طنز و مزاح نقطۂ نظر

آخر یہ کس کی سازش ہے!

پاکستان میں ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کا من  پسند فقرہ ہے

"یہ سب سازش ہے”

"آخر یہ کس کی سازش ہے ؟”

"یہ سازشی ٹولے کا کام ہے”

ہمارے معاشرے کا رویہ بھی کچھ ایسا ہوگیا ہے کہ ہمیں ہر چیز سے سازش کی بو آنے لگتی ہے۔ ملک کے حالات ابتر ہو گئے ہیں تو پڑوسی ملک کی سازش ہے۔ الیکشن میں دھاندلی کا ذمےدار خفیہ ہاتھ ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اپوزیشن کا ہاتھ ہے۔ بارش زیادہ ہورہی ہے تو امریکہ ملوث ہے، سموگ پھیل گئی تو سرحدوں پر دشمن نے کوئی میزائل داغا ہے یہاں تک کہ ہمارے ملک کے بادل کہیں اور جا برستے ہیں  تو یہ بھی محکمۂ موسمیات کی سازش ہے  وہ سیاسی رہنماوں کی طرح ہمیں خوش خبری کی  نوید تو سنا سکتا ہے مگر نوید پوری نہیں کر سکتا۔

یہ سازش نہیں تو اور کیا ہے۔؟ہم دن بہ دن جھگڑالو اور نفسیاتی ہوتے جارہے ہیں۔ہسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ڈاکٹروں کی سازش ہے۔وہ بھی کیا کریں۔آخر انھیں بھی تو روزی روٹی کمانی ہے۔اس لیے  ڈینگی اور نیگلیریا  وائرس کے پھیلاؤ میں شہباز شریف کا دخل ہے۔

کراچی کا موسم بھی عاشق کامزاج رکھتا ہے ۔اچھا خاصا بھلا چنگا موسم گزر رہا تھا کہ گرمی آگئی اور ساتھ میں حبس بھی لے آئی۔ہمیں کسی کل چین نہیں آرہا تھا۔دل چاہا کہ سمندر کی سیر کر آئیں ۔ہاکس بے پہنچے تو وہاں ایک جمِ غفیر تھا۔ویسے ہی جون جولائی میں سمندر کی لہریں بہت غضب ناک ہو جاتی ہیں۔لہریں قد آدم ہوئی جارہی تھیں۔لہریں ساحل پر بنی ہوئی ہٹ کو چھونے لگیں۔نوجوان تو ویسے ہی بے قابو ہوتے ہیں ، سمندر کی غضب ناک لہروں کو وہ کس خاطر میں لاتے۔چناچہ وہ چلے سمندر کو قابو کرنے۔بپھری موجوں کو اپنے آگے کسی کی سرکشی پسند نہ آئی اور تین نوجوانوں کو سمندر نے نگل لیا۔دوست اور خاندان والوں  نے واویلا مچا دیا۔ساحل پر مامور کوسٹ گارڈ بھی پہنچ گئے۔نوجوانوں کی تلاش شروع ہو گئی۔مجمع سے ایک آواز آئی۔یہ سب حکومت کی سازش ہے۔لوگ ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ہر کوئی اپنی اپنی ہانکنے لگا۔نوجوانوں کے ڈوبنے میں حکومت کی کیا سازش ہوسکتی ہے۔یہ بات میری سمجھ سے بالا تر تھی۔آوازیں آنے لگیں۔حکومت کو ریڈ الرٹ جاری کرنا چاہیے تھا۔عوام کو کیوں بے خبر رکھا جاتا ہے۔یہ سب سازش ہے۔

ہم ہکا بکا رہ گئے۔ اس لیے کہ مون سون شروع ہوتے ہی اخبار اور ٹی وی کے ذریعے عوام کو باخبر تو کیا جا رہا تھا کہ اس موسم میں عوام سمندر سے فاصلے پر رہیں۔ مگر من کی موج کے آگے کون بند باندھ سکا ہے۔ وہ ہر بند کو توڑ کر وہی کرتے ہیں جن سے ان کو منع کیا جاتا ہے۔ یہ جوا نوں کی فطرت ہے اور پھر سارا الزام سازش کے سر آجاتا ہے۔

اسی پر بس  نہیں۔ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی ساس نندوں کی سازش ہے۔ بچہ امتحان میں فیل ہوا تو استاد کی سازش ہے ۔ حد تو یہ کہ کل محترم صدیقی صاحب (ہمارے پڑوسی) نے فرمایا، جعفری صاحب!  آپ  نے غور کیا ہر روز کچرے کی بالٹی الٹی ہوئی ملتی ہے۔ ہو نہ ہو یہ انور صاحب  کی سازش ہے۔ جعفری صاحب نے ایک لاحول پڑھی اور کہا کہ یہ بلی کی سازش ہے۔

ملک میں الیکشن ہوئے عوام نے بڑھ چڑھ کر اپنےنمائندوں کو ووٹ دیا۔ہار نے والوں نے فورا ایک بیان داغ دیا، ان کی ہار میں ملک کا طاقت ور ادارہ ملوث  ہے۔کسی نے جیتنے والوں کو ووٹ خریدنے کا ذمہ دار قرار دیا۔

ہمارا منھ اس وقت کھلا کا کھلا رہ گیا۔جب ہم نے سنا کہ ملک میں سیلاب،طوفان اور زلزلے سب یہودیوں کی سازش ہے۔اور اس کے پیچھے امریکہ ہے اس لیے کہ وہ مسلمانوں کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔وہ اپنی سازش سے ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے ہمارے دریاوں میں سیلاب آجاتے ہیں ۔آندھیوں کا رخ وہ اپنی سازش سے ہماری طرف کردیتے ہیں۔اور یہ زلزلے تو صد فی صد امریکہ کی سازش ہے۔ان کے ایٹمی تجربات نے ہماری زمین کھوکھلی کر دی۔بڑی دور کی کوڑی نکالی۔

آیئے!اب ایک اور سازش کی خبر لیں۔کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ صوابی میں پو لیو مہم کے دوران دو رضا کار وں کو ہلاک کر دیا گیا۔اور صوابی میں پو لیو مہم کو روکنا پڑا۔خیبر پختون خوا میں تو پو لیو کے خلاف باقاعدہ مہم چلائی گئی اور رضاکاروں کو ہلاک کیا جانے لگا۔وہاں کچھ عقل مندوں  کے مطابق پو لیو کی دوا پینے سے لڑکے  نامرد اورلڑکیاں  بانجھ  ہو جاتی ہیں۔ اور یہ بھی نسل کشی کی ایک سازش ہے۔

اسی  طرح آپ کو یاد ہوگا جب پہلی بار پکی پکائی روٹی پاکستان میں  متعارف کروائی گئی تو یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ یہ  بھی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کی سازش ہے۔اس افواہ کے پیچھے یہ خیال تھا کہ ان روٹیوں میں فیملی پلاننگ کی دوا کی ملاوٹ ہے۔

آخر یہ سازش ہے کیا؟ ہمارے معاشرے میں عوام کا یہ رویہ آخر کس سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔آخر ہماری  یہ بد گمانی ہمیں کہاں لاکر چھوڑے گی۔ہم کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ یہ سازش ہمارے اپنے دماغ کی پیداوار ہے۔کسی سازش کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے ہم کو خود کا احتساب کرنا ہوگا  تب ہی ہم اس سازش کے جال سے نکل پائیں گے۔ورنہ بقول مرزا

چراغ اپنوں کی سازشوں سے بجھے ہیں
کہ دشمن دوسرا کوئی نہیں ہے

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

One thought on “آخر یہ کس کی سازش ہے!”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے