طنز و مزاح

آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

ہمارے ساتھ کل ہی یہ حادثہ پیش آیا۔ ہماری جو شامت آئی تو ہم نے مرزا سے کہہ دیا کہ نئےسال کی شروعات سچ بول کر کریں گے۔ مرزا کہنے لگے بھئی! میرا تو کچھ نہیں بگڑے گا مگر تم اپنے بارے میں سوچ لو۔ یہ جو تم ہومیوپیتھک کی میٹھی میٹھی گولیاں کھانے کے عادی ہو نیم کی طرح سچ کا کڑوا گھونٹ پی سکوگے۔

اگر پھر بھی مصر ہو  تو لو اپنے بارے میں پہلا سچ سنو۔۔

تمہیں یہ خوش فہمی کہ تم پڑھے لکھے تعلیم یافتہ ہو تو میں تمھیں بتا دوں کہ چار حروف جان لینا ، پڑھے لکھے کے زمرے میں نہیں آتا۔نہ ہی تم تعلیم یافتہ ہو۔تمہاری ساری عادتیں اور طور طریقے جاہلوں جیسے ہیں۔

ہم تلملا اٹھے۔میری کونسی عادتیں جاہلوں جیسی ہیں!! اور جیسے تم تو بڑے مہذب ہو۔

یہی تو جاہلوں کی نشانی ہے۔تم نے فوری جوابی وار کر دیا۔یہ نہیں کہ سچ سننے کی ہمت پیدا کرو۔ 

ہم نے مرزا سے کہا اب میری باری ہے تم اپنے بارے میں میرا سچ سنو۔

میں جانتا ہوں۔کیا وہ کہیں گے جواب میں۔تم نے میرے لیے کبھی اچھا کہا ہےجو اب کہو گے۔

ہم نے ایک کم زور سے سچ کا سہارا لیا۔تم بہت کمینے ہو۔

تو کیا، ہر آدمی تھوڑا سا کمینہ ہوتا ہے ۔ کمینگی تو انسان کی ایک صفت ہے۔ خاص طور پر اس مرد کی جو شوہر کہلاتا ہے۔ خاص طور پربیوی کی تعریف کرنے میں۔ پھر تم بتا و کیا تم کمینے نہیں؟ تمھارے دل میں میرے لیے کتنی کمینگی ہے، یہ  بھی میں خوب جانتا ہوں۔ خیر،   اب میں دوسرا سچ کہنے لگا ہوں۔

ہم مرزا کے چہرے کو تکنے لگے۔پتہ نہیں اب یہ کیا سچ اُگلے گا۔

تم سمجھتے ہو کہ تم بڑے تیس مار خاں ہو۔ تم کیا لکھتے ہو۔ تمھارے بارے میں میرے ہم نام مرزا غالب کہہ گئے ہیں،

؎حسن اور اس پہ حسن ظن

دو چار تمہارے جاننے والوں نے تمھاری تعریف کیا کردی کہ تمہیں حسنِ ظن نہیں بلکہ حسنِ زن ہوگیا ہے کہ اپنے آگے کسی کو گردانتے ہی نہیں۔ میاں دو چار سطر گھسیٹ کر خود کو اہل قلم سمجھنے لگے ہو۔

ہم نے بھی جواب میں مرزا پر جواب ِمرزا کر دیا۔

؎ تجھ سے مقابلے کی کسے تاب ہے ولے

سر پھوڑنا وہ غالب ِ شوریدہ حال کا 

اب مرزا گویا ہوئے، تم سمجھتے ہو ۔۔۔۔۔۔

ہم نے مرزا کی بات کاٹتے ہوئے کہ، بقول مرزا

؎ دہنِ شیر میں جا بیٹھے

تمہارا منھ کھل گیا ہے، اب جو بھی کہو

تم مرزا کے اشعار کا حوالہ دے کر مجھے اپنی رائے  سے نہیں روک سکتے۔اب میرے دہن کو دہنِ شیر کہو یا دہن ِمرزا ۔

تم اپنی تحریروں میرا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ میرا نام لے کر اپنا مذاق اڑاتے ہو۔

تم سمجھتے ہو سیاست پر تم گفتگو کرسکتے ہو، میاں تم سیاست کی اب ت اور پے سے واقف نہیں اور کرتے ہو سیاست پر بات۔

ہم نے مرزا سے کہا اب میں بولوں گا اور تم سنو گے۔۔۔

تم ِخود غرض اور جھوٹے ہو۔

پھر تم نے آدمیوں والی صفات دہرا دیں۔مرزا اسی بےدھڑک انداز میں گویا ہوئے،

ہر آدمی اپنی ذات میں خود غرض ہوتا ہے اور رہا جھوٹ بولنا تو اب جب میں سچ بول رہا ہوں تو تم برداشت نہیں کر رہے ہو۔ تمھارا  مسئلہ کیا ہے۔

 لو اب پانچواں سچ سنو۔ تمہیں بہت جلدی غصہ آجاتا ہے.

اچھا!میں بھی تمہارے لیے یہی کہنے والا تھا،  مگر بازی میں مار گیا۔

تم بہت سست الوجود ہو۔اس لیے مار کھا جاتے ہو، مرزا پھر غرائے

؎ یہ بے کفن لاش اسد خستہ جاں کی ہے، پیشتر اس کے کہ مرزا  مزید کچھ اور کہتے ہم نے مرزا غالب  کا شعر پڑھا اور نو دو گیارہ ہوگئے

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے