سماج نقطۂ نظر

اہم ترین سماجی مسئلہ

 کراچی میں واقع کورنگی کے سندھ گورنمنٹ اسپتال میں لڑکی کا قتل۔۔۔ وجہ غلط انجکشن لگنا بتائی گئی، اور پوسٹ مارٹم رپورٹ و دیگر شواہد  سے زیادتی کا انکشاف ہوا۔  یہ محض ایک چھوٹی سی خبر  نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا بہت سنجیدہ المیہ ہے۔ مذکورہ خاتون اسی اسپتال میں کچھ عرصہ پہلے کام بھی کرچکی تھیں اور تب ہی سے شاید شکاری ان کی تاک میں تھے۔ قتل سے پہلے خاتون دانت کے درد کی وجہ سے اسپتال علاج کی غرض سے گئیں جہاں انھیں علاج کے بہانے زیادتی  سے پہلے یا بعد میں غلط انجکشن دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

زیادتی کی سزا اور غفلت سے غلط انجکشن لگ جانے کی سزا ہی میں فرق نہیں ہوتا بلکہ چند دن بعد معاملہ دب جانے پر  کچھ "لے دے کے” معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات تفصیل میں جائے بنا اہلِ خانہ بھی غلط انجکشن کو تقدیر یا موت کا معین وقت مان کر چپ ہوجاتے ہیں۔ کچھ صورتوں میں گھر والوں کو زیادتی کا اندازہ ہو بھی جائے تو زیادتی کرنے والے کو دو چار بد دعائیں دے کر  عزت کے نام پر معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔  لیکن آخر کب تک؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ننھی نشوہ کو غلط انجکشن لگنے کا معاملہ ہو یا  کورنگی بلال کالونی کی چار سالہ رضیہ کی غلط انجکشن سے ہلاکت کا معاملہ، کیا واقعی ہر بار یہ غفلت ہی ہوتی ہے؟  اسپتالوں سے کتنے ہی مریض/ مریضائیں  لاشوں کی صورت باہر آتے ہیں، ان میں سے کتنوں کی  بےحرمتی کی جاتی ہے اور اپنا جرم چھپانے کو موت کے پردے میں لپیٹ دیا جاتا ہے؟ 

گذشتہ دنوں کسی خاتون نے دورانِ آپریشن جنسی زیادتی کی آواز اٹھائی، شور مچا، تھوڑی لے دے ہوئی اور پھر خبر دب گئی۔  ایسی کتنی ہی خواتین ان معاملات میں  چپ کرکے بیٹھ جاتی ہیں کہ اگر بتا دیا تو سب سے پہلے تو شوہر ہی طلاق دے دے گا بدنامی پر۔ اگر غیر شادی شدہ  ہوئیں تو آئندہ شادی کا ہر امکان ختم۔  سماج میں تھو تھو الگ، اور سماجی مقاطعہ  بھی کر دیا جائے گا۔

ہم جو سب سے زیادہ چیئرٹی کرنے والے لوگ ہیں، ہمارے ہاں فرد کے ہر عمل سے پہلے اسے مذہب کے قاعدے قانون بتائے جاتے ہیں، بےتحاشا شبینہ عبادات ہوتی ہیں، ہر گلی محلے میں تین سے چار  مساجد  ہوتی ہیں۔ اسکولوں میں اسلامیات و عربی ناظرہ  کی تعلیم لازمی ہے۔  اس سب کے باوجود کیا وجہ ہے جو ہم اچھے، ذمہ دار، اعلیٰ سیرت و اخلاق کے انسان پیدا کرنے سے معذور ہیں؟ کیا تعلیم یافتہ کیا ان پڑھ ہر شعبۂ زندگی میں منفی سوچ، بے ایمانی، جھوٹ، کام چوری ہی نہیں بلکہ ان سے بھی سنگین تر ” جنسی بھوک”  کا رویہ کیوں باہر آرہا ہے؟

کبھی دوستی، کبھی رشتے داری، محلے داری، تعلق داری، تو کبھی دشمنی کے نام پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی محبت کے نام پر جھانسا دے کر۔ کیوں جنسی اعتبار سے ہر دوسرا فرد فرسٹریشن کا شکار نظر آتا ہے؟ کیوں ہمارے ہاں پورن سائٹس وزٹ کرنے والوں کی تعداد روز افزوں ہے؟ کیوں جسم کی ہوس بڑھتی ہی چلی جارہی ہے کہ افراد، بالخصوص خواتین اور بچوں کا جینا محال ہوچکا ہے۔

جنسی اعتبار سے ہر عمر  اور ہر جنس  کا ہر فرد ہر جگہ غیر محفوظ ہے، خواہ وہ گھر ہو، سڑک ہو، سوشل، میڈیا، دفتر، بازار، اسپتال، تعلیمی ادارہ یا مسجد و مدرسہ۔

کیا حل ہے اس سب کا؟

ذرا سوچیے!

سحر صفدر
آرٹ سے شغف ہے اور تدریس ان کا پیشہ۔ شاید اسی لیے سماج کو تعلیم کے آئینے میں دیکھتی ہیں اور دردمندی سے قرطاس پر منتقل کر دیتی ہیں۔

2 thoughts on “اہم ترین سماجی مسئلہ”

    1. آپ کا کہا بالکل درست ہے، لیکن ہم بحیثیتِ مجموعی کرپٹ اور بدترین انسان ہوتے جارہے ہیں یہ انتہائی پریشان کُن ہے۔ آج ایک خاتون فنکارہ نے ٹوئٹر پر عصمت اور نشوہ کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا تو کسی صاحب نے جوابی کمنٹ کیا Dont take it seriously ۔ یہ تو حال ہے ہمارے لوگوں کا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے