھ ذاتی مشاہدات بھی ہیں۔

  • ۳۰ سال کی عمر کے بعد ہر کسی کو اپنا معائنہ خود کرنا چاہیے۔  ماہواری کے بعد چھاتی میں  کسی بھی قسم کی تبدیلی محسوس ہو تو فوراً کسی معالج سے رجوع کریں۔
  • ۴۰ سال کی عمر کے بعد باقاعدگی سے میموگرافی کرائیں۔
  • بریسٹ کینسر اور اورین کینسر کے بارے میں بنیادی معلومات ضرور رکھیں۔ آپ کو نہیں تو آپ کے کسی پیارے کو اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
  • گلٹی بے ضرر ہی کیوں نہ ہو سرجری کر کے نکلوا دینا بہتر ہے۔
  • ’’میری گلٹی کہیں کینسر تو نہیں۔۔۔ ‘‘ یا ’’اگر کینسر ہوا تو۔۔۔ ‘‘ یہ وہ خیالات ہیں جو بائیوپسی کا نتیجہ آنے تک وقفے وقفے سے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں ایسے میں انٹرنیٹ پر بریسٹ کینسر سے متعلق معلومات سے استفادہ کریں۔ مایہ ناز جوڈی بلوم (مصنفہ)، کیتھی بیٹس اور انجلینا جولی (اداکارہ) نے بڑے ہی حوصلے سے اس مرض کا سامنا کیا۔ اس کے علاوہ سونالی باندرے اور منیشا کوئرالہ کی ٹوئٹر پوسٹس، انٹرویوز اور پوڈکاسٹس اس سلسلے میں مریض کو کافی تسلی دیتے ہیں اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اگر یہ کرسکتی ہیں تو میں بھی کرسکتی ہوں۔
  • سرجری سے پہلے آخری کھانا بہت ڈٹ کر کھائیں۔ اس میں تازہ پھلوں کا جوس  ضرور لیں۔ سرجری کے بعد بھی کچھ گھنٹوں تک کھانا پینا بند ہوتا ہے اور anesthesia کے اثر کی وجہ سے کافی گھنٹوں تک ابکائیاں آتی رہتی ہیں۔ ایسے میں آپ کے جسم میں طاقت کا ہونا بہت ضروری ہے۔
  • یہ سرجری بغیر کسی تکلیف کے ہے۔ اس میں آپ بستر سے نہیں لگ جائیں گے۔ اس کے اثرات صرف کم زوری اور منھ کا ذائقہ خراب ہونا ہے۔  ٹانکوں میں تھوڑی بہت خارش اور تکلیف ہوسکتی ہے لیکن اس کے لیے مناسب ادویات دی جاتی ہیں۔
  • بظاہر یہ لگتا ہے کہ سرجری کے بعد آپ کچھ دن کپڑے استعمال نہیں کر پائیں گے۔ اس کے برعکس برئیزر لازمی پہنیں اس سے نہ صرف کسی قسم کی بیرونی چوٹ سے محفوظ رہیں گے بلکہ بریسٹ کو سپورٹ بھی ملے گی۔
  • گلٹی کی بائیوپسی لازمی کروائیں۔
  • ایمرجنسی فنڈ کے نام پر ہر مہینا کچھ رقم ضرور مختص کریں تا کہ کسی بھی بیماری کی صورت میں اس رقم کو کام میں لایا جاسکے۔  اپنے علاج کا خرچا اٹھانا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔
  • ہر کوئی صرف ایک ہنستے مسکراتے انسان سے ملنا جلنا پسند کرتا ہے۔ لوگ آپ کی خوشیوں میں شامل ہوتے ہیں پریشانی سے سب دور بھاگتے ہیں۔ اس حالت میں آپ جتنا اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ عموماً ایسی بیماری میں سگے بہن بھائی بھی دور ہوجاتے ہیں۔

اس مضمون میں بریسٹ کینسر سے متعلق کوئی معلومات اس لیے نہیں ہیں کیوں کہ میں کوئی ایکسپرٹ نہیں۔ یہ مضمون صرف اس لیے تحریر کیا گیا ہے کہ بریسٹ میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ احتیاط اور بروقت علاج بیماری کو بڑھنے سے پہلے روک سکتا ہے۔ پچھلا ایک ہفتہ میرے لیے ناقابلِ فراموش رہا ہے۔ کینسر نام ہی ایسا ہے کہ انسان دہل کر رہ جائے۔  اس گلٹی میں تکلیف سے زیادہ ذہنی اذیت تھی۔

اگر آپ کی بہن، کولیگ، دوست احباب میں سے کسی کو کینسر کا مرض ہے تو اس سے بات کیجیے، اس کی دل جوئی کیجیے۔ اسے آپ کے پیسے کی نہیں، تسلی اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ آپ کی محبت کے دو بول کسی کو امید دے سکتے ہیں۔

ثنا شاہد
ثنا شاہد، رنگوں، خوشبوؤں اور کتابوں کی دیوانی جو چھوٹی سی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے باوجود اردو زبان کا اچھا اور معیاری استعمال نہ صرف سیکھنے بلکہ سکھانے کے لیے بھی کوشاں رہتی ہیں۔ نجی اشاعتی ادارے سے بطور منیجر، پبلشنگ وابستہ ہیں۔

3 thoughts on “بریسٹ کی گلٹی سے میں نے کیا سیکھا؟”

  1. ایک مفید تحریر! یقینا سینے یا جسم کے دیگر حصوں میں نمودار ہوجانے والی ہر گلٹی کینسر نہیں ہوتی، یہ ہارمونز یا چربی کا شاخسانہ ہو سکتی ہے تاہم انھیں یکسر نظرانداز کا درست نہیں۔ مناسب علاج، بروقت تشخیص انتہائی ضروری ہے۔
    اتنی اچھی تحریر کے لیے شکریہ ثنا

اپنی رائے کا اظہار کیجیے