زبان و ادب کتب خانہ نقطۂ نظر

ٹرین ٹو پاکستان – ایک ریویو

ٹرین ٹو پاکستان 

سالِ اشاعت: 1956ء

زبان:  انگریزی

صفحات کی تعداد:   181

اس کتاب کا شمار برصغیر کی تقسیم کے حوالے سے لکھی گئی بہترین کتابوں میں  ہوتا ہے۔ کتاب کی کہانی تقسیم کے وقت کی کہانیوں کا احاطہ کرتی ہے،اور ان پر روشنی  ڈالتی ہے۔ سردار خوشونت سنگھ جی کا یہ ناول 1956ء میں منظر عام پر آیا۔کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ سردار جی نے ان کہانیوں کو بہت ہی خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ میں نے اس کتاب کو کافی عرصے سے پڑھنے کا ارادہ باندھ رکھا تھا لیکن پڑھ نہیں پایا اور اب جب پڑھی تو افسوس ہوا کہ پہلے کیوں نہ پڑھ لی۔
کہانی شروع ہوتی ہے بارڈر کے ساتھ واقع "مانو مجرا” نامی ایک گاؤں میں ڈکیتی کی واردات سے۔ رام لال نامی ایک ہندو بنیےکے ہاں مالی گینگ ڈکیتی کرتا ہے۔ جبکہ اسی لمحے سردار جگت سنگھ عرف جگے نامی ایک بدمعاش، جس پر حکومت کی جانب سے گاؤن سے باہر جانے پر پابندی عائد ہے، گاؤں کے نابینا امام کی بیٹی نوراں سے گاؤں کے باہر دریا کنارے ملاقات کر رہا ہوتاہے۔ مالی اور اسکے ساتھی بنیے سے لوٹ مار کے بعد اسےقتل کر دیتے ہیں جبکہ جاتے ہوئے جگت سنگھ کے گھر بھی لوٹ کے مال میں سے چوڑیاں اور رقم کا کچھ حصہ پھینک جاتے ہیں۔
کتاب کے کئی ایک بہترین پہلو ؤں  میں سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ مصنف نے ہر کردار کو کہانی میں بہت ہی خوبصورتی سے پرویا ہے اور کہانی کے اختتام پر بلاشبہ اس کردار کو کہانی کے لحاظ سے بہترین انجام دیا ہے۔ دوسرا یہ کہ  کتاب میں بیان کردہ  کہانیاں اور واقعات بظاہر تو مختلف اور الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن خوشونت سنگھ جی نے انہیں بہت ہی باکمال انداز سے آپس میں مربوط کیا ہے۔ یوں واقعہ اور کہانی کی اہمیت کو خوبصورتی سے اجاگر ہوتی ہے۔
پلاٹ  کے مرکزی کرداروں میں مجسٹریٹ حکم چند (جو ڈکیتی کی واردات کے ہی روز گاؤں میں آتاہے)،سب انسپکٹر،مسجد کا امام،گردوارے کا گورو میت سنگھ،محمد اقبال سنگھ(جو کہ ایک پارٹی کا ورکر، پڑھا لکھا آدمی ہے اور اخلاقیات وغیرہ کے پرچار کا داعی ہے،اسکے لیے مذہب کی قید کوئی اہمیت نہیں رکھتی)۔نوراں جو کہ امام کی بیٹی اور جگا سنگھ کی محبوبہ ہے اور ایک 16 سالہ طوائف شامل ہیں۔ اقبال سنگھ اگرچہ ڈکیتی کے دوسرے روز گاؤں میں آتا ہے لیکن  ایک خاص حکم کے تحت جگا سنگھ اور محمد اقبال سنگھ کو رام لال کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
مانو مجرا جو اس لحاظ سے کافی اہم گاؤں ہے کہ یہاں ریلوے اسٹیشن ہے۔ گاؤں کے لوگوں نے اپنی زندگی کو ٹرینوں کی آمد سے جوڑ رکھا ہے۔ لیکن ایک دن پاکستان کی طرف سے ایکخوفناک ٹرین آتی ہے جومکمل طور پر خون سے لت پت اور لاشوں سے اٹی ہوتی ہے۔ اس سے گاؤں کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے اور مسلمانوں کے خلاف جذبات ابھرنے لگتے ہیں۔ اس ٹرین کو جلا دیا جاتا ہے۔ ابھی لوگ اس ٹرین کے خیالات سے باہر بھی نہیں نکل پاتے کہ دوسری ایسی ہی ٹرین آ جاتی ہے۔ اس بار تمام نعشوں کو دفنا دیا جاتا ہے۔لیکن اس کے بعد نفرت کے جذبات بڑھنے لگتے ہیں۔
ناول کی ایک اور بات  جو اس کا ادبی قد بلند کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں  سچائی سے کام لیتے ہوئےدونوں طرف سے فسادات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حقائق کو توڑ مروڑ کر مسخ نہیں کیا گیا اگرچہ مسلمانوں  کے مظالم کی طرف تھوڑا جھکاؤ زیادہ رہا ہے لیکن سکھوں کے رویوں پر بھی کافی روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کے اس پہلو کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے زندگی میں پہلی بار معلوم ہوا کہ سچا سودا،شیخوپورہ میں بھی سکھوں کا قتل  عام کیا گیا تھا۔ حالانکہ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اسی علاقے میں رہا ہوں، لیکن میں ہمیشہ لاعلم ہی رہا۔ سچا سودا کے گردوارے کی خستہ حالی  کو خود دیکھا  بھی ہے (اب گردوارا بہت بہتر حالت میں ہے۔اور یہاں کے سکھ گرو بہت نفیس آدمی ہیں۔) لیکن کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا اور نہ  ہی معلوم تھا کہ ہمارے بڑوں نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے تھے۔ایسے ہی واقعات راولپنڈی،گوجرانوالہ،ملتان،خیبر پختوانخوہ اور دیگر علاقوں میں بھی ہوئے۔لیکن موجودہ دور کی اوسط عمر کا بڑا حصہ گزارنے کے باجود ان باتوں اور واقعات سے نابلد رہا ہوں۔یوں یہ کتاب تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھلاتی ہے جسے دیکھنے کی  آج ہمیں اشد ضرورت ہے۔
دوسری ٹرین کی آمد کے بعد حکم چند گاؤں کو مسلمانوں سے خالی کروا کے انہیں قریبی  رفیوجی کیمپ بھجوا دیتا ہے۔جبکہ گاؤں میں سکھوں کی ایک ٹکڑی آتی ہے جو کہ سخت شدت پسند ہوتی ہے ان کا مقصد چند روز بعد پاکستان جانے والی ایک ٹرین کو مسخ کرنا ہے۔ گاؤں کے وہ لوگ جو مسلمانوں کے خروج کے وقت کافی آبدیدہ اور غمگین تھے وہ بھی متشدد سکھوں کی باتوں میں آ کر اس منصوبے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف حکم چند جو اس منصوبے سے واقف ہے وہ اس مار کاٹ کو روکنا بھی چاہتا ہےجبکہ اس  سے پہلے پاکستان کی جانب سے آنے والی ٹرینوں کی آمد نے اس کے خیالات کو منتشر کر رکھا ہے بہرکیف وہ اسی حالت میں جگا سنگھ اور اقبال کو ٹرین کے جلائےجانے والے دن رہائی دے دیتا ہے۔ 
کتاب کا ایک اور روشن پہلو واقعات کی ترتیب ، ان کا بیان  اور اختتام ہے۔ کتاب میں ستمبر کے دنوں کو دکھلایا گیا ہے۔ مون سون  کے ان دنوں میں حبس، بارش ، گرمی کو بےحد نفیس طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔واقعات کو جس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے اور جس طرح ان کی ترتیب رکھی گئی ہے۔اور پھر ان سب واقعات کو آپس میں نتھی کر کے اختتام کرنا  اپنی مثال آپ ہیں۔(جبکہ میں ایک صفحے کے بلاگ میں 7،8 پیروں کو ٹھیک سے ترتیب دینے سے قاصر چہ جائیکہ بیان اور اختتام کا ذکر کرنا۔) قصہ مختصر کہ یہ کتاب پہلی ہی فرصت میں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

کتاب سے چند اقتباسات:

"آزادی پڑھے لکھے لوگوں کے لیے  ہے،جو اس کے لیے  لڑے-"

"ہم انگریزوں کے غلام تھے،اب پڑھے لکھے انڈین یا پاکستانیوں کی غلامی کریں گے-"

” ایک ملک میں جہاں ذات کی بنیاد پر فرق کو صدیوں سے قبول کر لیا ہو،وہاں عدم مساوات پیدائشی ذہنی تصور بن جاتا ہے-"

"اخلاقی قدریں امیروں کی ہوتی ہیں- غربا  ان کے متحمل نہیں ہو سکتے،لیکن ان کے پاس مذہب ہوتا ہے- "

” آپ کا اصول یہ ہونا چاہیے، دیکھو سب اور کچھ بھی نہ کہو- "

"دنیا بہت تیزی سے بدلتی ہے-اگر آپ اس کے ساتھ چلنا چاہتے ہو تو آپ خود کو کسی ایک نکتہ نظر اور شخص سے نتھی نہیں کر سکتے- "

” اگر آپ کسی چیز کے متعلق رائے دینے کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہو،تب بھی خاموش رہنا سیکھو-"

 

ابن وسیر
عاجز سا بندہ ہوں، زندگی جو رنگ دکھاتی ہے کاغذ پر منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، اس لیے میری تحریر میں بندھے ٹکے موضوعات کی بجائے عام آدمی کی سوچ نمایاں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے