لائف اسٹائل نقطۂ نظر

ایک بے مثال ہیرو۔۔۔ باپ !

مائیں ٹھنڈی چھاؤں ہوتی ہیں تو باپ اس ٹھنڈی چھاؤں کے لیے سر پر تنا ایک سائبان جو موسم کی ہر سختی جھیلتا دھوپ کی تمازت سہتا نہ صرف اولاد کے لیے اس  ٹھنڈی چھاؤں کو برقرار رکھتا ہے  بلکہ انھیں زمانے کے سردو گرم سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔ گو ماں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے بظاہر اولاد جذباتی طور پر ماں سے زیادہ  اٹیچ ہوتی ہے لیکن پہلی مسکراہٹ، گود میں جانے کے لیے  مچلنے کی پہلی فرمائش اور باپ کی بانہوں میں ملنے والے تحفظ کے پہلے احساس کے ساتھ باپ سے جُڑنے والے رشتے کا قطعی طور پر کوئی متبادل نہیں۔ شاید کوئی دوسری عورت بھی ماں سے کچھ کم محبت دے سکے لیکن باپ جیسی محبت و شفقت کسی دوسرے فرد سے ملنا ہم نے تو ناممکن ہی دیکھا ہے۔

خدا کے بعد دنیا میں انسان کا پہلا دوست، پہلا سہارا، ان داتا، مربی، مہربان، رہنما، استاد، سپر ہیرو، فائٹر، زندگی پر بھروسے اور یقین کا مضبوط قلعہ، بیٹیوں کا مان، بیٹوں کا اعتماد۔  زمین پر پہلی بار مضبوطی سے قدم جمانے، پہلی بار جس کے سہارے ہاتھ پکڑ کر چلنے سے لے کر زندگی بھر ہر مشکل، آزمائش اور پریشانی میں جس کے موجود ہونے کا احساس اولاد کے دل کو  کسی بھی خوف سے محفوظ رکھتا ہے وہ باپ ہی کی ذات ہے۔ زندگی میں رنگ ماں، بہنوں، بھائیوں اور دوستوں سے جُڑے ہوں تو بھی ان رنگوں کے رنگ ریز تو بابا جانی ہیں۔ گھر میں ماں فرمائش پر کھانے بنا کر ہاتھوں سے کھلائے اور ہم نخرے دکھاتے رہیں لیکن باپ کا ایک پیار بھرا لمس، میری بیٹی بابا کے ہاتھ سے کھانا کھائے گی کا جملہ سن کر جھٹ باپ کے گلے میں بانہیں ڈالے میٹھی میٹھی باتیں کرتے ہر رنج بھول جاتا ہے۔

باپ  کے نہ ہونے سے زندگی جس طرح یک دم خالی اور ویران ہوجاتی ہے، جس طرح زمانے کی سختی اور  تمام رشتوں ناتوں کے ہونے کے باوجود افراد کے ہجوم میں تنہا رہ جانے کا احساس دامن گیر ہوتا ہے ایسا صرف وہی محسوس نہیں کرسکتے جو  اس رشتے سے محروم ہوچکے ہیں، میں خود کبھی اس وقت کا تصور بھی نہیں کرپاتی۔ کسی کے سر سے باپ کا سایہ چھن جانے کی کسی الم ناک خبر پر مغفرت کی دعا کے ساتھ رو رو کر میں اپنے اور اپنی بیٹیوں کے باپ کی سلامتی کی دعا کرنے لگتی ہوں۔ 

 بیٹیوں کا تو مان ہی باپ کے دم سے ہوتا ہے۔ میکے کا حسن، ماں کے گھر دوڑ کر جانے کی چاہتیں، اور وہاں کی مسرتیں ایک ہی شخص کی تو مرہونِ منت ہوتی ہیں۔۔۔ میرے ابو، ابو جی، بُو جی، بابا، پاپا، بابا جانی، بابو، ابا، ابا میاں، اور کبھی کبھی مزید لاڈ میں آکر، خاص طور پر کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے ‘ کیا شاٹ ہے یار ماریں تالی’  تک محبت کا ہر اظہار باپ کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے۔ بچپن سے جوانی تک اور پھر اپنے آنگن سے پھولوں کے سنگ رخصت کرتے باپ،  شعور کی آنکھ کھولنے سے لے کر آج خود بچوں کے ماں باپ ہونے تک کے سارے مناظر، ہر عکس ان کے بغیر  پھیکا اور ادھورا ہے۔ اپنے نام کے ساتھ جُڑا ان کا نام میرا فخر، میرا سرمایہ اور میرا اثاثہ۔ بچپن میں ان کے نام کو سو سو انداز سے لکھنا اور پھر ان کو دکھانا، کھلونوں اور گڑیوں کی ضد کرنا، اور پھر گڑیا لے کر بھائی جیسی سائیکل چلانے کو مچلنا، کسی سے دکھ پہنچے یا کوئی تنگ کرے تو  فوراً دھمکی دینا’ بابا کو بتاؤں گی’ اور پھر سارے دن کے تھکے ہارے ابوکی گود میں بیٹھ کر سب گھر والوں کی شکایتیں لگانا، دن بھر کے قصے سنانا، گڑیا کے چوٹ لگ گئی ہے تو اباجان  سے اس کی مرہم پٹی کروانا، پاپا  کے کاندھے پر بیٹھ کر ماما سے بھی اونچے ہوجانا اور کبھی ان کا ہاتھ پکڑے پورے محلے کی سیر کرنا۔ کسی دوست کے پاس کوئی جیومیٹری، کوئی پین، پنسل، کھلونا یا ایسی ہی کوئی چیز دیکھنا اور پھر ساری مارکیٹ میں انھیں لیے پھرنا، بابا کے تھک ہار کر پوچھنے پر کہ ‘کیسا تھا وہ ڈول ہاؤس بیٹا، یا کسی تھی وہ گاڑی بیٹا؟’ تو جواباً کہنا کہ ‘بہت اچھا تھا’ اور اس جواب پر ان کا نئے سرے سے مارکیٹ کی ہر دکان پر وہ ‘ بہت اچھا کھلونا’ تلاش کرتے چلے جانا۔ باباجان کے سنگ پہلے دن اسکول جانے سے لے کر روز ان کے گلے لگ کر اسکول جانے تک اور کسی بھی تعلیمی کامیابی پر سب سے پہلے باباجان کو بتانا، اپنی کاپیاں کھول کھول کر ان پر روز ملنے والے اسٹارز دکھانے سے لے کر ان کی آنکھوں میں جھلملاتی خوشی جینے تک، یادیں ہی یادیں ہیں!

ہر یاد آنچ دیتی، خوشی اور اداسی کے سنگم پر بیٹھی جب بطور بیٹی اپنا گھر آنگن چھوڑنا اور کسی اور گھونسلے میں بسیرا کرنا ہی ہوتا ہے۔

 بچوں کے لیے باپ ایک سپر ہیرو اور فائٹر ہوتا ہے۔ بچپن میں سب بچے جب بیٹھتے تو ایک دوسرے پر یہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے کہ ان کے بابا سے زیادہ تو بہادر کوئی نہیں۔ بابا تو چھپکلی کو بھی مار سکتے ہیں اور جن بھوت کو بھی۔  ارے میرے بابا تو اونچی بلڈنگ سے بھی کُود جاتے ہیں اور انھیں چوٹ بھی نہیں لگتی۔ میرے بابا تو  جان سینا سے بھی جیت سکتے ہیں۔ میرے بابا تو ٹرک بھی چلا سکتے ہیں، شیر کو چت کرسکتے ہیں،  ڈاکو کو مار سکتے ہیں، ارے سپر مین تو کچھ نہیں ہے میرے بابا کے سامنے۔ لڑکوں کے لیے بالخصوص بابا کی بات چیت کا انداز، بابا کے کپڑے ، ان کے جوتے، ان کی گاڑی، ان کی گھڑی، ان کی کتابیں، ان کے تکیے پر سر رکھ کر سونا، بہت بڑی فینٹسی ہوتی ہے۔ روزانہ بابا کے  آفس یا کام سے واپس آنے پر دوڑ کر ان کے گلے لگنا جیسے برسوں  کے بچھڑے ہوئے ہیں، بابا کے شوز اپنے ہاتھ سے اتارنا، تھوڑا بڑے ہونے پر ان کے ہاتھ سے ریموٹ لے کر کارٹون چینل  لگا دینا، پھر کارٹون دیکھتے ہوئے نہ صرف بابا کو ساتھ بٹھانا بلکہ ان کا چہرہ اپنی طرف موڑ موڑ کر اپنے فیورٹ کردار دکھانا۔ بابا کے ساتھ جھوٹ موٹ کی فائٹنگ کرنا، اور جب بابا اٹھا کر سر سے اچھال دیں تو کامل یقین کے ساتھ کھلکھلا کر ہنسنا کہ اب ہم گر نہیں سکتے۔  بابا کو گھوڑا بنا کر یا ان کے کندھوں پر بیٹھ کر  سواری کرنا، ماما سے جھوٹ موٹ کی لڑائی میں ہمیشہ بابا کی حمایت میں ان سے چپکے ہونا،  بلڈنگ بلاکس سے لے کر پزل گیمز تک، پستول چلانے سے لے کر ریسلنگ اور کرکٹ میچ دیکھنے تک، اور پھر بابا سے چھپ کر پہلی بار سگریٹ پینے سے لے کر بابا کے ساتھ لائٹر شیئر کرنے تک، بچپن کی دوستوں کے قصے سنانے سے، منگیتر کے ذکر پر شرمانے اور پھر ان کی بہو لانے ان جیسا باپ بننے کی آرزو اور اپنے بچوں کو اپنے بابا کے قصے سنانے تک، ان گنت کہانیاں، ان گنت محبتیں ہیں!

اوسط عمر ساٹھ برس ہو یا ہم اسی برس بھی جی جائیں لیکن میں نے یہی جانا ہے کہ جب بھی پیچھے مڑ کر دیکھوں وقت اپنی صفیں انتہائی تیزی سے پلٹتا دکھائی دیتا ہے۔ ابھی بچپن تھا، کب جوانی آئی، اور کب ہم خود ماں باپ بن گئے۔۔۔ انسانی زندگی کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے ۔ اس مختصر عرصے میں زندگی جینے  کا نسخہ یہی محبتیں ہیں، سچے رشتوں کی محبتیں۔ اولاد اور والدین ، جینے کا مقصد انھی دو ستونوں کے گرد لپٹا نظر آتا ہے۔ محبتوں کے بغیر زندگی ادھوری ہے، آئیے یادیں بنُتے ہیں، میٹھی، سہانی یادیں۔۔۔  حالات کی تلخی، دنیا کی مشکلات، اور غمِ آلام و روزگار، عالمی سیاستوں، ملکی قیادتوں، زیست کی تمازتوں سب کے آگے سیسہ پلائی دیوار ، ہمارے سچے رشتے کی کھٹی میٹھی یاد!

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

One thought on “ایک بے مثال ہیرو۔۔۔ باپ !”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے