نقطۂ نظر

ہماری اعلیٰ تعلیم، بالخصوص سائنس اور ٹیکنالوجی  کی تعلیم کا  زوال پذیر معیار  

ہمارے انحطاط کی ایک اہم وجہ ہمارا ناقص اور غیر معیاری نظام تعلیم ہے۔  بچے کے ذہنی رجحان کو مدنظر رکھے بغیر من پسند مضامین اور شعبہ جات کا انتخاب کرکے کمزور بنیادوں پر مضبوط عمارت کھڑی کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔  جبکہ  کیريئر کاؤنسلنگ کا بھی فقدان ہے۔ ہمارا یہ نظام تعلیم بچے کو علم سیکھنے کے بجائے رٹا  مارنے یا نقل، سفارش اور دیگر منفی ہتھکنڈے اپنا کر امتحان پاس کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ابتدائی درجات کی یہ بےزاری یا تو ترک مدرسہ پر منتج ہوتی ہے یا مارے باندھے حاصل کی گئی تعلیم معیار سے عاری ہو جاتی ہے۔

ہماری ہایئر ایجوکيشن اور تحقیقی کام ذرہ بھر بھی قابل تعریف اور عالمی معیار کے ہم پلہ نہیں ہے۔ اصل تحقیق کے بجائے ساری توجہ کا مرکز جیسے تیسے کر کے ریسرچ ورک مکمل کرنا اور ڈگری کا حصول ہوتا ہے۔ حقیقی ماخذات سے براہِ راست ڈیٹا حاصل کرنے کے بجائے ثانوی ذرائع و ماخذات سے حاصل کیے گئے ڈیٹا پرزیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، ہمارا نظام تعلیم  سرقے (plagiarism)  کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ خالص اپنی محنت کے بجائے دوسروں کے کیے ہوئے کام اور تحقیق کو الفاظ کے  ہیر پھیر اور چربہ جانچنے کے سافٹ ويئرز سے کھیل کر اپنا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہمارے  طلبا کے تحقیقی کام کا مقصد فقط کسی بھی طرح ممتحن کو مطمئن کرنا ہوتا ہے تاکہ ڈگری کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔

اسی  بوسیدہ نظام کی وجہ سے ہم ترقی کے عمل میں بہت پیچھے ہیں۔  نئی تخلیقات اور ایجادات نہ ہونے کے برابر ہيں۔  ترقی یافتہ ممالک میں ڈگری کے اجرا  کے لیے قابليت، تجربے اور تحقیقی  و علمی کام کو فوقیت دی جاتی ہے۔ پرائمری ڈیٹا کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ کئی جامعات تحقیقی کام کی پوری طرح جانچ  کے بعد  اور تجربہ دیکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دیتی ہيں۔  اس کے برعکس ہمارے ملک میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے بھی مختلف گھسے پٹے اور بار بار کے آزمائے ہوئے غیرمعیاری امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ یوں لکیر کا فقیر ،رٹو طوطا اور ٹیکسٹ بک کا پابند بننے کا سلسلہ اسکول سے یونیورسٹی کی سطح  تک چلتا ہے۔

اگر ہم پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم کا موازنہ ترقی يافتہ ممالک کے نظام سے کریں تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ پاکستان میں انجینئرنگ کی تعلیم میں زیادہ توجہ تھیوری اور سلیبس پر دی جاتی ہے۔  عملی کام اور پریکٹیکل کو اس قدر اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس کی ایک وجہ غالباً برمقام تجربے کی کمی بھی ہے اور تعلیمی اداروں میں موزوں تجربہ گاہوں اور آلات کی کمی بھی۔   ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب کی طرز پر انجینئرزکی لازمی انٹرن شپ یا ٹریننگ کا کوئی خاطر خواہ  انتظام نہیں ہے۔  عملی تجربے کے بغیر انجینئرز کو ڈگریاں تھما کر مارکیٹ میں دھکیل ديا جاتا ہے۔  نتیجے کے طور پر اول تو کوئی انھیں نوکری نہیں دیتا اور اگر نوکری مل بھی جائے تو عملی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے انھیں افسران اور ماتحت  ملازمین کی طرف سے شدید تضحیک اور طعنے بازی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے پاس تھیوری کی حد تک اگر کچھ نئی تحقیق  ہوبھی تو وہ اسے عملاً اپنانے سے بھی قاصر ہوتے ہیں اور پرانے لوگ بھی انھیں لکیر کا فقیر بنے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔  اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں انجینئرز کو تھیوری کے ساتھ عملی اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ انھیں  لازمی انٹرن شپ بھی کروائی جاتی ہے نیز نئی تحقیق کو عملی زندگی میں اپنانے اور مزید نئی تحقیق و تجربات کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا  انجینئر ڈگری کے ساتھ عملی کام کا مکمل تجربہ حاصل کر کے بھرپور اعتماد کے ساتھ جاب مارکیٹ میں جاتا ہے۔

ہمارا ہائیر ایجوکیشن کا نصاب بھی پرانا ہے اور  پچیس/ تیس سال پرانے اساتذہ اپنی تحقیق کو اپ ڈیٹ کیے یا نئے اعدادوشمار سے بہرہ مند ہوئے بغیر سالہا سال  سے وہی پڑھا رہے ہیں جو ان کی اپنی نصابی کتاب میں انھوں نے پڑھا تھا۔ اساتذہ کو خود بھی   جدید سافٹ ویئرز اور ہائی ٹیکنالوجی کے بارے میں کوئی جان کاری و  تربیت نہیں دی جاتی اور وہ اسی  کم علمی و عملی کو طلبا تک منتقل کر دیتے ہیں۔  

ہمارے نظام میں ایک اور بڑی خامی یہ بھی ہے کہ ہماری انجینئرنگ کی تعلیم اور انڈسٹری میں زیادہ توجہ آپریشنز اور منٹیننس پر دی جاتی ہے۔  تخلیق اور ڈیزائننگ میں ہم بہت پیچھے ہيں۔  اسی وجہ سے مشینری اور ٹیکنالوجی کے استعمال ،آپریشنز اور منٹیننس میں تو ہمیں باکمال انجینئرز میسر آجاتے ہیں لیکن  ڈیزائننگ اور تخلیق نیز ایجادات سے ہم  کوسوں دور ہيں۔

ایک اور سب سے بڑی کمی یا خامی نصاب میں سوشل سائنسز کا نہ ہونا بھی ہے۔ آج کے جدید دور میں کمیونیکشن اور سوشل سائنسز کے مضامین کی بنیادی معلومات کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے۔ معاشرے کی ضروریات کے مطابق تحقیق اور ایجادات کے عمل کے لیے  بنیادی علوم کی معلومات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔  انجینئرز کے ذہنوں کو کشادہ اور معاشرے کے لیے  مفید بنانے کی ضرورت ہے۔  ان کو معاشرے کا فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ضروری ہے اس لیے   عصر حاضر کی مشکلات،تقاضوں اور ان کے ٹھوس حل نکالنے کے لیے  نصابی  میں ضروری ترامیم کرکے اسے بیرونی دنیا  کی پیش رفتوں اور ہمارے معاشرے کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی  اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میڈیکل کونسل اور دیگر مقتدر اداروں کے برعکس پاکستان انجینئرنگ کونسل(پی ای سی)  کی کارکردگی بھی غیر تسلی بخش ہے۔ کونسل انجینئرز کی انٹرن شپ، پےا سکیل اور دیگر مفادات و معاملات کی بہتری اور دیکھ بھال کے لیے  زیادہ سرگرم و فعال نہيں ہے اور نہ ہی سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں انجینئرز کی لازمی تقرریوں پر سختی سے عمل کروا پاتی ہے۔ انجینئرز کے لیے داخلوں اور  تعلیم کے دورانیے کا بھی لگا بندھا اصول ہے۔  ٹیکنیکل ایجوکیشن   بھی بیک وقت دو سطح پر دی جارہی ہے۔ اول  بی ای/ بی ایس  اور ایم ایس جبکہ  دوسری  ڈپلوما، بی ٹیک اور ایم ٹیک۔ ان دونوں سطح پر  دی جانے والی تعلیم میں ڈگریوں کی توقیر نیز سیلری پیکیج اور عہدے میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔  میرٹ پر آنے والے طلبا کے لیے داخلہ ٹیسٹ پاس کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے جسے عموما مہنگی مہنگی ٹیوشنز افورڈ کرنے والے پاس کرپاتے ہیں۔ میرٹ پر نہ آنے والے امیر طلبا سیلف فنانس پر جبکہ مڈل کلاس کے طلبا کی اکثریت ڈپلوما والی سطح کی جانب بڑھ جاتے ہیں۔ ان دونوں سطحوں پر مراعات کا بہت بڑا فرق بھی  ڈپلوما والی  طلبا کی ایک کثیر تعداد میں مطلوبہ لگن اور تحقیقی جذبے کو ختم کردیتا ہے جو بس تعلیم برائے ملازمت تک محدود ہوکر رہ جاتے ہیں کیونکہ اس سطح پر وہ کچھ بھی کرلیں ان کی زندگی میں تبدیلی کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔

معزز قارئین، ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کرنے اور دور حاضر کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کے لیے  ہمیں اپنے نظام تعلیم پر نظرثانی کرنے اور اسے جدید بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کی مختلف سطحوں پر ترغیبات و مراعات نیز احترام میں مساوی سلوک کی ضرورت ہے۔ علم کو ڈگریوں میں سمیٹنے کے بجائے  ڈگریوں کو علم ، تجربے ،تحقیق اور تخلیق کا پابند کرنا بے حد ضروری ہے۔


اس سلسلے کا پہلا مضمون ہمارا نظامِ تعلیم۔ خامیاں اور حل یہاں پڑھا جاسکتا ہے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

3 thoughts on “ہماری اعلیٰ تعلیم، بالخصوص سائنس اور ٹیکنالوجی  کی تعلیم کا  زوال پذیر معیار  ”

  1. پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کے مصداق ہمیں مسائل اور ان کے حل کو اس امید کے ساتھ پھیلاتے رہنا چاہیے کہ کبھی نہ کبھی کوئی مسیحا آکر ہمارے زخموں پر مرہم لگاۓ گا-

اپنی رائے کا اظہار کیجیے