حالاتِ حاضرہ لائف اسٹائل متفرقات نقطۂ نظر

2019 کو اپنے لیے ایک بہتر سال بنائیے

دن گزرتا ہے شام ہوتی ہے عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے۔ کب گھنٹے دن میں اور کب دن سفر کرکے سال میں تبدیل ہوجاتے ہیں پتا ہی نہیں چلتا۔ اور کیلنڈر تبدیل ہونے پر ہم اپنی تیز رفتار زندگی کو ایک لمحے کا وقفہ دے کر حیران ہوتے ہیں۔۔۔ سال گزر گیا پتا بھی نہیں چلا۔ ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ اتنا وقت گزر گیا، کتنا کچھ ہوگیا اور ہم نے اتنا قیمتی وقت یوں ہی برباد کردیا۔ لیکن ہم  بھی مجبور ہیں اس سے پہلے کہ اپنی کی گئی غلطیوں کا ادراک کریں اس بارے میں سوچیں ہمیں اس خیال کو جھٹک کر پھر سے اپنی تیز رفتار زندگی کی گاڑی میں سوار ہونا پڑتا ہے۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی ان گنت افراد سوشل میڈیا پر اپنے new year resolution کا اسٹیٹس ڈال رہے ہیں۔ لیکن پوری دنیا میں چند ہی افراد ہیں جو اپنے آپ سے کیے گئے وعدوں پر پورا اترتے ہیں۔ ہم میں سے کئی لوگ اپنیcorporate life میں یہ سوچ کر ان تھک محنت کرتے ہیں کہ ہماری private life  پر اس کا اچھا اثر پڑے گا لیکن کارپوریٹ لائف ہمیں کبھی اتنی مہلت ہی نہیں دیتی کہ ہم اپنی ذاتی زندگی جی سکیں ۔ ہم زندگی جیتے کم ہیں اور زندگی ہمیں گزار دیتی ہے۔

تو کیا میں بھی آپ کے لیے ایک نیو ائیر ریزولوشن کی فہرست تیار کروں،  جیسے:

·         اس سال وزن کم کرنا ہے

·         ہفتے میں چار دن ورزش کرنی ہے

·         تمباکو نوشی سے پرہیز

·         ایک نئی زبان سیکھنا  ہے ، وغیرہ

کیا اس سال ہم کچھ ایسا نہ کریں جو واقعی ہمیں فائدہ دے۔ جو ہم کرسکیں۔ جسے پورا کرنے کے لیے ہم پر کوئی پابندی نہ ہو۔

نیند پوری کریں

 صحت مند اور تن درست  زندگی کے لیے ہماری نیند کا پورا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اچھی نیند سے مراد کم از کم 7-8 گھنٹے کی نیند ہے۔ نہ کہ صرف آپ صبح تروتازہ اٹھیں گے بلکہ آپ کا موڈ بھی خوش گوار رہے گا۔ نیند پوری ہونے سے آپ کے کام میں بھی بہتری نظر آئے گی اور  آپ کی طبعیت میں چڑچڑاہٹ بھی نہیں ہوگی۔ اورسب سے اہم بات،  اس کا آپ کی جلد پر بھی بہت اچھا اثر پڑے گا۔ کہنے والےکہتے ہیں کہ استعمال شدہ ٹی بیگز یا کٹا ہوا آلو اگر آنکھوں کے گرد حلقوں پر رکھ دیے جائیں تو یہ کالے سیاہ داغ غائب ہوجاتے ہیں۔ لیکن کون اتنی محنت کرے کچن میں جائے ، آلو کاٹے  اور آنکھوں پر رکھے۔ آلو بھی ضائع اور چپ چپ الگ۔ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ نیند پوری کی جائے۔ کبھی بھی سیاہ حلقے نہیں ہوں گے اور جلد بھی چمک دار رہے گی۔

پرسکون نیند کے لیے احتیاطی تدابیر:

فون بند کردیں۔

سوشل میڈیا پر وڈیوز نہ دیکھیں۔ یہ ایک لت ہے ایک کے بعد ایک شروع ہوتی جائے گی اور آپ یہ سوچ کر کہ ’بس ایک اور‘ اپنا نیند کا وقت کم کردیں گے۔ نیند کی گولیاں ڈسٹ بن میں ڈال دیں اور گرم دودھ کا ایک کپ پی لیں۔ ہاضمہ بھی ٹھیک رہے گا اور رات بھر بے سکونی کی کیفیت بھی نہیں ہوگی۔ سونے سے فوراً پہلے نہ کچھ کھائیں نہ ہی کوئی ورزش کریں اس سے نیند کی وادی میں داخل ہونے میں وقت لگتا ہے۔ سیدھی کروٹ سے لیٹیں۔ صحت مند غذائیں کھائیں۔

اس سال میں ۱۰ کلو وزن کم کروں گی ۔

مجھ سمیت لاکھوں لوگوں کے لیے یہ انتہائی ناممکنات میں سے ہے۔ نئے سال پر وزن کم کرنے کا عہد تو کرلیا جاتا ہے لیکن جب ایک ہفتے بعد ہی ہم اپنے  پرانی طرزِ زندگی پر لوٹ آتے ہیں تو شرمندگی کا احساس بھی ہوتا ہے اور فرسٹریشن بھی کہ ہم اتنا بھی نہیں کرسکتے۔

لیکن صحت مند غذا کھانا ! یہ ہم سب ہی کرسکتے ہیں۔ دودھ، دہی، انڈے ان  تینوں کا استعمال ہمارے لیے انتہائی مفید ہے۔ شکر کے بجائے اپنی غذا میں گڑ اور شہد کا استعمال کریں۔ دوپہر کے کھانے کا ناغہ کرنے سے بہتر ہے کہ سبزیوں کے سلاد یا پھل کو اپنی غذا میں شامل کیا جائے۔

جن لوگوں کو کام کے دوران ہلکا پھلکا کھانے کی عادت ہے یا بے وجہ بھوک ستاتی ہے وہ کرسپس اور چاکلیٹ پر ہاتھ صاف کرنے کے بجائے خشک میوہ جات کو اپنی غذا میں شامل کرسکتےہیں۔ منھ کا ذائقہ بدلنے کے لیے بغیر کسی شرمندگی کے احساس  کبھی کبھار کرسپس اور چاکلیٹس بھی کھائی جاسکتی ہیں کیوں کہ آپ ڈائیٹ پر تو نہیں۔

افسوس نہ کیجیے

پچھلے سال آپ پروموشن کی امید لیے بیٹھے تھے لیکن آپ کا نمبر نہیں آیا؛ آپ کی منگنی ٹوٹ گئی؛  بچے آپ کی نہیں سنتے۔۔۔

جو ہوگیا وہ ہوگیا۔ سال گزر گیا۔ نیا سال نئی امیدیں لے کر آیا ہے۔ گزرے سال کی باتوں پر افسوس کر کے نہ کہ صرف آپ اپنا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں بلکہ اپنی طبعیت بھی خراب کر رہے ہیں۔ اگر آپ نے غلطیاں کی ہیں تو کوئی بات نہیں ہم سب انسان ہیں اور انسان غلطی سے مبرا نہیں۔ اب غلطی پر غلطی نہ کریں  بلکہ اس غلطی سے نیا سبق سیکھیں اور وہ یہ ہے کہ اگلے سال یہ غلطی نہیں دہرانی۔

 اگر کوئی آپ کی امید پر پورا نہیں اترا تو آپ کسی کی امید پر پورا اترنے کی کوشش کریں۔ اور یقین کیجیے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر بتا رہی ہوں سب سے پہلے اپنے والدین کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کیجیے۔ یہ کام سب سے آسان ہے اور اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ملے گا۔

بچت کریں

روپیہ بچائیں کل کام آئے گا۔ ہر دن ایک جیسا نہیں۔ اور جب دن پھرتے ہیں تو سگے رشتہ دار بھی منھ پھیر لیتے ہیں۔آج ہی اپنے لیے بچت کریں۔ جی ہاں اپنے لیے،  بچوں کی تعلیم اور شادی کے لیے تو بچت کرتے ہی ہیں لیکن اگر کبھی آپ کو ضرورت پڑی تو کون کام آئے گا۔ گلک بنائیں، کمیٹی ڈالیں ، بانڈ لیں یا سونا۔ اپنے لیے بھی سوچیں۔

نقصان دہ لوگوں سے دور رہیں

جی وہ تمام لوگ جو آپ کو  بلاواسطہ  یا بلواسطہ تکلیف پہنچاتے ہیں انھیں نئے سال میں ایسا کوئی موقع نہیں دینا کہ وہ ایک دفعہ پھر سے آپ کو نقصان پہنچائیں۔ سب سے پہلے اپنے سیل فون میں سے ایسے تمام لوگوں کو بلاک کریں جو آپ کو کالز کر کے پریشان کرتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو آپ کو خاندان بھر کی رپورٹیں پہنچاتے ہیں، غیبتیں کرتے ہیں۔ کسی کی ٹوہ میں رہنا اخلاقی طور پر بھی نا مناسب ہے ۔  نہ آپ کسی کی رپورٹ لیں نہ کوئی آپ کی رپورٹ میں دل چسپی دکھائے گا۔  نتیجتاً راوی چین ہی چین لکھے گا۔

اپنے تمام سوشل میڈیا اکاونٹس میں سے ایسے تمام لوگوں کو  فوری طور پر بلاک کردیں جنھوں نے آپ کی ڈسپلے پکچر دیکھ کر دوستی کی درخواست کی یا جنھیں آپ نے اپنی فرینڈ لسٹ کے نمبر بڑھانے کے لیے شامل کیا تھا۔ اپنے ایسے تمام رشتے داروں کو بھی فوراً بلاک کردیں جو صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ آپ کب اور کس کے ساتھ اور کہاں کھانا کھا رہی تھیں کی خبر پورے خاندان میں نشر کرنے کے لیے، آپ کے سینے پر مونگ دلنے فیس بک پر آگئے ہیں۔ آپ کو ڈر ہے کہ فیس بک سے بلاک کرنے پر وہ کسی خاندانی دعوت پر آپ کے لتے لے لیں گے۔ فکر نہ کریں آپ کا جواب ہوگا، ’’ ان تمام سوشل میڈیا ویب سائٹس کو میں خیرباد کہ چکی ہوں ، اب میری تمام توجہ میری پڑھائی یا میرا کیرئیر ہے ، ویسے بھی یہ ویب سائٹس کافروں کی ہمارے ملک کے خلاف سازش ہے۔ وغیرہ وغیرہ ‘‘ بس آپ کا مسئلہ حل اور زندگی پرسکون۔

یہ اور اس جیسے ہی دیگر قابلِ عمل ریزولیوشنز بنانا خود آپ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے اور معاشرے میں صحت مند سوچ پروان چڑھانے کا ذریعہ بھی۔ اس نئے سال میں مثبت رہیے، آسانیاں بانٹیے اور خود سے محبت کیجیے۔

ثنا شاہد
ثنا شاہد، رنگوں، خوشبوؤں اور کتابوں کی دیوانی جو چھوٹی سی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے باوجود اردو زبان کا اچھا اور معیاری استعمال نہ صرف سیکھنے بلکہ سکھانے کے لیے بھی کوشاں رہتی ہیں۔ نجی اشاعتی ادارے سے بطور منیجر، پبلشنگ وابستہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے