نقطۂ نظر

عوام اور اشرافيہ کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج

ہماری بدقسمتی ہے کہ آزادی حاصل کیے  سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم ذات پات اور اونچ نیچ کے خود ساختہ  خول سے باہر نہیں نکل سکے۔  تعلیم، صحت یا کوئی  بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ امیر غریب اور چھوٹےبڑے کے درمیان واضح فصیل دکھائی  دیتی ہے۔  صاحب حیثیت طبقہ علاج اور تعلیم کی بہترین سہولتوں سے مستفید ہو رہا ہے جبکہ غریب کے لیے فقط طفل تسلیاں،وعدے وعید اور روشن مستقبل کی آس اور امیدیں ہیں۔  بڑے لوگ قومی خزانے پر نقب لگا کر اورقتل کرکے بھی جیل میں اے اور بی کلاس کے مزے لوٹتے ہیں جبکہ بےچارا غریب معمولی جرم کر کے بھی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔  اکبر الہ آبادی نے کیا خوب کہا :

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل  بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

ترقی یافتہ، مہذب اور فلاحی مملکتوں  میں  ہر انسان کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ انسانيت کو رنگ،نسل،مذہب اور برادری پر فوقیت دی جاتی ہے۔  ہماری تبدیلی سرکار سمیت ساری ہی حکومتیں  برطانیہ کی جمہوریت سے بڑی متاثر رہی ہیں۔ ہمارے وزرا و امرا اپنے علاج معالجے اور جائیدادیں خریدنے کو نیز ایک سابق وزیرِ اعظم کے بچے کاروبار کرنے کو بھی  برطانیہ کو ہی ترجیح دیتے ہیں لیکن اگر یہ ارباب صرف  وہاں کے نظام صحت  ہی کو اپنا لیں  تو بڑی بات ہے۔  برطانيہ کا نیشنل ہیلتھ سروس کا نظام وہاں کے ہر شہری کو بلا تفریق صحت کی بہترین سہولیات فراہم کر رہا ہے۔   جبکہ ہمارے ہاں صرف دعوے ہی نظر آتے ہیں۔ مریضوں کی حالت ابتر ہے۔ غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں اور کوئی پُرسانِ حال تک نہیں ہوتا۔ نجی شعبے میں قائم بڑے بڑے اور سہولتوں سے آراستہ اسپتالوں میں تو غریب کا داخلہ بھی ممنوع ہی سمجھیے۔

ایک بار اسلام آباد جانا ہوا، ان دنوں راقم کو ڈاکٹر نے   یومیہ وٹامن بی  کا انجکشن  تجویز کیا ہوا تھا۔  سوچا تین دن کے ٹور میں  انجکشن کا ناغہ تو ممکن نہیں ہوگا اس لیے وہاں  انکشن لگوا لیا جائے گا۔ رہائش گاہ کے سامنے ہی الشفا انٹرنیشنل ہاسپٹل تھا سو ہم انجکشن لگوانے وہاں چلے گئے۔ گیٹ سے اندر جانا ہی کچھ کم محال نہ تھا، سو سوالات اور ردوکد کے بعد شرفِ باریابی نصیب ہوا تو استقبالیہ پر موجود صاحب سے معلومات  لینے لگے۔ پتا چلا ایک انجکشن لگوانے کے لیے ڈاکٹر کے نسخے  کو دکھانے کے باوجود  400 روپے رجسٹریشن فیس ہوگی، 400 روپے ڈیوٹی ڈاکٹر کی فیس ہوگی جو انجکشن کی تصدیق کریں گے اور پھر انجکشن لگانے کے چارجز  بھی الگ سے 400 روپے ادا کرنا ہوں گے، یعنی کُل 12 سو روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ خیر ہم نے اس قدر بڑی مقدار میں روپے خرچ کرنا  مناسب نہ سمجھا اور بصد تلاش بسیار پولی کلینک سے دس روپے کی پرچی بنوا کر انجکشن لگوا لیا۔ پولی کلینک میں ایمرجنسی کے دروازے پر غربت و بےبسی کی جو مورتیں نظر آئیں ان پر دل آج بھی تڑپ جاتا ہے۔

ہمارا پیارا دین اسلام ہمیں  مساوات کا  درس دیتا ہے۔  انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔  نیز عورتوں ،بچوں، مردوں اور بزرگوں کے بارے ميں واضح اور مفصل احکامات موجود ہیں۔  کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر فوقیت دیے بغير انسانیت کو فوقیت دی گئی  ہے۔  انصاف کے ترازو میں سب کو برابر تولنے کے واضح احکامات موجود ہیں۔ وطن عزیز کی طرف دیکھیں یہاں انسان اور انسانیت کے بے وقعت ہونے کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتاہے۔  رنگ ، نسل، برادری،مذہب اور مالی حیثیت کو انسانیت پر فوقیت دی جاتی ہے۔  اخبارات کے صفحات انسان اور انسانیت کی تذلیل کے واقعات سے بھرے ہوتے ہیں۔  

اشرافیہ کا طبقہ ٹیکس چوری اور کرپشن کرنے کے باوجود تمام سہولیات سے فیضیاب ہو رہا ہے جبکہ غریب بےچارا  اپنی خون پسینے کی کمائی  سے ٹیکس کٹوا کر بھی آس،امید اور بے بسی کی تصویر بنا رہتا ہے۔ بڑے محلات اور عالی شان گھر چوری کی بجلی یا بلوں کی عدم ادائیگی کے باوجود رات میں بھی دن کا سماں پیش کرتے ہیں جبکہ عوام اضافی بل بھرنے کے باوجود بھی موم بتیوں اور لالٹینوں کے سہارے راتيں گزار رہا ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اغیار کی برائیوں سے تو فوراّ متاثر ہو جاتے ہیں مگر ان کی خوبیوں اور اچھائیوں پر آنکھیں موند لیتے ہیں۔ ہم نہ تو ترقی یافتہ ممالک اور نہ ہی دین اسلام کے معاشرتی نظام   کو اپنا سکے۔  ہماری اشرافیہ اور حکمرانوں کا طبقہ خواہ اپنے محلات کے اندر ہو یا باہر ہر حال میں بیچارے غریب، مجبور اور بے بس عوام کے لیے باعث عذاب و مشکلات ہی ثابت ہوا ہے۔  بدقسمتی سے عوام کے خون کو نچوڑ کر حاصل کیے  گئے ٹیکس کا پیسہ عوام کو بنیادی سہولتيں فراہم کرنے کے بجائے اشرافیہ اور حکم رانوں کے شاہانہ رہن سہن ، پروٹوکول اور عیاشیوں کی نذر ہوجاتا ہے۔  یہ طبقہ جب اپنے محلات سے باہر نکلتا ہے تو پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کی پھرتیاں دیکھنے والی ہوتی ہيں۔ وی آئی  پی روٹ کے نام پر گھنٹوں سڑکیں اوردکانیں بند کروا دی جاتی ہیں ۔  الیکشن کے دنوں میں سر آنکھوں پر بٹھائے  جانے والے لوگوں کو شاہی سواری کے گزرنے کے راستے سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔  پھر کوئی  مریض بروقت ہسپتال،طالب علم اسکول اور مزدور کارخانے پہنچے یا نہ پہنچ  پائے  ان کی بلا سے۔  حد ہے کہ طویل انتظار کی وجہ سے کئی  جانیں چلی جاتی ہيں اور تو اور کئی  بار زچگیاں بھی رکشوں اور ایمبولینسوں میں ہو جاتی ہیں۔  

 قارئین، سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں غریب کا خون سستا اور امیر کا ارزاں ہے۔  غریب کے اس احساس کی وجہ سے جنم لينے والی ممکنہ نفرت کا سدباب کرنا بے حد ضروری ہے۔  کيوں نہیں ایسے اقدامات کیے  جاتے کہ غریب اور امیر کے جان،مال، عزت و آبرو کو مساوی تحفظ ملے اور وی آئی  پی(ویری ایمپورٹنٹ پرسن) پروٹوکول کی جگہ  پی(پرسن) پروٹوکول یعنی امیر غریب کو برابر اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو پروٹوکول حاصل ہو۔  ساتھ ہی عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ عوامی نمائندے منتحب کرتے وقت امیدوار کی عوام دوستی اور پروٹوکول سے نفرت جیسے ریکارڈ اور ماضی کو بھی ذہن نشین رکھيں۔

امیر اور غریب کے درمیان روز بروز برھتے ہوئے فاصلوں اور نفرت،غصے و حقارت جیسے جذبات کو سنجیدہ اقدامات سے کم کرنے کی ضرورت ہے ۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے