مذہب

عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ

تَتَفکّرُو
یہ جو کہا جاتا ہے کہ دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کانام۔ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں۔ مذہبی پیشوائیت نے یہ بات مسلمانوں کے ذہنوں میں پختہ کر دی ہے کہ انسان کی پیدائش  کے ساتھ  ہی اس کی تقدیر بھی لکھ دی جاتی ہے۔ پھر انسان کا ہر قدم اس تقدیر کے مطابق اُٹھتا ہے ۔آپ نے اس دنیا میں کتنے سانس لینے ہیں وہ پہلے سے لکھ دیے گئے ہیں۔ اسی لیے   کہا جاتا ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں۔ موت کا ایک دن اٹل ہے اس لیے   آپ جو مرضی کر لیں، ڈاکٹر جتنا علاج کر لیں جتنی چاہے کوشش کر لیں موت نہیں ٹل سکتی۔
رزق بھی پہلے سے لکھ دیا گیا ہے جو دانہ کسی کے نصیب میں ہے وہ دانہ اس کے منھ میں ضرور جائے گا۔ جو اُس کے نصیب میں نہیں وہ لاکھ کوشش کے باوجود اُس کے منھ میں نہیں جائے گا۔ اگر کھا بھی لے تو اُلٹی کی صورت میں پیٹ سے بھی باہر نکل آئے گا۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ رشتے بھی آسمانوں پر بنتے ہیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوق بنایا پھر اسے اختیار اور ارادہ دیا، اسے عقل دی تاکہ اسے استعمال کیا جائے۔ اگر عقل و شعور تو ہولیکن اسے استعمال کی اجازت نہ ہوتو یہ ساری نعمتیں بے سود ، بے مقصد اور بے معنی ہو جاتی ہیں ۔
جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو تتفکرو کا حکم دیا ہے تو اس سے یہی مراد ہے نا  کہ یہ جو تربوز نما سر گردن پر رکھا ہوا ہے اسے کام میں لانے ، سوچ و بچار اور عقل شعور سے کام لینے کا حکم ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرمایا کہ مومن وہ ہے جو آیاتِ خداوندی پر بھی اندھا اور بہرا بن کر ایمان نہیں لاتا ۔
–     اگر یہ تصّور کر لیا جائے کہ انسان کی تقدیر پہلے سے لکھ دی گئی ہے کہ اس سے کون سے اعمال سرزد ہوں گے۔ کب بیمار ہوگا، کب شفا  ملے گی۔ کتنی دیر زندہ رہے گا،  اس کے علاوہ کون کون سی مصیبتوں یا خوش حالیوں سے گزرے گا

پھر اگر وہ اپنی مرضی سے کو ئی عمل کرنا چاہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ تقدیر کے لکھے کو مٹانے کی بے مقصد کوشش کر رہا ہے۔ ہونا تو وہی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھا ہے۔ پھر کچھ سوچنے اور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے، یا حیوان اور انسان میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ یا اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت یعنی اختیار اور ارادہ جس کی وجہ سے انسان اشرف المخلوقات ٹھہرا بالکل بیکار ہے۔
–  دوسری بات یہ کہ اس سے سزا اور جزا کا جو قرآنی تصّور ہے وہ بھی بے معنی ہوجاتا ہے ۔ انسان کی جنتی اور جہنمی زندگی کا دارومدار اعمال پر ہے۔ اچھے اعمال اسے جنت کی طرف لے جانے کا سبب بنتے ہیں اور بد اعمال جہنم کی زندگی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اسی لیے   اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمھاری ذرّہ  برابر نیکی اور ذرّہ برابر بُرائی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ نیکی اور بُرائی کا پورا پورا بدلہ ملے گا اس لیے   کہ اللہ تعالیٰ سریع الحساب ہے۔
پھر اگر کوئی شخص بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیتا ہے، انسانیت کے دُکھوں کا حل تلاش کرتا ہے تو اس میں تو اس کا عمل دخل کچھ نہ ہوا ۔ اس نے تو وہی کچھ کیا جو اس کی تقدیر میں لکھا تھا۔ اب اُس کی حوصلہ افزائی کرنا، انعام و اکرام سے نوازنا اور تمغات دینا چہ معنی دارد۔
پھر اگر  ایک شخص نہایت گھناؤنا فعل انجام دیتا ہے یہاں تک کہ وہ قتل کا مرتکب ہوتا ہے تو اس میں اس بیچارے کا کیا قصور؟  اُس شخص کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا تھا اِس کی تقدیر میں قتل کرنا۔ معاملہ ختم ۔ اب مسلمانوں کے ہاں قتل کو قانوناً جُرم قرار نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی قاتل کو پھانسی اس لیے   کہ یہ سارا تقدیر کا کھیل ہے۔
لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے اس تصّور کی بھی نفی کی ہے  اور قتل جیسے فعل کو ناپسند فرمایا ہے اور اس کی سزا بھی سخت سے سخت مقرر کی ہے۔ پہلے تو اس جُرم کو دو شقوں میں تقسیم کیا ہے ۔ قتلِ عمد اور قتلِ خطا۔ قتل عمد یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو ارادتاً قتل کرے یا مار ڈالے یعنی قتل کی نیت سے کسی پہ ہتھیار اُٹھانا۔ لاٹھیو ں سے، چاقو چُھری سے یا بندوق اور پستول کا استعمال کرکے یا کسی بھی طریقہ سے کسی کو مار ڈالنا۔ ایسا قتل قتلِ عمد کی شق میں آتا ہے اور قرآن کریم نے اس کی سزا موت مقرر کی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تقدیر پہلے سے کوئی لکھی ہوئی چیز نہیں بلکہ انسان سے جو عمل سرزد ہوتا ہے وہ اس کی تقدیر بن جاتا ہے ۔ قتل عمد آدمی کے اپنے ارادے اور عمل سے وقوع پذیر ہوتا ہے اسی لیے   اس کی سزا مقرر کی گئی ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے قانون کے مطابق بھی سزا اُسی کو دی جاتی ہے جو انسان عقل و شعور کا مالک ہو وہ ذہنی مریض  نہ ہو۔ 
قتلِ خطا یعنی کسی غلطی سے قتل ہو جانا جس میں انسان کی مرضی یا ارادہ شامل نہ ہو۔ مثلاً آپ شکار کرنے گئے ہیں اور کسی جانور پرگولی چلائی لیکن گولی بد قسمتی سے کسی شخص کو لگی اور اس کی موت واقع ہو گئی حالانکہ اس شخص کو مارنے کا آپ نے نہ تو کوئی ارادہ کیا اور نہ ہی نیت یا خیال۔ ایسے قتل کی سزا کی موت نہیں ۔ اس کی سزا دیت بھی ہے۔ یعنی لواحقین اگر اس غلطی کو معاف کردیں تودیت ایک قسم کا معاوضہ ہے۔ اب دیت کے بارے میں بھی کافی اختلاف ہے کہ عورت کی دیت یعنی قیمت مرد کے مقابلے آدھی ہوگی یعنی خصوصی رعایت ففٹی پرسنٹ ڈسکاؤنٹ۔
اب دیکھتے ہیں کہ بات دراصل ہے کیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اس نے ہر چیز کے اندر اپنا ایک قانون مقرر کردیا ہے وہ قانون اس شے  کی تقدیر کہلاتا ہے ۔ تقدیر قدر سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں پیمانے یا قانون۔ جیسے آگ کی تقدیر یہ ہے وہ جلاتی ہے اور حرارت پہنچاتی ہے۔ پانی کی تقدیر یہ ہے کہ وہ پیاس بُجھاتا ہے، ڈھلان کی طرف بہتا ہے ، سو ڈگری درجہ حرارت پر اُبلتا ہے اور صفر درجہ حرارت پر جم جاتا ہے، اسی وجہ سے پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی پانی برف کی شکل میں محفوظ رہتا ہے ۔
زہر کی تقدیر ( قدر یا قانون ) ہے کہ ایک خاص مقدار میں ہلاکت خیز ہے۔ بکری گھاس کھاتی ہے اور شیر گوشت یہ سب قدریں یا پیمانے ہیں جنہیں ان چیزوں کی تقدیر کہہ سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی پیدائش کے ساتھ  ہی ان میں رکھ دی ہے۔ اب انسان کو پیدا کیا تو اس کے اندر اختیار اور ارادہ بھی رکھ دیا۔ اب انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ پھانسی چڑھ کر اپنی ہلاکت کا باعث بنے یا کوئی دوسرا غّصے ، طیش اور دُشمنی کی بنا پر اسے ہلاک کر دے۔ یہ اس کی اپنی مرضی اور اپنا عمل ہے اسی لیے   وہ اپنے اس عمل کے نتائج کا ذمہ دارہے۔
انسان اور حیوان میں یہی ایک خصوصی فرق ہے کہ انسان اپنی مرضی کا مالک ہے اسی لیے جزا اور سزا بھی انسان کے لیے   ہی رکھی گئی ہے۔ حیوان کے لیے   سزا اور جزا اور نیکی بدی کا کوئی تصّور نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ انسان جس کی تخلیق کی ہے اس قابل نہیں کہ تن تنہا اپنی عقل کے سہارے زندگی کے تمام مسائل کا حل تلاش کر لے اس لیے   اس کی رہنمائی  کے لیے   اپنے بر گزیدہ بندوں یعنی انبیا اور رُسل کے ذریعے اس کی رہنمائی  کر دی ۔ اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت محمدﷺ کی نبوت تھی جنھوں نے انسانوں کی رہنمائی  کے لیے   اپنی زندگی کو بطور نمونہ پیش کیا اور اس رہنمائی کو قرآن کریم کی شکل میں محفوظ کر کے اس اُمت کو دیا۔ وحی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کو مجبور نہیں کیا بلکہ کہا کہ تمہارے لیے  صحیح اور غلط راستے کی نشاندہی کر دی گئی ہے اب یہ تمھاری مرضی پر منحصر ہے کہ تم کون سا راستہ اختیار کرتے ہو لیکن یاد رکھو تم جو بھی راستہ اختیار کرو گے نتیجہ اسی کے مطابق نکلے گا۔ زہر کھانے سے ہلاکت اور شہد سے صحت۔ اچھی غذا، اچھی آب و ہوا ، اچھا اور صاف سُتھرا ماحول تمہارے لیے صحت یابی اور آسائش و سکون کا باعث بنے گا اور بھوک، غربت اور تنگ دستی تمہارے لیے تکلیف دہ اور خُدا کا عذاب۔ اسی طرح اتحاد کی تقدیر، قوت و طاقت، جاہ و حشمت ہے اور فرقہ پرستی میں کم زوری ، مایوسی اور انتشار ہے۔ اسی لیے فرقہ بندی کو اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے اور شرک کو بہت بڑا جُرم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فرقہ بندی سے محفوظ رکھے اور مسلمانوں کو یہ شعور نصیب کرے کہ وہ فرقہ بندی کی لعنت سے محفوظ رہیں ۔
لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اس سلسلہ میں بہت سے واقعے اور قصّے سنائے جاتے ہیں کہ فلاں میاں بیوی گھر کے اندر بیٹھے تھے اچانک ایک ٹرک آیا، گھر کی دیوار توڑتاہوا گھر میں گھُسا اور آدمی کو کُچل دیا ، ساتھ بیٹھی عورت بال بال بچ گئی۔ اللہ نے اُس آدمی کی اس دن موت لکھ دی تھی لیکن آدمی بالکل صحت مند تھا اس لیے   اللہ نے اس کی موت کا یہ سبب بنایا ۔ اس لیے کہ موت کے لیے جو گھڑی لکھ دی گئی ہے وہ ٹل نہیں سکتی ۔ سبحان اللہ کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اُس ڈرائیور کا پولیس نے کیا حشر کیا ؟ یا اُس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے کہ یہ وہ ڈرائیور ہے جس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اللہ کی تقدیر کو پورا کیا۔
اگران کے کہنے کے مطابق واقعی اس نے اللہ کی تقدیر کے مطابق ایک شخص کو ہلاک کر ڈالا ہے تو پھر پولیس اسے پکڑ کر کیوں لے جاتی ہے اُس پر مقدمہ کیوں چلایا جاتا ہے اسے سزا کیوں دی جاتی ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ اپنا کام کرتا رہتا ہے اور دُنیا کی عدالت اپنا؟

ایک اور مثال کھیتی کی لے لیجیے:
ایک کھیت میں ایک بہت گنہگار، چور اُچکا، بدمعاش، ایک صالح بیج ڈالتا ہے اسے روشنی، پانی اور ہوا بھی مہیا کرتا اور اس کی بھر پور نگرانی کرتا ہے۔ لیکن کھاد نہیں ڈالتا۔
اسی طرح کے کھیت میں ایک غیر مسلم، لادین اور اسلام دشمن شخص  بھی صالح بیج ڈالتا ہے اسے کھاد، روشنی، پانی اور ہوا بھی مہیا کرتا اور اس کی بھر پور نگرانی کرتا ہے۔
ایک شخص جو مسلمان ہے صوم و صلوٰۃ کا پابند، متقی پرہیزگار، نیک اور رحم دل بھی ہے، غریب پروراور خدا ترس بھی ۔ بیج تو صالح ڈالتا ہے باقی سب کچھ تو کرتا ہے لیکن نہ کھاد ڈالتا ہے نہ پانی دیتا ہے۔ 
اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس شخص کی تقدیر میں اچھی فصل کا پھل لکھا ہے ؟
مومن کی شان ہی یہی ہے کہ وہ چیزوں میں اللہ کی تقدیر کو تلاش کرے اس کے اچھے نتائج سے بھرپور فائدہ اُٹھائے اور انسانیت کی خدمت کرے اور اس کی بُری تقدیر سے خود بھی محفوظ رہے اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھے۔ اسی کو کہتے ہیں کہ اپنی تقدیر خود لکھنا۔
خالی رکھی ہے نامۂ حق نے تیری جبیں 
تو اپنے قلم سے خود اپنی تقدیر لکھ !!!!
اور علّامہ اقبال نے فرمایا :
عبث ہے شکوہ  تقدیرِ یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے
ذرا سوچیں اگر ہم یہ تصّور کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے تقدیر پہلے سے لکھ دی ہے تو پھر یہ  ڈکیت اور غبن کرنے والے ، یہ اسمگلر اور ذخیرہ اندوز، یہ زانی اور عصمت دری کرنے والے، یہ پیشہ ور عورتیں ، یہ لُوٹ کھسوٹ، چوری چکاری، یہ چالاکی و مکاری ، یہ قاتل لُٹیرے سب کچھ تقدیر کے مطابق نہیں کر رہے؟دوسری طرف یہ نیک اور پارسا، رحم دل اور حساس لوگ ، یہ سخی اور درویش، عبادت گزار اور ہمدرد، بے یاروگار انسانوں کی مدد کرنے والے لوگوں کا اپنا کیا کمال ہے وہ بھی تقدیر کے لکھے کے مطابق کررہے ہیں؟ یا کشمیر پر بھارتی قبضہ، فلسطین پر اسرائیلی تسلط، افغانستان اور عراق کی تباہی سب تقدیر کا لکھا ہے؟ اس میں امریکہ کا کیا قصور ہے وہ بیچارا تو اللہ تعالیٰ کی لکھی تقدیر کو پورا کرنے کا فریضہ انجام دے رہاہے۔

تتفکّرو ! آپ بھی سوچیے!

ملک خادم حسین
محکمہ تعلیم سے گذشتہ 33 برس سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ قرآنک ریسرچ، ناروے کے چیئرمین بھی ہیں۔ ان کا مقصدِحیات قرآن کریم کا مطالعہ اور غور و تدّبر، روایتی نہیں بلکہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق، قصّے کہانیوں اور روایات سے ہٹ کر یہ معلوم کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں براہ راست ہمیں کیا پیغام دیتا ہے۔

5 thoughts on “عمل سے فارغ ہوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ”

  1. اگر اچھی یا بری قسمت نہیں ہوتی تو اتفاقات کیا چیز ہیں جو اکثر و بیشتر پوری انسانی زندگی کا ڈھب ہی بدل جاتے ہیں۔ اس پر روشنی ڈالیے پلیز

    1. Alt skjer ved Allahs lov ved menneskets handling, men noen ganger kommer en naturkatastrofe også av Allahs lov som vi ikke kjenner grunnen til, fordi vi ikke visste nok kunnskap om det ennå.Hver handling (ammal) har noen reaksjon (raddeammel) som får handlingen som resulterer i god handling, har gode resultater og dårlig handling har dårlige resultater. Når mennesket gjør feil handling skje ved en feil, må resultatene være dårlige, for deg ellerfor de andre ved dine handlinger, da Allah hadde gitt deg kontroll over handlingen din (ikhtiar), så er du ansvarlig for handlingen din og være klar for Allahs lov som konsekvenser som reaksjon eller av lovgivningen land der du bor.hilsen QQ

      1. سر اگر آپ کا جواب اردو زبان میں ہو تو سمجھنے میں بہت آسانی ہوجائے گی۔ نادرہ جی اگر آپ اس کا ترجمہ کر سکیں تو مہربانی ہوگی۔

    2. بعض اوقات ایسے واقعات سرزد ہوتے ہیں کہ انسان کے عقل و شعور سے بالا ہوتے ہیں ۔ انسان ان کی وجوہات جاننے سے قاصر ہوتا ہے ا ور اسے قسمت کا لکھا تصور کر کے قبول کر لیتا ہے ۔ دراصل یہ اللہ کا قانونِ مکافاتِ عمل ہے ۔ ہر عمل کا ایک نتیجہ ہوتا ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔ ذرّہ برابر نیکی اور ذرّہ برابر بُرائی کا بدلہ ملےگا۔ تو بات اعمال کی ہورہی ہے ۔
      اگر ہم کہیں کہ افریقہ میں بھوک پیاس سے بلکتے بچوں کی قسمت اللہ نے لکھ رکھی ہے تو پھر اللہ تعالی ٰ کی صفت رحمانیت کہاں گئی ، رزاقیت کا کیا بنے گا ۔ ربوبیت کا کیا ہوگا۔ دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ ہر جاندار کے رزق کی ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے ۔ پھر وہ اُن بچوں کو رزق کیوں نہیں فراہم کر رہا۔ دراصل اللہ نے دنیا میں اتنا رزق دے رکھا ہے لیکن اس کی تقسیم انسانوں کے ہاتھ میں ہے جب وہ ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں یا قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لئے اناج کو سمندر بُرد کر دیتے ہیں ۔ ایک بڑھے ہوئے پیٹ والا اُس لاغر غریب کے حصّے کا رزق کہا جاتا ہے تو یہ طبقاق پیدا ہوتے ہیں ۔
      خادم ملک

      1. آپ کی فرمائی بات سے سو فیصد متفق ہوں۔
        میری عرض یہ تھی کہ ہم اپنی تمام تر کوشش سے ایک کام کرتے ہیں اور کہیں دو چار ہاتھ ہی پہ لبِ بام رہ جائے تو کوئی اتفاق یوں ہوجاتا ہے کہ نتائج کا رُخ ہی بدل جاتا ہے۔ یہ اتفاقات کبھی ہمیں بےانتہا کامیابی سے ہم کنار کرتے ہیں تو کبھی اذیت کی انتہا سے۔ ہم کسی رشتے کو نبھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو کہیں دوسری طرف اتفاقات کا ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو ہمارے کیے گئے ہر مثبت کو منفی بنا رہا ہوتا ہے۔ کیا یہ اتفاقات بھی ممکنہ تقدیر کا ایک مظہر ہوتے ہیں؟
        کمنٹس میں تبصرے کی بجائے اس پر مفصل تحریر بھی تشفی بخش ہوسکے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے