ہمارے بارے میں

سوچ کو جب ابلاغ کا اذن ملا تو لفظ بنا۔ لفظ جو تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ لفظ ہی خدا کا عطا کردہ اولین انسانی وصف ہے۔ آدم کے اشرف المخلوقات ہونے کی بنیادی وجہ علم ہے، علم الاسما، یعنی لفظ۔ ازل سے آج تک ہر انسانی تعلق اور رشتے کی بنیاد، لفظ ہی ہے۔ جذبات کے اظہار سے حقائق کے بیان تک لفظ کی ہی کارفرمائی ہے۔ لفظ رشتہ ہے اور لفظ ہی محبت؛ لفظ ہی زباں ہے لفظ ہی بیاں، لفظ اظہار، لفظ خیال، لفظ انساں ، لفظ خدا، لفظ تم، لفظ میں، لفظ ہم سب ہیں۔
لفظوں سے جڑنے والے رشتوں میں ایک اہم رشتہ ہے دوستی__ لفظوں کی اس رنگارنگ دنیا میں نوشتہ کی صورت ہم دوستی کا ہاتھ بڑھائے آج آپ کے روبرو ہیں۔ نوشتہ ہمارا خواب ہے اور یقیناً یہ خواب کبھی حقیقی صورت میں نہ آ پاتا جب تک کہ دوستوں کا ساتھ نہ ہوتا۔ وہ تمام دوست جو نوشتہ کی تخلیق و ترتیب میں ہمارے ساتھ شامل ہیں، خواہ وہ ساتھ تکنیکی امور میں معاونت کی صورت میں ہو یا نوشتہ پر اپنے الفاظ و خیالات کے نادر موتی بکھیرنے کی صورت میں، ان سب دوستوں کے پیار اور توجہ پر ہمارے دل نازاں اور مسرور ہیں۔
نوشتہ کا مقصد ہمارے لکھنے والے ساتھیوں اور قارئین کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ اپنے احساسات رقم کرسکیں یا اپنی سوچ کو لفظی صورت میں دیکھ سکیں۔ نوشتہ ہمارے سماج کا کیتھارسس بھی ہے اور ہماری اخلاقی روایات کا امین بھی۔ ہم آزادیِ اظہار کے قائل ہیں تاہم آزادیِ اظہار کے نام پر نفرت کی ترویج کے مخالف بھی۔ ہم ایک صحت مند، معتدل اور متوازن بیانیے کے ساتھ آپ کے ساتھ ہیں۔ نوشتہ پر ہماری کوشش ہوگی کہ آپ کو وہ سب پڑھنے کے لیے میسر آسکے جو نہ صرف سماج و ملکی حالات کے حوالے سے تعمیری سوچ کی تخلیق میں معاون ہو بلکہ معلومات میں اضافے کے لیے بھی مددگار ہو۔ نوشتہ ایک خاندان کی صورت آپ کے ساتھ ہوگا جہاں آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نہ صرف خود تشریف لائیں بلکہ پورے اعتماد سے دوسروں کو بھی نوشتہ کی تحریریں پڑھنے کی طرف راغب کریں۔
وہ لوگ جو اپنی سوچ کا ابلاغ چاہتے ہیں، وہ تمام لکھاری اور نئے لکھنے والے حضرات اپنی تحاریر کے لیے ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے قارئین اپنی آرا، تجاویز، خدشات اور مسائل کے حوالے سے بھی ہمارے ای میل ایڈریس پر ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔