انتخابات 2018 سیاست

کیا انتخابات کا بائیکاٹ مؤثر ہوسکتا ہے؟

دو چیزوں سے توجہ ہٹانا، نہایت مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ بلکہ، میرے خیال میں، مہلک ثابت ہو گا۔ پہلی چیز، آئین کی بالادستی ہے اور دوسری چیز، یہ سوال کہ انتخابات موثر ثابت ہوتے ہیں یا نہیں۔ ماضی میں، جب جب آئین موجود تھا، آئین کی بالادستی ایک خواب ہی رہی۔ اور ایسے میں جو انتخابات منعقد ہوئے، وہ آئین کی بالادستی کے قیام کے ضمن میں قطعی غیر موثر ثابت ہوئے۔

گذشتہ کئی ایک انتخابات میں، میں نے ووٹ ڈالا، اگرچہ کوئی بہت بڑی امیدوں کے ساتھ نہیں۔ صرف ان انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکا، جب ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے مجھے انتخابات کروانے کے ضمن میں فریضہ سونپا گیا۔ مگر اب جو انتخابات ہونے والے ہیں، ان سے میں بالکل مایوس ہوں۔ بلکہ کوئی سال بھر سے میں اپنے دوستوں اور ملنے والوں سے ایک سوال پوچھتا رہا ہوں: آپ کسی بھی جماعت کو ووٹ دے لیں، اور وہ جیت جائے، مگر کیا حالات میں کوئی فرق پڑے گا؟

قریب قریب سب کا جواب یہی ہے کہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تو پھر ووٹ دینے سے کیا فائدہ؟

جبکہ یہ چیز عیاں ہے کہ انتخابات سیاسی جماعتوں کے لیے محض ایک لاٹری کی طرح ہوتے ہیں، اور کسی جماعت کے جیتنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سمجھو اس کی لاٹری نکل آئی۔ عام لوگوں کو انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ وہ پاکستان کی ریاست کے گِرد کولھو کے بیل کی طرح گھومے جاتے ہیں اور دولت کما کما کر مجبوراً ریاست کو ٹیکس دیے جاتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مراد یہ کہ آئین کی بالادستی قائم نہیں ہوتی۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ:

  • شہریوں کو جان و مال کا تحفظ نہیں ملتا۔
  • شہریوں کو ان کے حقوق اور آزادیاں نہیں ملتیں۔
  • شہریوں کو انصاف نہیں ملتا۔

ایسے میں ہوتا یہ ہے کہ خود ریاست اور دوسرے گروہ، نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے درپے رہتے ہیں، بلکہ ان کے حقوق اور آزادیوں پر مسلسل ڈاکہ بھی ڈالا جاتا ہے۔ ریاستی مشینری، شہریوں کے بدترین استحصال کا آلۂ کار بنی رہتی ہے۔ سرکاری دفتر اور تھانے، جس کی نمایاں مثال ہیں۔ ستر برس سے پاکستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اگر انتخابات یہ سب کچھ تبدیل نہیں کر سکے تو سڑکوں کا اچار ڈالنا ہے! غالب امکان یہی ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، قریب قریب سو فی صدی امکان یہی ہے کہ اس برس ہونے والے انتخابات بھی:

  • آئینی بالادستی قائم نہیں کر سکتے۔
  • یہ پاکستان کے شہریوں کو جان و مال کا تحفظ نہیں دے سکتے۔
  • یہ شہریوں کو ان کے حقوق اور آزادیاں مہیا نہیں کر سکتے۔
  • یہ شہریوں کو انصاف نہیں دے سکتے۔
  • یہ ریاستی مشینری کی اصلاح نہیں کر سکتے۔

اگر پچھلے انتخابات کی طرح، یہ انتخابات بھی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں لا سکتے، تو پھر انتخابات میں ووٹ دینے کا کیا فائدہ؟ یہی وہ وجوہات ہیں، جن کے پیشِ نظر میں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انفرادی بائیکاٹ ہے۔ لیکن اگر آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اس برس ہونے والے انتخابات سے پاکستان اور پاکستانیوں کے حالاتِ زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، تو آپ کو بھی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ مگر انتخابات کے بائیکاٹ سے متعلق جو اہم سوال ہے، وہ یہ ہے کہ آیا آپ کا اور میرا بائیکاٹ موثر ہو سکتا ہے، یا نہیں۔

اس ضمن میں دو باتیں سامنے رہنی چاہئیں ۔ ایک تو یہ کہ اگر زیادہ سے زیادہ لوگ انتخابات کے بائیکاٹ کے قائل ہوتے جاتے ہیں، اور پھر انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں، تو یوں ووٹ ڈالنے والوں کی فیصدی تعداد بہت کم ہو جائے گی، اور سیاسی جماعتوں کو سوچنا پڑے گا کہ وہ اپنے انتخابی منشور کے ساتھ ساتھ، اپنی انتخابی مہم، اصل اور حقیقی معاملات کی بنیاد پر استوار کریں۔ جھوٹے، جذباتی اور مخالفانہ نعروں پر نہیں۔ دوسرے یہ کہ صرف یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ کوئی چیز موثر اور مفید رہے گی یا نہیں۔ یعنی انتخابات کا بائیکاٹ موثر رہے گا یا نہیں۔ بلکہ یہ ایک اصول کی بات ہے۔ اگر آپ اصولی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، تو پھر آپ کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ مراد یہ کہ جب اصول کی بات ہوتی ہے، تو پھر نفع اور نقصان نہیں دیکھا جاتا۔ یہ ہے وہ سیاق و سباق اور وہ وجوہات، جن کی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ ووٹروں کو اس جولائی میں متوقع انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ بلکہ یہ بائیکاٹ ناگزیر ہے، تاکہ آگے چل کر انتخابات موثر اور مفید ہو سکیں، اور ان کے نتیجے میں آئین کی بالادستی قائم ہو سکے اور شہریوں کے حالاتِ زندگی میں مثبت تبدیلی واقع ہو سکے۔

خلیل احمد
ڈاکٹر خلیل سیاسی معیشت دان اور سیاسی فلسفی ہیں۔ وہ وسیع المشرب سوچ کے حامل ہیں اور خود کو اخلاق پسند اور عقلیت پسند گردانتے ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں پہلا فری مارکیٹ تھنک ٹینک، آلٹرنیٹ سولوشنز انسٹی ٹیوٹ قائم کیا۔ پاکستان کی سیاسی معیشت اور متنوع مسائل کے بارے میں انھوں نے متعدد مضامین لکھے ہیں۔ وہ "پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘‘، ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست‘‘، ’’پاکستانی کشاکش‘‘، Charter of Liberty ، Pakistan’s Democratic Impasse " ، اور ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیمِ نو کے اصول‘‘ (دو جلدیں) کے مصنف بھی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے