حالاتِ حاضرہ سماج لائف اسٹائل نقطۂ نظر

عورت کیا چاہتی ہے؟

۸ مارچ عورتوں کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ بحثیں ہوتی ہیں ، سمینار ہوتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق پر بات ہوتی ہے۔ وعدے اور قول دیے  اور لیے جاتے ہیں۔ لیکن پھر سب معمول کے مطابق چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ عورت بھی اس کی عادی ہو گئی ہے۔

ہر سال یہ دن آتا ہے اور ہر سال مجھے ایک کہانی یاد آتی ہے جو بچپن میں سنی تھی۔ اس وقت تو اس کی زیادہ سمجھ نہیں تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ادراک ہونے لگا کہ دراصل عورت چاہتی کیا ہے؟

آپ چاہیں تو اسے کہانی سمجھ کر پڑھیں، چاہیں تو اس میں کچھ تلاش کر لیں۔

کہانی کچھ یوں ہے :

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک تھا اور اس ملک میں ایک بادشاہ تھا۔ بادشاہ نوجوان اور نا تجربہ کار تھا۔

پڑوس کے ایک بڑے ملک نے اس چھوٹے ملک پر حملہ کردیا اور طاقت کے زور پر اس پر قبضہ بھی کر لیا، جیسا کہ ہوتا رہا ہے۔ نوجوان بادشاہ گرفتار ہو گیا اور اسے فاتح بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ مفتوح بادشاہ کی نوجوانی اور معصومیت دیکھ کر فاتح بادشاہ کو اس پر ترس آگیا۔  جیسا کہ  پہلےہوتا رہا تھا۔۔۔ مفتوح کی گردن اڑانے، آنکھوں میں سلائیاں پھیرنے یا عمر قید دینے کے بجائے فاتح نے مفتوح کو ایک موقع دینے کا سوچا۔

زمانہ قدیم میں بادشاہ کبھی کبھی لطف لینے کے لیے عجیب عجیب باتیں کرتے تھے۔

 فاتح نے کہا،

” میں تمھیں معاف کرسکتا ہوں اور تمہاری سلطنت بھی واپس لوٹا دوں گا۔”

مفتوح بادشاہ ابھی تشکر کے کلمات سوچ ہی رہا تھا کہ فاتح نے کہا۔

” اگر تم میرے ایک سوال کا جواب دے سکو تو۔۔۔”

” جی جی مجھے منظور ہے” مفتوح نے سوال سنے بغیر حامی بھر لی۔

”  سوال تو سن لو دوست۔۔۔اور سوال یہ ہے کہ۔۔۔” بادشاہ نے ساتھ بیٹھی اپنی ملکہ کو دیکھا اور مسکرایا ” سوال یہ ہے  کہ عورت کیا چاہتی ہے؟"

مفتوح کی جان میں جان آئی۔ اس نے سوچا یہ تو کوئی مشکل سوال نہیں، ابھی اپنے وزیروں، مشیروں اور دانشوروں سے مشورہ کر کے جواب دے دوں گا۔ اس کے  سارے ساتھی بھی زنجیروں میں بندھے اس کے  ساتھ کھڑے تھے سب کے چہروں پرامید کی رونق چھا گئی۔

” سوال کا جواب درست ہے یا غلط اس کا  فیصلہ ہماری ملکہ کریں گی” فاتح بادشاہ نے اور بھی فاتحانہ نظروں سے ساتھ بیٹھی ملکہ کو دیکھا، جس کے لبوں پر ایک دھیمی سی مسکان تھی۔

  اوہ! فیصلہ ملکہ کریں گی، مفتوح نے سوچا۔ لیکن خیر ہے۔ سوال اتنا آسان ہے کہ جواب دینا مشکل نہیں۔

مفتوح نے مشورے کے لیے وقت مانگا جو اسے مل گیا۔ بادشاہوں کے پاس وقت کی کیا کمی۔

” تمھارے  پاس ایک سال کا وقت ہے۔ جواب تلاش کرو۔ ٹھیک جواب ہوا تو تم بھی آزاد  کر دیے  جاؤ گے اور تمہارا ملک بھی تمھیں  واپس مل جائے گا۔”

مفتوح کو یہ مہلت اور شرط نہایت مناسب لگی۔

وہ اپنے لشکر کے ساتھ اپنے دیس واپس آگیا۔ اگلے ہی دن  اس نے  تمام سلطنتی امور ایک طرف رکھ کر اس سوال پر اجلاس طلب کیا کہ ” عورت کیا چاہتی ہے۔”

تمام مشیروں نے باہم سر جوڑے اور اتفاقِ رائے سے کہا ” حضور عورت دولت چاہتی ہے، وہ روپے پیسے سے خوش ہوتی ہے۔”

مفتوح بادشاہ نے اسی وقت اپنے گھڑ سوار قاصد کو پڑوس کے فاتح بادشاہ کی طرف دوڑا دیا۔ قاصد چند دن بعد واپس آیا اور کہا جواب غلط ہے۔

نوجوان معصوم بادشاہ نے پھر اجلاس طلب کیا۔ پھر سوال سامنے رکھا۔

اب کی بار وزیر اعظم بولے” بادشاہ سلامت عورت اقتدار چاہتی ہے، وہ حکومت کرنا چاہتی ہے۔”

 "اچھا” جوان بادشاہ نے سر ہلایا ۔ اس کے  دل کو بات لگی۔ تازہ دم قاصد دوڑایا گیا۔

اور کچھ دن بعد وہ بھی اس جواب کے ساتھ لوٹا کہ "جواب غلط ہے۔”

اس بار جوان بادشاہ نے کہا کہ جواب دینے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ مشورے اور صلاح سے سوچ بچار کرنے کے بعد جواب دیا جائے گا۔ سلطنت کے بھی چند امور توجہ چاہتے تھے ان سے نمٹ کر بادشاہ نے پھر اجلاس طلب کیا۔ سوال سب کے سامنے رکھا۔

وزیر خزانہ نے کہا "عورت زیور اور ہیرے جواہرات چاہتی ہے۔ وہ ان چیزوں سے بہت خوش ہوتی ہے۔”

قاصد پھر جواب لے کر دوڑا۔ آنے جانے میں تقریباً مہینہ بھر لگ گیا۔ جواب پھر قبول نہ ہوا۔

اب تو نوجوان بادشاہ فکرمند ہونے لگا۔ اسی فکر میں اس نے  کئی دن دربار بھی نہیں لگایا اور کھانا بھی ٹھیک سے نہ کھایا۔ چند دن بعد ہمت پکڑی اور دوبارہ اجلاس بلایا۔ اس بار اس نے اپنی توجہ کچھ اور لوگوں کی جانب مبذول کی۔

ایک مذہبی مشیر سے پوچھا،

"حضرت آپ کے خیال میں عورت کیا چاہتی ہے؟”

” آپ کا اقبال بلند بادشاہ سلامت” مذہبی رہنما بولے”عورت خدمت کرنا چاہتی ہے۔ ایک مضبوط مرد  کی جو اس کی رکھوالی کر سکے۔ جس کے سہارے وہ ساری زندگی گذار سکے۔ کیونکہ عورت خدمت کے لیے ہی بنی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے۔”

بات بادشاہ کے دل کو لگی۔ اس نے اپنے محل میں بھی یہی دیکھا تھا کہ عورت خدمت کرتی ہے اور یقیناً خدمت سے اسے خوش بھی ملتی ہے۔ وہ خدمت ہی کرنا چاہتی ہے۔

پھر کیا تھا۔ تازہ دم گھڑ سوار قاصد بگٹٹ دوڑا۔ مہینے سے اوپر ہو گیا۔ نوجوان بادشاہ کسی حد تک مطمئن  ہو کر شکار پر چلا گیا۔ شکار سے واپسی پر اسے کافی دن لگے۔ پھر تھکاوٹ دور کرنے میں کچھ دن  اور لگے۔ بالآخر واپس آکر دربار لگایا اور پوچھا کہ پڑوس کے بادشاہ کا جواب کیا آیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جواب درست نہیں مانا گیا، اور ان کی ملکہ کو آپ کا جواب برا بھی لگا۔ بادشاہ حیران پریشان رہ گیا اسے پوری امید تھی فاتح بادشاہ یہ جواب ضرور درست مانے گا۔ آخر کو یہ جواب ایک مذہبی رہنما کی طرف سے تھا اور فاتح بادشاہ کا مذہب بھی وہی ہی جو مفتوح کا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جواب قبول نہیں کیا گیا؟ اس نے سوچا کہ شاید فرقے کا فرق ہے۔ مذہب ایک ہے لیکن فرقہ تو الگ ہے نا۔۔۔ اب جواں سال بادشاہ نے دوسرے فرقے کے عالم کو بلایا اور اس کے  سامنے بھی یہی سوال رکھا۔

عورت کیا چاہتی ہے۔

عالم نے جواب دیا۔

"جناب عورت بدی اور شر کی پتلی ہے۔ اس کا خمیر ہی ایسا ہے۔ وہ انتشار پھیلانا چاہتی ہے۔ یہ اس کی سرشت میں ہے۔”

بادشاہ کے دل کو بات لگی تونہیں لیکن سوچا شاید اس فرقے کے لوگوں کا یہی ماننا ہے۔ جواب دوڑا دیا گیا اور ایک بار پھر جواب درست نہ ماننا گیا۔ قاصد نے یہ بھی کہا کہ فاتح بادشاہ کی ملکہ غصے میں دکھائی دیں۔

بے چارہ نوجوان بادشاہ فکر اور پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ کسی کام میں جی نہیں لگ رہا تھا۔ ہر چیز پر جیسے اداسی چھائی تھی۔ بادشاہ تھکے تھکے قدموں سے زنان خانے میں داخل ہوا۔ سامنے سے بڑی اماں آ رہی تھیں۔ بڑی اماں بادشاہ کے ابا کی پہلی بیوی تھیں۔ ان سے اولاد نہ ہوئی تو باپ نے دوسری شادی کر لی جو نوجوان بادشاہ کی ماں تھی۔ وہ ابھی چھوٹا سا ہی تھا کہ اس کی  ماں مر گئی اور بڑی اماں نے ہی اسے پالا۔ چند برس پہلے باب بھی چل بسے اور بادشاہ کو اس نوجوانی میں سلطنت کا کاروبار سنبھالا پڑا۔

بادشاہ نے بڑی اماں کو دیکھا تو سوچا کیوں نہ ان سے پوچھا جائے، یہ عورت ہیں، سمجھ دار بھی ہیں۔

” بڑی اماں ایک سوال ہے۔”

” ہاں عزیزم پوچھو جو پوچھنا ہے۔”

” یہ بتایئے کہ عورت کیا چاہتی ہے؟”

بڑی اماں نے نظر بھر بادشاہ کو دیکھا اور ایک ٹھنڈی آہ بھری۔

” بیٹا میری جان عورت اولاد چاہتی ہے۔” بڑی اماں نے ایک اور آہ بھری اور سوچا اگر میری اولاد ہوتی تو آج یہ تخت و تاج اس کا  ہوتا اور تو شاید پیدا ہی نہ ہوتا۔

نوجوان بادشاہ کا چہرہ کھل اٹھا۔ کیا زبردست اور سچی بات کہی ہے۔ عورت اولاد چاہتی ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کے  لیے اور کوئی شے نہیں۔

بادشاہ نے بڑی ماں کے ہاتھ چومے اور اگلے دن اجلاس بلا لیا۔ اس رات بادشاہ کو بڑی اچھی نیند آئی۔

اگلے دن درباریوں نے دیکھا کہ بادشاہ مطمئن  اور بہت خوش نظر آ رہا ہے۔ وہ جان گئے کہ بادشاہ کو درست جواب مل گیا ہے۔

” عورت اولاد چاہتی ہے” بادشاہ نے فاتحانہ انداز میں درباریوں کی طرف دیکھا اور سب نے ہی خوشی اور اطمینان سے سر ہلایا۔ اب سب متفق ہو گئے کہ اس سے بہتر جواب اس سوال کا نہیں ہو سکتا۔

اس بار نوجوان بادشاہ نے قاصد کے ساتھ ایک وزیر بھی بھیجا اور چند تحائف بھی روانہ کیے۔ تیاری میں دن لگے پھر قافلہ روانہ ہوا۔

بادشاہ کو بھی اطمینان تھا لہٰذا وہ سکون سے شمالی علاقہ جات کی سیر کو روانہ ہو گیا۔ آخر کو اتنے مہینوں بعد تو سکون ملا تھا۔ سیر تو بنتی تھی۔ کھلی تازہ ہوا اور سر سبز وادی نے بادشاہ کی صحت پر بہت اچھا اثر ڈالا۔ چھٹیاں گذار کر تر و تازہ ہو کر وہ واپس آیا اور سوچا اب اطمینان سے سلطنت اور رعایا کے امور پر دھیان دینا ہو گا۔

اگلے دن دربار میں بادشاہ نے اپنے قاصد اور ساتھ جانے والے وزیر سے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

” ہاں بھئی پڑوسی بادشاہ نے کیا کہا؟ ہمارے لیے بھی کوئی تحفہ آیا؟”

وزیر کے چہرے کی پھیکی رنگت نے بادشاہ کو ڈرا دیا۔

"حضور انھوں نے جواب غلط مانا ہے”

” ہائیں” بادشاہ ہکا بکا رہ گیا۔ ” یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”

وزیرخارجہ نے کہا۔ "یہ ہمارے خلاف کوئی عالمی سازش ہو رہی ہے حضور!”

دربار میں اب اس سازش پر بحث ہونے لگی۔ بادشاہ کا دل اچاٹ ہو  کر رہ گیا۔ اس کا دل چاہا وہ بیماری کی چھٹی لے کر کہیں دوسرے ملک چلا جائے۔ لیکن ایک مفتوح بادشاہ کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ ملک چھوڑ کر جائے۔ اداس دل کے ساتھ بادشاہ دربار سے نکل گیا۔ اور یوں دربار خود بخود برخاست ہو گیا۔ اسی یاسیت کے عالم میں وہ اپنے محل کے جھروکے میں آ کھڑا ہوا جہاں سے وہ اہم دنوں میں اپنی رعایا کو اپنا دیدار کراتا تھا۔

بادشاہ نے دیکھا کہ ایک جوگی  نما بابا نیچے سے گذر رہا ہے۔ مختصر ترین لباس میں دبلا پتلا جوگی اپنی دھن میں کچھ گنگنا رہا تھا۔

” دنیا چار دنوں کا میلہ۔۔۔”

بادشاہ کو لگا کہ جوگی ضرور کوئی پہنچا ہوا بندہ ہے۔ کیوں نہ اس سے سوال پوچھا جائے۔

بادشاہ نے آواز لگائی۔

” بابا یہ تو بتاوَ کہ عورت کیا چاہتی ہے؟”

بابا نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولا۔

” سرکار عورت دو وقت کی روٹی اور تین کپڑے چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا چاہ سکتی ہے؟ اس سے زیادہ کی اسے نہ ضرورت ہے اور نہ چاہ ۔”

بادشاہ کو پہلے تو یہ جواب کچھ زیادہ نہیں بھایا، لیکن ذرا سوچ بچار کرنے پریقین آ ہی گیا کہ عورت اس کے  علاوہ اور چاہ بھی کیا سکتی ہے ۔ وہ واپس دربار آیا جہاں درباری اب خوش گپیوں میں مشغول تھے۔

” جواب مل گیا۔” بادشاہ نے اعلان کیا۔

نئے جواب کے ساتھ ہرکارہ دوڑایا گیا۔ بادشاہ نے بھی دربار برخاست کر کے شطرنج کی بساط بچھوائی۔ اس سے دل بھر گیا توساحل سمندر کی سیر پر چل پڑے۔ آخر دل کو بہلانے کا کوئی تو سامان ہو۔ اور دل لگ بھی گیا۔ چند ہفتے وہیں گذارے۔ خوب دھوپ سینکی۔ سمندر میں تیرے اور انگاروں پر بھنے بکرے، دنبے کھائے۔

بادشاہ کی سواری واپس لوٹی تو ہرکارہ بھی آ چکا تھا جو ساتھ چٹھی بھی لایا تھا جس میں لکھا تھا:

"آپ کا جواب غلط ہے۔ اور ہماری ملکہ اس جواب سے سخت نا خوش بھی ہیں۔”

نوجوان بادشاہ اب سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ درباری سہم گئے۔ سب کو اپنی اپنی فکر لگ گئی۔ کچھ تو کسی اور ملک میں سیاسی پناہ کے امکانات پر غور کرنے لگے۔

تھکا ہارا بادشاہ اب پریشان بھی تھا۔ اسے اداسی اور یاسیت نے گھیر لیا۔ وہ اپنی خواب گاہ میں گیا اور کئی دن باہر نہیں نکلا۔ کھانا بھی جی بھر کر نہیں کھایا۔ بادشاہ کے دوستوں کو اس کی  فکر لگ گئی۔ بادشاہ کی اداسی دور کرنے کی ترکیب ڈھونڈھی جانے لگی۔ ایک جشن رقص و موسیقی کا اہتمام کیا۔ اور بادشاہ با دلِ نخواستہ شریک ہو گیا۔

ایک حسین کمسن اور باتونی رقاصہ نے بادشاہ کی توجہ حاصل کر لی۔ بادشاہ کا دل بہلنے لگا اور اچانک اسے خیال آیا کہ اس لڑکی سے پوچھنا چاہیے۔

” اے حسین دوشیزہ یہ تو بتا کہ عورت کیا چاہتی ہے؟”

دوشیزہ مسکرائی، اٹھلائی اور بولی۔

” جہاں پناہ عورت ہمیشہ جوان اور حسین رہنا چاہتی ہے، اور بس”

ایک کے بعد ایک کئی چراغ بادشاہ کی نظروں کے سامنے جل اٹھے۔

” واہ! ۔۔۔ کیاخوب! واقعی عورت یہی تو چاہتی ہے کہ ہمیشہ جوان اور حسین رہے۔”

 بادشاہ جھوم اٹھا۔ رات کافی ہو چکی تھی۔ سب وزیر، امیر، مشیر اور درباری گھروں کو جا چکے تھے۔ کیا صبح کا انتظار کیا جائے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔ نہیں، وقت ضائع کرنا مناسب نہیں۔

آدھی رات گزر جانےکے باوجود دربار لگایا گیا۔ بادشاہ نے فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ صحیح جواب مل گیا فوری طور پر قاصد روانہ کر دیا جائے۔ اس کے بعد بادشاہ لمبی تان کر سو گیا۔ کئی دن کے بعد اچھی نیند آئی۔

پورے چھ دن سونے اور آرام کرنے کے بعد بادشاہ کو خیال آیا کہ اب ملک اور رعایا کی بھی خبر گیری کرنی چاہیے۔ کھیت ،کھلیان، فصلیں، دریا ،نہریں، درآمد برآمد، قانون، انصاف سب پر نظر رکھنی چاہیے۔ کسانوں اور مزدوروں کے مسائل بالمشافہ سننے چاہئیں۔ سو بادشاہ نے کوچ کا حکم دیا۔ اگلے دن قافلے کی صورت میں روانہ ہوا۔

چھوٹا سا ملک تھا۔ گھومتے گھماتے وہ سرحدوں تک آ پہنچے۔ بادشاہ نے دیکھا سرحد کے اس پار فاتح ملک کی فوج اب بھی موجود ہے۔ سپاہیوں کے ہتھیاروں کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ بادشاہ مسکرایا۔ بس ابھی ہمارا جواب ان تک پہنچنے کی دیر ہے اور یہ فوج واپس چلی جائے گی۔

اندرونِ ملک بادشاہ کا یہ دورہ کامیاب رہا۔ لگان بھی اکٹھا ہوا اور رعایا کی خبر گیری بھی ہو گئی۔ دھوم دھام سے واپسی ہوئی۔ دو دن بعد ہرکارہ بھی واپس آ گیا۔ بادشاہ نے جشن کا اہتمام کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

ہرکارہ آیا  چٹھی میں پھر وہی لکھا تھا”جواب درست نہیں ہے۔”

چونکہ دربار لگا ہی ہوا تھا  لہٰذا بادشاہ نے پھر یہ سوال اٹھایا کہ” عورت کیا چاہتی ہے۔ “دربار میں ایک تنخواہ دار شاعر بھی تھا جس کا کام یوں تو بادشاہ کے لیے تعریفی نظمیں، رزمیہ ترانے اور دشمنوں کی ہجو لکھنا تھا لیکن  وزیرِ ثقافت کی سفارش پر بادشاہ نے شاعر سے بھی مشورہ کر لیا۔

” بولیے شاعر صاحب ، عورت کیا چاہتی ہے؟

شاعر نے پہلے تو بادشاہ کی تعریفوں سے بھرپور نظمیہ تقریر  شروع کردی۔ بادشاہ نے ٹوکا۔

” آپ سوال کا جواب دیجیے، بس۔”

” آپ پر میں نثار میرے شہنشاہ۔ اس سوال کا جواب بس ایک ہی لفظ میں دیا جاسکتا ہے، محبت۔ عورت محبت چاہتی ہے۔ محبت سے اسے ہر کام پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ محبت کی خاطر کچھ بھی کر گذرنے کو تیار ہو جاتی ہے۔”

بادشاہ کے دل کو اس جواب نے چھو لیا۔ واقعی محبت سے بڑھ کر عورت اور کیا چاہ سکتی ہے۔ شاعر کو چند اشرفیاں دیں اور  تازہ دم گھوڑے دوڑا دیے  گئے۔ شاعر کی تشریح بھی روانہ کی۔

وہاں سے جواب آیا ” محبت کے نام پر عورت کا استحصال آپ کو زیب نہیں دیتا۔ محبت تو سب ہی چاہتے ہیں۔ عورت کو اتنا احمق اور کمزور کیوں سمجھتے ہیں کہ وہ محبت کی خاطر کچھ بھی کرنے کو آمادہ ہو سکتی ہے۔”

نوجوان بادشاہ کا رنگ اڑ گیا۔  امیدیں دم توڑ گئیں۔ چٹھی میں یہ بھی لکھا تھا کہ اب آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔

” کتنا وقت ہے ہمارے پاس؟”

وزیر اعظم نے حساب لگایا، ” چالیس دن”

بادشاہ نے سر پکڑ لیا۔ اتنی جلدی سال ختم ہونے والا ہے۔ وقت کو جیسے پر لگ گئے ہوں۔ اسے اپنی ہار اب یقینی نظر آرہی تھی۔ ملک ہاتھ سے جائے گا۔ مجھے مار دیا جائے گا، یا باقی کی زندگی قید میں گذرے گی۔ ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔ ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ درباری بھی آب دیدہ ہو گئے۔

اسی شدید اداسی کے عالم میں بادشاہ دربار برخاست کرنے ہی والا تھا کہ وزیر جنگلات نے کچھ کہنے کی اجازت مانگی۔ جو اسے مل گئی۔

"حضور جنگل کے پار اوپر پہاڑ پر ایک بڑی پہنچی ہوئی جادوگرنی رہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اسے ہر سوال کا جواب آتا ہے۔ اگر مناسب سمجھیں تو اس کے  پاس چلیں؟”

” جادوگرنی؟ نہیں یہ کوئی جادو کا کھیل نہیں ہے۔ یہ دانائی کی باتیں ہیں۔ اسے کیا پتا ہوگا ایسی باتوں کا۔”

درباریوں نے بھی بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملائی، لیکن پھر اور کوئی راستہ سجھائی نہ دینے کی صورت میں بادشاہ کو آمادہ کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

” کیا حرج ہے اسے آزمانے میں، شاید بات بن جائے۔”

” ہاں اور کوئی راہ بھی نہیں ہے۔”

” وقت بھی کم ہے۔”

بادشاہ سوچ میں پڑ گیا۔

” لیکن وہ مدد کرنے کی بہت بڑی قیمت مانگتی ہے۔” ایک مشیر نے کہا۔

"ہاں، اور اس کی شرطیں بھی نامناسب ہوتی ہیں، جنھیں پورا کرنا عام انسان کے بس کی بات نہیں۔”

” ہم عام انسان نہیں ہیں۔ دولت اب بھی کم نہیں ہمارے پاس۔ منھ مانگی قیمت ادا کریں گے۔” بادشاہ جھنجھلا گیا۔

طے ہو گیا کہ بادشاہ اپنے حواریوں کے ساتھ جنگل کے پار پہاڑ پر بسی اس جادوگرنی کے پاس جائے گا۔

اگلے ہی دن قافلہ چل پڑا۔

سفر لمبا اور راستہ دشوار۔ اوپر سے موسم کی بے رحمی۔ بادشاہ نڈھال ہوا جا رہا تھا۔ گھنا جنگل ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔ بارش کی وجہ سے رفتار بھی دھیمی تھی۔ گھوڑے بے چارے بھی تھکن سے چور ہوئے جا رہے تھے۔ دو راتیں جنگل میں گذریں۔ خیمے گاڑے گئے۔ الاؤ جلا کر کھانے پکائے اور خود کو گرم رکھا۔  کچھ سپاہی دور بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔

” سنا ہے یہ جادوگرنی بہت ظالم ہے۔”

” ہاں اور اس کی شرطیں بھی بہت کڑی ہوتی ہیں۔”

” پوری چڑیل ہے یہ جادوگرنی۔”

بادشاہ کا دل یہ باتیں سن کر اور بھی سہم گیا۔ لیکن کوئی اور راستہ بھی تو نہیں تھا۔

جنگل ختم ہوا تو پہاڑ کی چڑھائی شروع ہوئی۔ بادشاہ پر تھکن سے زیادہ فکر سوار تھی۔ اگر یہ جادوگرنی بھی صحیح جواب نہ دے سکی تو کیا ہوگا؟

گرتے پڑتے وہ پہاڑ کی چوٹی تک جا پہنچے۔ ایک غار کی طرف اشارہ کر کے کھوجی نے کہا۔

 ” یہ ہے جادوگرنی کا مسکن۔”

شام ہو چلی تھی۔ سورج  غروب ہونے کو تھا۔ لیکن وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ایک وزیر نے کہا۔ ” حضور آپ یہاں رکیے ہم جا کر پہلے بات کرلیں۔” چار لوگ غار کے اندر داخل ہوئے اور چند ہی لمحوں بعد باہر آ گئے۔ ” انھوں نے کہا ہے کہ یہ ان کے آرام کا وقت ہے۔ کل صبح آ کر ملیں۔”

پہاڑ کی پتھریلی زمین پر جیسے تیسے خیمے گاڑے گئے۔ الاؤ جلا کر دنبے بھونے گئے۔ باشاہ کے حلق سے نوالے نہیں اتر رہے تھے لیکن وہ اپنے لوگوں کے سامنے خود کو کم زور ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

رات سخت گذری۔ صبح تڑکے سب اٹھ گئے۔ بادشاہ نے لباس بدلا اور تیار ہو کر جادوگرنی کے حضور حاضری کے لیے اندر داخل ہوا۔

تاریک سیلن زدہ  بدبودار غار میں بادشاہ کا دل گھبرا سا گیا لیکن وہ مضبوط قدموں سے آگے بڑھتا گیا۔ سامنے ایک سایا سا دکھائی دیا۔ بادشاہ نے اس پر نظریں جمائیں۔ اور کانپ کر رہ گیا۔

اس کے سامنے ایک کریہہ منظر تھا۔ ایک عجیب سی مخلوق جو شاید انسان بھی نہیں تھی۔

ایک لمبی بے حد دبلی عورت نما چیز اس کے  سامنے تھی۔ الجھے، بکھرے ہوئے بال، لمبی نوکیلی ناک، آنکھوں کے درمیان تنگ سا فاصلہ ، جھلسی ہوئی رنگت، لمبے بازو، جھریوں والے ہاتھ، لمبے نوک دار ناخن، اگلے دو دانت نچلے ہونٹوں پر ٹکے ہوئے۔ اف!!!  بادشاہ نے بدصورتی کی اتنی مکمل شکل پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

” کیوں آئے ہو؟” وہ بولی تو لگا  گویا کسی نے کانوں میں سوراخ کر دیے۔

” بادشاہ سلامت آپ سے کچھ پوچھنے آئے ہیں۔ ” ایک وزیر نے ہمت کر کے کہا۔

جادوگرنی نے ہاتھ میں پکڑی لاٹھی زور سے زمین پر ماری اور وزیر سے بولی۔

” تمھارا بادشاہ گونگا ہے کیا؟”

” نہیں محترمہ، میں خود آپ سے بات کرتا ہوں” بادشاہ جلدی سے بولا۔

” ایک سوال کا جواب چاہیے  اگر آپ دے سکیں”

” میرے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ پوری بات بتاؤ۔”

بادشاہ نے پوری کہانی کہہ ڈالی کہ کیسے پڑوسی ملک نے حملہ کیا، کیسے بادشاہ اور سارے وزیر مشیر قیدی بنائے گئے۔ اور کیسے اس بادشاہ کی ملکہ نے ایک سوال ان کے سامنے رکھ دیا ایک سال کی مہلت دی اور اب بس چند ہی دن رہ گئے ہیں۔ جواب پر ان کی جان بخشی ہو سکتی ہے ملک واپس مل سکتا ہے۔

” سوال کیا ہے؟” جادوگرنی نے تندی سے پوچھا۔

”  سوال یہ ہے کہ عورت کیا چاہتی ہے؟”

” جواب مل جاَئے گا۔ لیکن میری ایک شرط ہے”

” ہمیں آپ کی ہر شرط منظور ہے” بادشاہ کھل اٹھا۔” آپ جواب بتائیے”

"شرط سنے بغیر ؟” جادوگرنی نے طنز بھرا قہقہہ لگایا۔ بادشاہ کو یوں لگا جیسے کوِئی زلزلہ آ گیا ہو۔

” جی جی۔ کہا ناں کہ ہر شرط منظور ہے۔ بس میرے ملک کے لوگ آزاد رہیں۔”

” ٹھیک ہے۔ تو لو جواب سنو۔ "

بادشاہ اور اس کے  سارے ساتھی دم سادھے کھڑے تھے۔

عورت انتخاب کا حق چاہتی ہے” جادوگرنی نے مسکرا کر کہا۔

بادشاہ کےساتھی سحر زدہ رہ گئے۔ یہ کیا ؟۔ بس اتنی سی بات؟۔

 "اوہ!” بادشاہ ہچکچایا” کیا یہ جواب صحیح ہے؟”

” میرا جواب کبھی غلط نہیں ہوا  اب جاؤ اور جواب بھجوا دو۔”

بادشاہ الٹے قدموں واپسی کے لیے مڑا۔

” میری شرط بھی سنتے جاؤ”

بادشاہ رک گیا اور ہمت کر کے جادوگرنی کی طرف دیکھا۔

” جی فرمائیے”

” مجھ سے شادی کرو”

ش ش شادی”؟ بادشاہ کے منہ سے بمشکل یہ الفاظ نکلے۔ پورا وفد سکتے میں آ گیا۔ کہاں ہمارا نوجوان، خوب صورت، خوش اخلاق بادشاہ اور کہاں یہ بدشکل بدمزاج جادوگرنی۔

” بادشاہ تم نے وعدہ کیا ہے۔ میں وعدہ خلافی کرنے والوں کو کڑی سزا دیتی ہوں۔” جادوگرنی نے کرخت آواز میں کہا۔

” میں وعدہ خلافی ہرگز نہیں کروں گا” بادشاہ نے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ لیکن اس کا دل اندر سے کٹا جا رہا تھا۔

”  آج سے ٹھیک چالیس دن بعد ہماری شادی ہو گی۔اب جاؤ شادی کی تیاری کرو۔ شادی والے دن میں خود تمھارے  محل پہنچ جاؤں گی۔”

” جی لیکن پہلے وہاں سے جواب تو مل جائے۔ وہ اس کو صحیح تو مان لیں۔”

” جواب صحیح ہے۔ تم جاؤ تیاری کرو۔ میرا عروسی لباس اور تمام زیورات محل میں میری خواب گاہ میں رکھوا دینا۔۔۔ جاؤ جشنِ شادی کی تیاری کرو۔”

جادوگرنی کا کہنا درست ثابت ہوا۔ پڑوسی بادشاہ نے جواب درست مان لیا  اور لکھا کہ ہم اور ہماری ملکہ نے آپ کے اس جواب کو صحیح مانا امید ہے آپ کو بھی اس جواب کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا ہوگا؟۔

 نوجوان بادشاہ اور اس کے ملک کو  آزادی مل گئی۔ آزادی کی خوشی میں جشن کا اعلان ہوا۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔ اس جشن و طرب اور خوشی کے ساتھ ساتھ جواں سال بادشاہ کو غم نے بھی گھیرا ہوا تھا۔ جب جب جادوگرنی کا خیال آتا، بادشاہ کا دل ڈوبنے لگتا۔

وزیر مشیر تسلی دینے کی کوشش کرتے۔ ہم بات کریں گے جادوگرنی سے، اس کی یہ شرط بہت نامناسب ہے۔ کوئی جوڑ نہیں۔ کہاں آپ اور کہاں وہ ۔ ہم اسے محل کے اندر آنے ہی نہیں دیں گے۔ قلعے کے دروازے مضبوط ہیں۔ تیر اندازوں سے کہیں گے تیر برسادیں اس پر۔ یا وہیں پہاڑ پر تلوار سےاس کا سر کاٹ دیا جائے۔

” نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا کچھ نہ ہوگا۔ ہم وعدہ کر چکے ہیں۔ زبان دے چکے ہیں۔ انھیں احترام سے آنے دیا جائے اور آزادی کے جشن کے ساتھ ساتھ شادی کی تیاری بھی کی جائے۔ "

ٹھیک چالیسویں دن جب بادشاہ دربار میں بیٹھا سلطنتی امور دیکھ رہا تھا باہر شور سا مچا۔ پہرےداروں نے آکر بتایا کہ کوئی آیا ہے۔ وزیر داخلہ اٹھ کر بھاگے اور ہانپتے ہوئے واپس آئے۔

” بادشاہ سلامت وہ جادوگ ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ ہونے والی ملکہ صاحبہ پہنچ گئی ہیں۔ "

بادشاہ تخت سے اترا اور گرتے گرتے بچا۔ پہرےداروں کے ساتھ جادوگرنی اندر داخل ہوئی۔ سر سے پیر تک سیاہ کپڑوں میں ملبوس، بکھرے الجھے بال، ننگے پیر اور دھول مٹی سے اٹی ہوئی۔

بادشاہ نے سلطنت کی واحد خاتون وزیر، وزیرِ سماجی بہبود کو اشارہ کیا اور کہا۔

” مہمان کو اندر لے جائیے، عروسی لباس اور زیورات بھی انھیں دے دیجیے۔”

کنیزیں بھی بلائی گئیں اور جادوگرنی کھلکھلا کر ہنستی اور ناچتی گاتی ان کے ساتھ زنان خانے کی طرف چل دی۔

شام ہوتے ہی شادی کے ہنگامے شروع ہو گئے۔ شاہی محل کو روشنیوں سے سجا دیا گیا۔ محل میں پھولوں کے ڈھیر لگ گئے۔ طرح طرح کے کھانے پکائے جانے لگے۔ موسیقی بجنے لگی۔

شام ہو چلی اور شادی کا وقت آ پہنچا۔ بادشاہ نے نہایت بجھے دل سے لباس تبدیل کیا، عطر لگایا،  سر پر تاج سجایا اور جشن کے لیے سجے ہوئے بڑے سے کمرے میں داخل ہو گیا۔ مہمانوں نے کھڑے ہوکر تعظیم دی۔ بادشاہ آج بہت حسین لگ رہا تھا۔ مہمانوں میں شریک کئی نوجوان عورتیں دل تھام کر رہ  گئیں۔ رسومات کا وقت آیا تو خاتون وزیر نے کنیزوں کو حکم دیا کہ ” دولہن” کو لے آئیں۔۔۔

کچھ ہی دیر بعد دلہن کنیزوں کے جھرمٹ میں اندر داخل ہوئی۔ قیمتی عروسی جوڑے میں ملبوس، گلے میں ہیرے، موتی کی مالائیں، انگلیوں میں نگینے والی انگوٹھیاں، الجھے بے ترتیب بالوں میں بے ڈھنگے پن سے اٹکا تاج اور چہرہ غازے اور سرخی لپا ہوا ۔ وہ ایک عجیب و غریب مخلوق دکھائی دے رہی تھی۔ بادشاہ اس کے آنے پر احترام سے کھڑا ہو گیا اور اپنے برابر جگہ دی۔ وہ سپڑ سپڑ کرتی آ بیٹھی۔ رسومات کے دوران وہ بے مقصد ہنستی رہی اور ہنستے ہوئے کئی بار اپنی نشست سے گرتے گرتے بچی۔

رسومات تمام ہوئیں اور بادشاہ اور جادوگرنی میاں بیوی بن گئے۔ مہمانوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ بادشاہ کو کن الفاظ میں مبارک  باد دیں۔ سب ہمدردی اور تاسف سے اپنے حسین جوان بادشاہ کو دیکھ رہے تھے جو بظاہر مسکرا رہا تھا لیکن اندر سے اس کی  حالت کیا ہو گی یہ اندازہ لگانا مشکل تھا۔

رسومات اور مبارک بادیوں کے بعد کھانا پیش ہوا۔ جادوگرنی نے بدتہذیبی کی انتہا کردی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا کھایا۔ آدھا اپنے عروسی لباس پر گرا کر اسے داغ دار کیا۔ زور زور سے چبایا اور سڑک سڑک کر پیا۔ ڈکار لیے اور ناک صاف کی۔ باشاہ شرم سے پسینے پسینے ہو گیا۔

کھانے کے بعد رقص و موسیقی کا اہتمام تھا۔ ملک کی بہترین رقاصایئں اور گلوکار اپنا فن پیش کر رہے تھے۔ مہمان لطف اٹھا رہے تھے۔ جادوگرنی موسیقی پر سر دھنتی رہی اور ناچنے والی حسین اور کمسن لڑکیوں کے ساتھ بے ڈھنگے پن سے ناچنے بھی لگی۔ وہ بہت خوش نظر آرہی تھی۔ جتنی وہ خوش تھی بادشاہ بے چارا اتنا ہی دکھی ہوتا جا رہا تھا۔ اس نے  ضبط کی انتہا کر دی تھی۔

پھر اچانک جادوگرنی نے اعلان کیا کہ وہ اب بہت تھک چکی ہے اور آرام کرنا چاہتی ہے۔ باشاہ نے کنیزوں کو اشارہ کیا اور وہ جادوگرنی کو ساتھ لے جانے لگیں۔ جانے سے پہلے جادوگرنی نے بادشاہ سے کہا۔” میرے ساتھ چلو۔”

بادشاہ گھبرا گیا۔ "میں ابھی آتا ہوں۔ یہ مشروب ختم کروں۔ آپ چلیے میں بس آتا ہوں۔”

جادوگرنی بادشاہ کی طرف بڑھی اور اس کے  کان میں سرگوشی کی۔

” آج ہماری سہاگ رات ہے۔ میں منتظر ہوں، دیر مت کرنا۔ میں دیر کرنے والوں کو کڑی سزا دیتی ہوں ۔”بے چارے بادشاہ کا حلق خشک ہونے لگا۔ دل ڈوبنے گا، ہاتھ کانپنے لگے، قدم لڑکھڑانے لگے۔

جادوگرنی اٹھلاتی ہوئی اٹھی اور کنیزوں کے ہمراہ خواب گاہ کی طرف چل دی۔

بادشاہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وقت بس یہیں تھم جائے۔ ایک لمحہ بھی آگے نہ بڑھے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ مشروب تمام ہوا اور بادشاہ اٹھا۔ مہمانوں کا شکریہ ادا کر کے اپنی خواب گاہ کی طرف چلا۔ اس کا ایک ایک قدم سو سو من وزنی ہو رہا تھا۔ آنے والا منظر ابھی سے اسے دہلائے دے رہا تھا۔

خواب گاہ کے دروازے پر رک کر اس نے دستک دی۔ اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے ایک بار اور دستک دی پھر اور اندر داخل ہو گیا۔ وہ ہر طرح کے ڈراوّنے منظر کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔  لیکن اس کی   آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔ وہ ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہ گیا۔

بستر پر ایک نہایت حسین و جمیل جوان دوشیزہ نیم دراز تھی۔ بادشاہ کو لگا وہ کسی غلط کمرے میں آگیا۔

” معاف کیجیئے گا۔ میں غلطی سے ادھر آگیا” اس نے ہمت کر کے کیا۔

” نہیں بادشاہ آپ صحیح جگہ آئے ہیں” نازنین نے سریلی آواز میں کیا۔

وہ اب بھی حیرت زدہ سا تھا۔ نازنین نے اشارے سے اسے پاس بلایا۔ وہ سحر زدہ سا اس کے  قریب آ کر بستر پر بیٹھ گیا۔

بادشاہ نے آنکھیں ملیں۔

” آئیے بادشاہ سلامت” نازنین کی سریلی آواز گونجی۔ بادشاہ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنا ہاتھ بادشاہ کی طرف بڑھایا۔ بادشاہ نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا اور یک لخت وہ سڈول کلائی مرجھا گئ۔ بستر پر وہی جادوگرنی نیم دراز تھی۔ بادشاہ کا بڑھا ہوا ہاتھ سا رک گیا۔ لیکن اس نے ہاتھ واپس نہیں کھینچا بلکہ جادوگرنی اور اپنے موجودہ رشتے کے احترام میں بادشاہ نے وہ استخوانی ہاتھ تھام لیا۔ بستر پر اب پھر وہ حسینہ نظر آئی۔ بادشاہ الجھ کر رہ گیا۔

"آپ۔۔۔ آپ کون ہیں۔ اور وہ کہاں ہیں؟”

” وہ جادوگرنی؟” نازنین نے پوچھا۔

” نن نہیں  وہ دلہن ۔۔۔ میری بیوی۔”

” وہ میں ہی ہوں۔۔۔ ” وہ مسکرائی۔

بادشاہ مبہوت  اسے تکے جا رہا تھا۔

” لیکن آپ۔۔۔ آپ ایسی کیسے ہو گئیں؟” اس کے  منھ سے بمشکل الفاظ نکلے۔

” بادشاہ آپ نے مجھے عزت دی، میرا احترام کیا، مجھ سے کیا وعدہ نبھایا۔ میرا ہاتھ تھاما۔ اس لیے اب یہ ہوسکتا ہے کہ میں  دن کے کچھ حصے میں اس خوب صورت روپ میں آپ کے ساتھ رہوں گی۔ فیصلہ آپ کیجیے کہ کس وقت مجھے حسین دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔

سوچ کر بتایئے کہ آپ مجھے دن کے وقت حسین دیکھنا چاہتے ہیں یا رات میں؟” وہ مسکرائی۔

بادشاہ کا دل اس زور زور سے دھڑکا کہ اپنی دھڑکن خود اسے بھی سنائی دینے لگی۔

” کہیے بادشاہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ "

اب بادشاہ سوچ میں پڑ گیا کہ کیا جواب دے۔ کیا اس کا حسین روپ دن  میں چاہوں تاکہ سب کے سامنے فخر سے اسے دکھا سکوں۔ لوگ مجھ پر ترس کھانے کے بجائے رشک کریں۔ یا پھر اس کیا یہ روپ رات کی تنہائی میں چاہوں اور اس کی حسین قربت سے لطف اندوز ہو سکوں؟

یہ ایک بہت ہی اہم سوال تھا۔ بادشاہ گہری سوچ میں پڑ گیا۔

لیکن اس سے پہلے کہ آپ بادشاہ کا جواب جانیں وہ مرد حضرات جو یہ کہانی پڑھ رہے ہیں ان سے درخواست ہے کہ اگر آپ کو کسی اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تو آپ کا جواب کیا ہوتا؟

اب بادشاہ کا جواب سنیے۔

بادشاہ نے کہا۔

” انتخاب کا حق آپ کا ہے۔ اپ جو چاہیں جیسا چاہیں وہی کریں۔”

یہ سننا تھا کہ جادوگر حسینہ کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا، وہ بولی۔

” بادشاہ آپ نے مجھے انتخاب کا حق دیا۔ آپ کی اس بات نے مجھے حسین بنا دیا۔ اب دن ہو یا رات میں اسی روپ میں آپ کے ساتھ رہوں گی۔ اور میری عمر آپ ہی کی عمر کی مناسبت سے بڑھے گی۔ میں آپ کی ساتھی ہوں۔ آپ کا سہارا ہوں۔ آپ کی قوت ہوں۔ آپ کی محبوبہ ہوں اور آپ میرا انتخاب ہیں۔”

اور یوں وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

5 thoughts on “عورت کیا چاہتی ہے؟”

    1. خادم بھائی انتخاب کا حق عورت کو اللہ نے دیا ہے، فطرتِ انسانی کے تحت بھی اور دینِ فطرت کے مطابق بھی، اور یہی وہ حق ہے جس سے وہ محروم کردی گئی ہے، اب عورت اپنا انتخاب کا حق چاہتی ہے تو یہ حکمرانی تو ہرگز نہیں ہے۔
      اور اگر حکمرانی بھی ہو تو بحیثیت انسان عورت دیگر تمام انسانوں کی طرح حکمرانی کی بھی حق دار ہے۔

      1. حمیرا بہن دراصل میرا کہنا ایک طنزیہ بیان تھا۔ نادرہ بین اس سے بخوبی واقف ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عورت اور مرد کے حقوق کی بحث ہی بے معانی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام انسانوں سے مخاطب ہے اور عورتیں بھی انسان ہیں لہذا ان کے حقوق میں کوئی فرق نہیں ۔ باقی دراجات نیک اعمال کے مرہون منت ہیں جو بھی قوانین خداوندی کی پاسداری کرے گا اس کے درجات بلند ہوں گے۔

        1. شکریہ خادم بھائی،
          دراصل نادرہ جی آپ سے واقف ہیں ایک عام قاری نہیں، لہٰذا میں نے بھی ایک عام قاری ہونے کے ناتے اپنا ردعمل پیش کیا۔
          تاہم مجھے ابھی آپ کے خیالات جان کر ازحد مسرت ہوئی۔ سلامت رہیں!

اپنی رائے کا اظہار کیجیے