کتب خانہ

کتابیں اور ہم

زیر مطالعہ داستان جس کا بنیادی کردار ویسے تو ہماری اپنی ذات ہے لیکن اس اعتراف میں بھی کچھ باک نہیں کہ ہم آنے والی سطروں میں آپ کے سامنے محض اپنی شخصیت کے چند پہلو ہی عیاں نہیں کر رہے بلکہ اپنی پوری قوم کے نمائندے کی حیثیت سے قومی مزاج عریاں کرنے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ داستان آپ کو کچھ سنی، کچھ جانی بوجھی اور مانوس معلوم ہو ، بے شک آپ کا ایسا محسوس کرنا ہی اس مضمون کی سچائی کی دلیل ہوگا۔

یوں تو ہم خاصے نامعقول واقع ہوئے ہیں لیکن ایک خوبی بلاشبہ ہم میں ایسی ضرور ہے جو ہمیں اپنی قوم کی اکثریت سے مماثل کرتی ہے، اور وہ خوبی ہے کتابوں سے متعلق ہمارا رویہ۔ چند ایک کے سوا ہماری قوم کے سبھی بچے، بوڑھے اور جوان مطالعے سے بیزار نظر آتے ہیں۔ اکثریت کو تو کتابوں کے دیدار سے ہی نیند آنے لگتی ہے اور طلبہ فشار خون کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سنا ہےکہ ایک ڈاکٹر صاحب تو باقاعدہ کم خوابی کے مریضوں کو نیند کی گولیوں کی بجائے خواب آور کتب کے نام تجویز کیا کرتے تھے جن کے مطالعے سے پانچ منٹ کے اندر اندر مریض کے خراٹے گونجنے لگتے تھے (تجویز کردہ بیشتر کتابیں اکثر مذہب، منطق و فلسفہ، کلاسیکی شاعری یا پندونصائح پر مشتمل ہوتی تھیں)۔

کتابوں سے ہمارا تعلق خاصا واجبی سا ہے اور “انتہائی ضرورت “کے سوا (جس کی وضاحت اگلی سطروں میں آنے کو ہے)ہم نے کتابوں کو چھونا تو درکنار انہیں اپنی نگاہوں کے میل سے بھی پاک رکھاہے، لہذا نصابی کتب کی اکثریت ان چھوئی اور اپنی علمی معلومات لیے بک شیلف کی زینت بڑھاتی رہیں۔ ہاں “رنگین و باتصویر ” کتابوں کی بات کچھ اور ہے، حسن برتنے کی چیز بھی ہے سوان کے ہر صفحے سے آنکھوں نے وہ لذت کشید کی ہے کہ نہ پوچھیے۔ گو کہ انٹرنیٹ کی آمد نے ان رنگین کتابوں کو الماری کے نچلے خانے تک محدود کر دیا ہےلیکن لوڈشیڈنگ کے زمانے میں تمام نوجوانانِ امت کی طرح ہم بھی ان کتابوں سے شوق فرما لیتے ہیں اور نگاہیں جما کر ان کی گرد صاف کیا کرتے ہیں۔ عجب تماشہ ہے کہ کتابوں میں عدم دلچسپی کی وکالت کرتے ہم ان کی عقیدت تک جاپہنچے۔

تحلیل نفسی کے ماہرین اگر کوشش کریں تو مطالعہ سے اجتماعی بے رغبتی کا سراغ بھی نشوونما کے ابتدائی برسوں میں لگا سکتے ہیں۔ شاید جب پہلی مرتبہ ہمارے ہاتھ سے کھلونے چھین کر زبردستی” الف ، ب ، ت” والانورانی قاعدہ تھمایا گیااور علم کا بوجھ ہم پہ زبردستی لادا گیایقیناًتبھی کتابوں سے ہماری ازلی رقابت کا آغاز ہو ا۔ سمجھ آنے نہ آنے کی کسی شرط کے بغیر چند نامانوس  اشکال کو رٹنے اور نہ رٹنے کی صورت میں مولا بخش کے ہاتھوں تواضع نے اس مخالفت کی آبیاری کی۔ سوال پوچھنے اور سوچنے کی ممانعت ، زباں بندی پر مجبور کرنے والے خشمگیں تاثرات، ساتھیوں کے سامنے “نِکو” بن جانے کا دامن گیر خوف اور گھر والوں کا حوصلہ شکن ناقابل تقلید رویہ کتابوں سے عداوت بڑھاتے رہے ہیں۔ ویسے تو سبھی اہل خانہ کو ذاتی کام بھی لاحق تھے لیکن ہمارے لیے سب کا مشترک مقصد یہی تھا کہ جہاں کہیں ہم پائے جائیں، کتاب ہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہو۔ اباجان گھنٹوں ٹیلیویژن دیکھیں، اماں پڑوسنوں سے گپیں لڑائیں یا گھر کے کاموں میں الجھی رہیں، دادی اماں فون پر پھوپھیوں سے گھنٹوں ان کے سسرالیوں اور اپنی بہوؤں کے دکھڑے روئیں، لیکن ہمارے معاملے میں سب یک ذہن و یک زبان تھے کہ بس زندگی کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہےکتابیں اٹھائے پھرنا۔ بس جی کیا کہیے ! شاید اسی زبردستی نے ہمیں فرار پہ ابھارا اور ہم جو کتابوں سے منھ موڑ کر بھاگے تو اب تک خط مستقیم میں ہی سفر ہے، کبھی مڑ کر دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔

مارے باندھے اسکول کی کتابوں سے جان چھڑائی لیکن “مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی” کہ مصداق یہ کتابیں جان کو آتی گئیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارے متعلقین کی توقعات بھی بڑھتی چلی گئیں، یعنی ہم نہ ہوئے ریس میں دوڑنے والا گھوڑا ہوگیا جس پہ شرط کی تگڑی رقم بد کر اب بس اس کے ریس جیتنے اور اول آنے پر ہی سب کی خوشیوں کا انحصار تھا۔ دوستوں کے چناؤ تک میں ہماری خوشی سے زیادہ تعلیمی میدان میں ان کی اہلیت کا دخل تھا۔ دوسروں کی قابلیت کے حوالے اور طعنے بھی دیے جاتے (حالانکہ ان کی اصلیت بھی ہم پہ خوب عیاں تھی) ۔ خیر ہم بھی چکنے گھڑے ہیں، ذرا کان نہ دھرا اور اپنے دل پسند مشاغل پہ کاربند رہے۔ عین امتحان کے دنوں میں کتابیں اٹھائی جاتیں، گیس پیپرز کی بنیاد پر حسب ضرورت کارتوس بنائے جاتے، صفحات کی مائیکرو کاپی بنوائی جاتی (کیونکہ اپنی لکھائی ہرگز قابل بھروسہ نہ تھی)اور پھر نگرانی پر مامور صاحب کو ” چائے سموسہ” اور”مٹھائی” پیش کر کے ہر امتحان پاس کرجاتے ۔زمانہ طالب علمی میں نہ ہمیں پڑھنے میں دلچسپی رہی نا اساتذہ کو ہمیں پڑھانے میں، یوں افہام و تفہیم سے یہ پہاڑ سر ہو گیا اور ہم “ڈگری یافتہ جاہل”بن گئے۔

کتابوں کے بارے میں ویسے بھی پوری قوم کا (سوائے ہمارے والدین کے) ایک جیسا ہی مزاج ہے۔ ہم سب آج کی خوشیاں کشید کرنا چاہتے ہیں، پانی کے بلبلے جیسی زندگی ہے ، کل کی فکر کون کرے ۔ کتابوں کی خیالی جنت میں کھونے سے تو کہیں بہتر ہے کہ آدم و حوا اپنی جنت خود بنا لیں خصوصاً اب جب کہ جنت کی آبادی کی روک تھام کے تمام ٹوٹکے زباں زد عام ہیں تو کیوں کل کی فکر میں زاہدِ خشک کی مانند بس کتابیں پڑھتے عمر گنوائی جائے اور پھر اچانک فرشتہ اجل آئے اور اچک لے جائے۔ اس لیے بہتر ہے کہ کھاؤ ، پیو اور موج اڑاؤ ۔ بعض ناسمجھوں کا خیال ہے کہ دنیا نے ترقی کتابوں کی بنا پر کی لیکن خاک ایسی ترقی پہ جس میں لذات دنیاوی ترک کر کے محض اس امید پر کتابیں پڑھی جائیں کہ آنے والی نسل اس محنت کا پھل کھائے گی ، جو پھل اگلی نسل نے کھانا ہے وہ آج ہم خود ہی کیوں نہ کھالیں۔

دنیا میں اتنا حسن بکھرا ہے، خوش رنگ پھول ، خوشنما مقامات، عیش و طرب کی محافل، نگارخانے، اور چلتی پھرتی مجسم
تصاویر؛ یہ سب اس لیے تو نہیں کہ بس ان پر سرسری نظر ڈالنے کے بعد کتابوں میں غرق ہو جایا جائے۔ خوبصورت باغات اور
گھنے درخت اس لیے تو نہیں کہ ان کی اوٹ میں بیٹھ کر” کاغذی کتابیں” پڑھی جائیں یہ ظلم تو ہم سے نہیں ہو سکے گا۔ مانا کتابوں میں علم کے موتی ہیں، لیکن اس بحرِعلم میں غوطہ زن ہونا بھی تو آسان نہیں جہاں ڈوب کے پار لگنا ہی کامیابی کی ضمانت ہو؟ ہماری کامیابی کے لیے آباو اجداد کی تلواروں اور گھوڑوں کے قصے ہی بہت ہیں ۔ آج اقوامِ عالم میں “ممتاز” اور “نمایاں” ہونے کی اہم وجہ ہمارا کتابوں سے یہی تعلق ہے اور خداسدا سلامت رکھے اس تعلق کو۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے