زبان و ادب شخصیات

ایوب خاور: لفظوں کے صورت گر

لفظ: اظہارِ ذات اور رازدارِ حقیقت۔علم و فہم کی تشریح لفظ سے ہی ممکن قرار پاتی ہے، تاہم کیا یہ بات اپنی جگہ سو فیصد درست ہے؟ جدید تحقیق کے مطابق لکھی ہوئی سادہ تحریر سے زیادہ کسی خیال کو متحرک تصویری شکل میں پیش کیا جانا خیال اور علم کو بہتر طور پر پیش کرنے اور اسے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے  زیادہ مؤثر ثابت ہوا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ لفظ ہمیشہ ہی خیال کی سچی تصویر پیش نہیں کرسکتے۔ الفاظ سے زیادہ ان کی ادائیگی اور ان کا پس منظر ،جس میں وہ لفظ کہے گئے ہوں ، زیادہ اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ ایک کرخت لفظ (آپ سےگالی سمجھ لیں) جب محبوب کے شیریں لبوں سے ناز کے اظہار کے ساتھ برآمد ہوتا ہے تو مخاطب کے نہ صرف دل کے تار بج اٹھتے ہیں بلکہ اس کا انگ انگ جھوم اٹھتا ہے اور جب وہی لفظ کسی اور ، کسی عام انسان کے لبوں سے برآمد ہو تو لوگ مرنے مارنے پر بھی تُل جاتے ہیں۔ ایک ہی جملے کو مختلف انداز سے بولنے پر اس کا ردعمل بھی مختلف ہوتا ہے۔ یعنی کاغذ پر لکھی گئی تحریر میں چونکہ جذبات کا اظہار ممکن نہیں ہوپاتا اسی لیے ایک سوچ سے لکھے گئے کی نثر پارے کی تشریح و توضیح و تنقید  شارحین و نقاد اپنے اپنے انداز میں کرتے ہیں۔

غرضِ تحریر یہ کہ لفظ کی اثر پذیری اس وقت کہیں بڑھ جاتی ہے جب مخصوص ماحول میں اسے ادا کیا جائے اور آج ہم نوشتہ کے صفحات پر آپ کو جس ہستی سے ملوانے جارہے ہیں وہ لفظوں کے لیے ایسے ہی مخصوص ماحول کے خالق اور لفظوں کے صورت گر ہیں جن کے شاہکار وں سے استفادہ کر کے بہت سے لوگوں نے اپنے ذہن میں حالات و واقعات کے خاکے بننا سیکھے ہیں۔ جی ہاں! مشہور و معروف ڈراما نگار  ایوب خاور صاحب پاکستان ٹیلی ویژن کے وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی  کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ بلکہ یہی نہیں ان کا  ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر کے  دل و دماغ ٹی وی اسکرین میں گم ہوجاتے ہیں۔

ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، فسوں گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ وہ اپنے ڈراموں میں ہمیں اعلیٰ پائے کے نفسیات دان بھی محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں کہانی واقعتاً سانس لیتی ہے: کبھی مسکراتی ہے تو کبھی بےچارگی کی تصویر بنی اذیت کے تمام جہانوں کی سیر کروا آتی ہے۔  خاور صاحب سے میرا پہلا  باقاعدہ تعارف ایک شاعر کا تھا۔ اس سے پہلے بطور ڈراما نگار  سرسری سے کچھ ہی زائد آشنائی ہوگی۔ بچپن اور لڑکپن میں  امی ابو اور گھر کے دیگر بڑوں کو ان کے ڈرامے دیکھتے اور ان پر تبصرہ کرتے پایا تھا۔ پھر تعلیمی و عملی زندگی ٹی وی اور ڈرامے سے دور لے گئی ، ہاں کتابوں سے تعلق برقرار رہا۔ پھر یہ محبت کا ہی ثمرہ تھا کہ ” محبت کی کتاب” سے ملاقات ہوئی۔ 

محبت کی کتاب نے دل اور زندگی دونوں پر محبت کے کئی معنی و مفاہیم شکار کیے۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ کتاب ایوب خاور صاحب سے میرا باقاعدہ تعارف ثابت ہوئی۔ محبت کی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہی میرا قلم اس کتاب کی جملہ خوبیوں اور انفرادی حسن پر بات کرنے کو مچلنے لگا ہے لیکن چونکہ ابھی ذکر اس شاہکار کے خالق کا ہے تو خیال کے اسپ سوار کو  لگامیں کس کر رکھنا ہوں گی۔ اس لیے بھی کہ محبت کی کتاب  سے آپ بھی متعارف ہوں گے، ابھی کچھ دنوں تک آپ بھی اسے نوشتہ کے صفحات پر پڑھ سکیں گے، تب تک بس شوق کو انتہائے شوق تک پہنچاتے رہیں۔ گوکہ ایوب خاور پاکستانی ڈرامے کی ایک انتہائی قد آور شخصیت ہیں لیکن میں ذاتی طور پر ٹی وی  جیسے میڈیا سے تعلق رکھنے والے اور  ڈراموں کی تدوین و تخلیق سے وابستہ تمام ہی لوگوں کے بارے میں  ایک قسم کا منفی تاثر ہی رکھتی تھی۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس نگری کے لوگ ادبی، شائستہ اور خلیق بھی ہوسکتے ہیں۔  کچھ ٹی وی  ،  فلمز  اور کہانیوں میں ڈراما/فلم رائٹرز کو نکما، پروڈیوسرز/ڈائریکٹرز کو اوباش، عیاش، اکھڑ اور تنگ دل نیز اداکاروں کو دل پھینک دکھایا جاتا رہا ہے؛ لہٰذا ایسا ہی کچھ تاثر تھا۔ لہٰذا محبت کی کتاب جیسی نرم جذبوں اور مہکتے، گدگداتے کومل و گہرے لفظوں کے خالق کے طور پر ایوب خاور کا نام سن کر چونک گئی۔ 

 پہلا تاثر یہی تھا  کہ ڈراما ڈائریکٹر ہیں تو کتاب بھی خاص نہ ہوگی۔ خیر! محبت کی کتاب کو محبت کی ہمراہی میں پڑھنا شروع کیا، پہلی سطر نے جو اپنی گرفت میں لیا تو  لفظ بہ لفظ جذبے کی جادوگری اور خیال کی سحرانگیزی میں گُم ہوتی چلی گئی۔  بلاشبہ فیض احمد فیض کے بعد جس کے لفظوں کے حسن  نے مجھے تسخیر کیا وہ ایوب خاور ہی تھے۔

ایوب خاور کی شاعری میں  ہر شے کلام کرتی ، دیکھتی، محسوس کرتی اور ردِعمل دیتی ہے۔ ان کے ہاں چاند، بادل، ہوا،  پھول، کلیاں، خوشبو، آئینہ، سنگھار میز، کپڑے، موبائل فون، ڈائری، قلم، کتابیں اور استعمال کی دیگر عام اشیا بھی زندہ محسوس ہوتی ہیں۔  ان کے ہاں احساس کا بیان اس قدر جزئیات کے ساتھ نظر آتا ہے کہ وہ خود پر گزری کوئی وارداتِ قلبی محسوس ہوتا ہے، جس دل نے کبھی محبت کی دستک نہ بھی سنی ہو وہ ایسے محبت آشنا ہوجاتا ہے جیسے صدیوں سے محبت ہی کے لمحات میں جی رہا ہو۔ ایوب خاور کی شاعری ان کے الفاظ ایسے ہی زندگی کا احساس دیتے ہیں جو دل میں  بہت سی محبت  لیے خوشی اور اداسی کے مقامِ اتصال پر کھڑی ہو۔

ذیل کی سطروں میں ایوب صاحب کی فنی و پیشہ ورانہ زندگی کا اجمالی خاکہ پیش کیا گیا ہے جو ان کی ادبی قامت کی  ایک جھلک ہی ہے، یقیناً اصل ایوب خاور، کمال فن کے اس سے کہیں بلند مقام پر فائزہیں۔

نام

محمد ایوب خان
تاریخِ پیدائش ، و مقام پیدائش 12 جون  1948ء ، ضلع چکوال
 تعلیم ایم اے، اردو ادب، 1974ء
اہل و عیال شادی شدہ،  1 بیٹا، 3 بیٹیاں
پیشہ ورانہ سفر

ریڈیو پاکستان سے  وابستگی (1970 تا 1975)

پروڈیوسر پی ٹی وی   1975ء تا 2005ء

جیو ٹی وی 2005ء تا 2013ء

دنیا ٹی وی (2013ء تاحال)

اعزازات

پی ٹی وی نیشنل ایوارڈ،

گریجویٹ ایوارڈ

بولان ایوارڈ

نگار ایوارڈ

لکس اسٹائل ایوارڈ

پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ (حکومت پاکستان)

ریڈیو کی بہترین آواز   کا ایوارڈ برائے  1970ء

ریڈیو کی بہترین آواز   کا ایوارڈ برائے  1970ء

کراس آف پیس 2016ء (ورلڈ یونین آف پوئٹس)

اسٹارز آف دی ورلڈ 2017ء (ورلڈ یونین آف پوئٹس)

آئیکون آف پیس ایوارڈ (ورلڈ انسٹیٹیوٹ آف پیس)

نائیجیریا اینڈ نامنز لٹریری آنر پرائز 2017ء (ناجی اینڈ نامنز فاؤنڈیشن فار گریٹس کلچر (ایف جی سی ) لبنان

بیسٹ پوئٹ آف 2017ء (انٹرنیشنل پوئٹری ٹرانسلیشن اینڈ ریسرچ سینٹر چانگ کنگ ، چائنا

ایڈیٹرز چوائس ایوارڈ فار  پیس، انتھالوجی برائے نظم ایک شامی بچے کی پکار

ورلڈ لاریئیٹ ان لٹریچر 2017ء ، (ورلڈ نیشنز رائٹرز یونین، قازقستان)

کتب

گل موسم خزاں (1992ء)

تمھیں جانے کی جلدی تھی (1998ء)

بہت کچھ کھو گیا ہے (2009ء)

محبت کی کتاب (2012ء)

سمفنی اور دیگر نظمیں (انگریزی ترجمہ 2016ء)

ٹی وی پروگرام

نیلام گھر  (کوئز شو)

جو جانے وہ جیتے (کوئز شو)

ادبی ماہ نامہ (بصری جریدہ)

دانش کدہ (اقبال کی نظموں پر مشتمل پروگرام)

جھنکار (موسیقی کا پروگرام)

ضیا محی الدین شو

میوزک 96ء (پرائیویٹ میوزک شو)

میلوڈی نائٹ

The Message    انگریزی سے اردو میں ڈھالنا

مذاق رات

ڈرامے

خواجہ اینڈ سن

خرمن

فشار

حصار

دن

دلدل

قاسمی کہانی (ڈراما سیریز)

کہانی گھر (ڈراما سیریز)

ریڈ کارڈ

پہلی سی محبت

غریب شہر

گرہ

کانچ کے پر

نشیب

کیٹ واک ( ایوارڈ یافتہ انفرادی ڈرامہ)

جلیانوالہ باغ ( ایوارڈ یافتہ انفرادی ڈرامہ)

پرمیشر سنگھ  ( ایوارڈ یافتہ انفرادی ڈرامہ)

بے وزن لوگ

خوب صورت

پاتال

بازگشت

انکار

بادشاہت کا خاتمہ

سن سیٹ بلیوارڈ

چور

ایہا الناس

یہ بھی کسی کی بیٹی ہے

گل زار کلاسکس (سیریز)

جوزف نہیں مانتا

پہلا چاند

جیو تو ایسے

مل کے بھی ہم نہ ملے (سوپ)

بچوں کے لیے پروگرامز

عالی پر کیا گزری (بچوں کے لیے  سیریل)

بچوں کی  عدالت ( بچوں کے لیے سیریل)

علی بابا چالیس چور

پنجابی ڈرامے کھوہ
بطور معاون پروڈیوسر

آگہی

آخری چٹان

دھند

ففٹی ففٹی کی  بہت سی اقساط

بطور ٹرینی پروڈیوسر

سفر ہے شرط (صادقین کا انٹرویو)

نئی روشنی (جدید اردو نظم کے محاسن پر پروگرام)

آخر میں، ایوب صاحب کی شاعری سے کچھ انتخاب آپ  کے ذوق کی نذر ہے۔


جب تلک تُجھ سے کوئی بات نہ ہو
مَیں تجھے دیکھ نہ لوں
شعر نہیں کہہ سکتا

مجھے تجھ سے محبت ہے
مرے دشمن
میں جینا چاہتا ہوں
تیرے ہونٹوں میں مگر یہ تازہ کلیوں کا مہکتا
شبنمی جادو کچھ ایسا ہے کہ جس نے مجھ کو اپنے لمس کی
گرہوں میں کس کر باندھ رکھا ہے
گُلِ رخ سار کا آتش صفت رنگِ تکلّم
اور نزاکت کی سنہری ڈوریوں میں جو تلاطلم خیزیاں ہیں، میرے سینے کی کسی محراب کے اندر دھڑکتے دِل کی سطحِ غم نما کی سمت لپکی آرہی ہیں، آتی جاتی سانس کی لہریں تک اس آتش نمائی میں سلگ کر ٹوٹی
جاتی ہیں
نظر کے زاویوں میں
کوئی گہری بات کرنے اور پھر اُس کو پرکھنے کے لیے ہاتھوں کی پوروں میں کوئی معلوم حدّت منتقل کرنے پھر اُس حدّت کی شدّت خاص کر دل کی رگوں میں جذب کردینے میں جو تجھ کو مہارت ہے قیامت ہے

مِرے دُشمن
میں تجھ سے اور ترے لشکر سے بچ کر کس طرف نکلوں!
کہیں پر تیری پلکیں خیمہ زن ہیں
اور کہیں زلفوں کے سائے ہیں
گُلِ رخ سار کی آتش صفت رعنائی
اپنے تیر و ترکش سے مزین ہے
کہیں ہونٹوں کی شمعیں ہیں
کہیں آنکھیں ہیں
بے حد خوب صورت اور گہری، اِک طلسمِ خاص
میں ڈوبی ہوئی آنکھیں
یہ آنکھیں ایک ریشم کی طرح
میری اَنا کی سخت جاں دیوار کو اندر سے باہر سے لپٹتی جارہی ہیں اور مجھے لگتا ہے ذرّہ ذرّہ کرکے یہ حصارِذات اب مسمار ہونے سے کسی صورت بچایا
جانہیں سکتا


زندگی!ہم تری دہلیز پہ آبیٹھے ہیں
ہاتھ میں کاسۂ تدبیر ہے
آنکھوں میں کسی موسمِ گل رنگ کی خواہش ہے
لبوں پر ترے بے مہرزمانوں کے لیے شکوے ہیں ،
زندگی ہم تریدہلیز پہ آبیٹھے ہیں
اک ذرا دیکھ
کہ ہم نرم مزاجوں کے لیے
کون سی رات ہے جس رات کے آنچل میں ہوا
خواب کو آئینہ خواب میں سر کرتی ہے
کون سا دن ہے کہ جس دن کا ظہور
حرفِ دل کے لیے صحرائے تمنّا کا سفر کرتا ہے
اک ترے لمس کی خاطر ہم نے
خیمۂ دل میں جلائے ترے ’’ہونے‘‘ کے چراغ
ہاں مگر کوئی سراغ
تیری آہٹ،تیری آواز، قدوقامت وخوشبو کا سراغ
اک ذرا دیکھ! کہاں ہم ہیں کہاں تیرے چراغ
جاں بہ لب ہیں
مگر اک حرف تسلی کے لیے
زندگی ہم تیری دہلیز پہ آبیٹھے ہیں


اپنے شہرزاد سے

مرے شہرزاد!
یہ روز وشب
ترے خدوخال کی نذر ہیں
وہ ہجوم حرف وخیال ہو
کہ یہ آرزوئے وصال ہو
مرا ماضی ہو،
مرا حال ہو
جو ابھی نہیں جسے آنا ہے
کوئی عرصۂ مہ و سال ہو
ترے اس جمالِ سخن مثال کی نذر ہیں
مرے شہرزاد
یہ روزوشب
ترے خدّوخال کی نذر ہیں
یہ کیا تم ہو
ذرا اس نظم کے زینے اُتر کر
میرے اندر، اپنے اندر جھانک کر دیکھو
متاعِ شہرِ جاں گر تم نہیں تو کون ہے آخر!
کہ جب تم شبنمیں لہجے میں مجھ سے بات کرتے ہو
تو لگتا ہے کہ جیسے تم مرے دل کو رفو کرتے ہو،خوابِ تازہ کی صورت مرے پندار کے ہر تار کو رنگِسخن سے مشکبو کرتے ہو، میرے دِل کی رگ رگ سے اُمڈتی دھڑکنوں میں ڈوب کر، میرے لبوں کے لمس میں گوندھے ہوئے نم سے وضو کرتے ہو جانِ جاں!  یہ آخر تم نہیں تو کون ہے!تم ہو
مجھے آنچل کی خوشبو
اور ہاتھوں کی دھنک پوروں کی حدت میں اور اپنی ساحر آنکھوں کی سُبک انداز جھیلوں میں ڈبونے  والے
آخر تم نہیں تو کون ہے؟۔ ۔ ۔ تم ہو
ذرا اس نظم کے زینے اُتر کر
میرے اندر، اپنے اندر جھانک کر دیکھو
کہاں میں ہوں کہاں تم ہو!
اور اتنے فاصلے پر ساکت وجامد کھڑے
کیوں اتنے گم سُم ہو
یہ کیا تم ہو!


خواب کٹورے، سورج کی دہلیز پہ رکھ کر لوٹ آنے کی سوچ میں دن چڑھ جاتا ہے
پھر دن کا پتھر
شام کی چوٹی تک لانے کی ہمت باندھ کے
بستر سے اُٹھ جاتا ہوں اور دفتر جانے
سارے ضروری اورادھورے کام مکمل کرنے کی خواہش کو ناشتہ دان میں بھر کے
گھرسے قدم باہر رکھتے ہی
میں کہیں اور نکل جاتا ہوں
راہ کہیں رہ جاتی ہے


زوالِ شب ہے ستاروں کو گرد ہونا ہے
پسِ نگاہ ابھی ایک غم کو رونا ہے
اب اس کے بعد یہی کارِ عمر ہے کہ ہمیں
پلک پلک میں تیری یاد کو پرونا ہے
یہی کہ سلسلہ نارسائی ختم نہ ہو
سو جس کو پانہ سکے ہم، اسی کو کھونا ہے
جو لفظ کھل نہ سکیں آئینے پہ، مٹی ہیں
جو بات دل پہ اثر کرسکے، وہ سونا ہے
تو اس کو توڑنا چاہے تو توڑ سکتا ہے
کہ زندگی ترے ہاتھوں میں اک کھلونا ہے
بس ایک چشم سیہ بخت ہے اور اک تیرا خواب
یہ خواب، خواب نہیں اوڑھنا بچھونا ہے
سفر ہے دشت کا اور سر پہ رختِ تنہائی
یہ بار بھی اسی عمر رواں کو ڈھونا ہے


حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے