انتخابات 2018 سیاست

ووٹ کو عزت دو ۔ ۔ ۔ یا ووٹر کو عزت دو

سیاسی قضیے:  الیکش 2018ء کے تناظر میں 

فرض کیجیے نواز شریف آج وزیرِ اعظم ہوتے، تو اس سے عام شہری کو بھلا کیا فرق پڑ جاتا۔

اور کیا اس صورت میں مسلم لیگ ن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ زبان پر لاتی۔ قطعاً نہیں۔ سب کچھ حسبِ معمول چل رہا ہوتا اور راوی چین ہی چین لکھتا۔

کیونکہ نواز شریف اب وزیرِ اعظم نہیں، لہٰذا، یہ بیانیہ چلایا جا رہا ہے کہ ووٹ کو عزت دو۔ اس سے صاف مراد یہ ہے کہ جسے ووٹ ملیں، اسے حکومت کرنے دو۔ وہ جیسے چاہے، اسے ویسے حکومت کرنے دو۔

سوال یہ ہے کہ اب تک پاکستان میں اتنی حکومتیں بنیں بگڑیں، مگر کیا کسی حکومت نے ’’ووٹر کو عزت دو‘‘ کی طرف توجہ دی۔

کسی نے بھی نہیں۔

یہ تو اب چونکہ خود نواز شریف پر افتاد آن پڑی ہے، سو انھیں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا معاملہ یاد آ گیا ہے۔

وگرنہ  ووٹ کے لیے بھی  عزت نہیں مانگی جاتی۔ اور اگر ووٹروں نے آپ کو ووٹ کے ذریعے اختیار دیا تھا تو آپ نے کون سا اس اختیار کی لاج رکھی تھی۔ آپ نے اس کی پوری پوری توہین ہونے دی، بلکہ خود بھی کھُل کر توہین کی۔ اس اختیار کو موثر طور پر استعمال نہیں کیا۔

خیر، فرض کیجیے اگر ووٹ کو عزت دی جانے لگتی ہے، تو کیا ہو گا۔

وہی کچھ ہو گا، جو گذشتہ کئی دہائیوں سے ہوتا آ رہا ہے: ووٹر کو نہ کبھی عزت ملی ہے نہ کبھی ملے گی۔ وہ بس ووٹ دے اور فارغ ہو جائے۔ اب جسے ووٹ ملے ہیں، وہ جانے اور اس کی حکومت جانے۔

اور جسے ووٹ ملے ہیں، وہ جیسے چاہے حکومت چلائے۔ وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج رکھے۔

ٹیکس لگاتا جائے۔۔۔ٹیکس بڑھاتا جائے، بجلی مہنگی کرے، گیس مہنگی کرے، ایسے منصوبوں پر عمل کرے، جن کی ضرورت ہی نہیں۔ اور ان کی لاگت بڑھاتا جائے۔ جتنے چاہے سیرسپاٹے کرے۔ جو جی میں آجائے کرے۔

جیسا کہ ایک رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اپنے دورِ حکومت میں ہر ماہ قریب قریب دو غیرملکی دورے کیے۔

ظاہر ہے جسے ووٹ مل جاتے ہیں، اور جب وہ حکومت میں آ جاتا ہے، تو وہ کوئی روک ٹوک یا بندش قبول نہیں کرتا۔

گوکہ حزبِ اختلاف بندشیں لگانے کے لیے ہی تو ہوتی ہے لیکن  حزبِ اختلاف تو خود اس انتظار میں رہتی ہے کہ کب اس کی باری آئے اور وہ بھی ریاست کے وسائل پر دسترس حاصل کرے۔

واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ ایک نااہل اور بدعنوان حکومت کو غیرآئینی انداز میں چلتا کر دیا جائے۔ میں اس کے حق میں بالکل نہیں۔ میرا سارا اعتراض سیاسی حکومت اور سیاسی جماعتوں اور ان کی کارکردگی پر ہے۔ اور میرا استدلال انھی سے ہے۔ میری مخاطب سیاسی جماعتیں اور سیاسی شخصیات ہیں۔ انھیں رہنما کہنا اچھا نہیں لگتا۔

اور میرا زور خاص اس بات پر ہے کہ ووٹروں، عام شہریوں کے لیے کسی حکومت نے اور بالخصوص مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی حکومت نے کیا کیا۔

کیا انھوں نے آئین اور قانون کی بالادستی قائم کی۔

کیا انھوں نے سویلین بالادستی قائم کرنے کے لیے کچھ کیا۔

کیا انھوں نے امن و امان کے قیام کو ترجیح دی۔

کیا انھوں نے دہشت گرد اور انتہاپسند گروہوں پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔

کیا انھوں نے ہر شہری کو انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے کچھ کیا۔

کیا انھوں نے ہر شہری کے لیے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی دستیابی کو ممکن بنانے کے لیے کچھ کیا۔

کیا انھوں نے ریاستی مشینری کو شہری دوست بنانے کی طرف کوئی توجہ دی۔

کیا انھوں نے بالخصوص پولیس کو شہری دوست بنایا۔

یہ انتہائی ضروری اور بنیادی چیزیں ہیں، جو کسی حکومت کو کرنی چاہییں۔

تو کیا نواز شریف کی حکومت نے ان میں سے کوئی ایک کام بھی کیا۔ بلکہ ان کی حکومت نے بہتیرے کام ایسے کیے، جو اس کے بالکل برعکس تھے۔

اگر ان کی حکومت نے ان میں سے ایک فریضہ بھی انجام نہیں دیا، تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو۔ ووٹر اس سلسلے میں ان کا ساتھ کیوں دیں۔

وہ جسے کہہ رہے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اسے کہتے رہیں۔ ووٹر کو اس سے کیا لینا دینا۔

مزید یہ بھی کہ وہ ووٹروں کو اپنے مقصد، ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں ووٹر کی عزت سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے، جسے میں یہاں نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔

چلیں، اچھے یا برے، نواز شریف کو کوئی چار برس تو میسر آئے، جب ووٹ کو عزت حاصل تھی۔ تو ان چار برس میں انھوں نے کیا کیا۔ انھوں نے ووٹر کو کیا عزت دی۔

مختصر یہ کہ مسلم لیگ ن اور نواز شریف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی جو تحریک چلا رہے ہیں، وہ انتہائی خودغرضانہ اور اشرافی تحریک ہے۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو یہ تحریک کبھی ’’ووٹر کو عزت دو‘‘ میں تبدیل نہیں ہوگی، یا اگر ہو گی بھی تو بس دکھاوے کے لیے۔ اس تحریک کا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی سیاست دان جو ووٹ لے کر حکومت میں آ جائے، اسے وہ جو چاہے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ وہ جو بھی کرتا ہے، کرتا رہے۔ ووٹروں، عام شہریوں کے لیے چاہے کچھ نہ کرے۔

اور اگر مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کی تحریک خودغرضانہ اور اشرافی نہیں، تو انھیں اسے چھوڑ کر ’’ووٹر کو عزت دو‘‘ کے نعرے پر انتخاب لڑنا چاہیے۔ لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے کہ انھوں نے نہ صرف گذشتہ چار برس، بلکہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران، حکومت میں رہنے کے باوجود ووٹر کے لیے کچھ نہیں کیا۔

بلکہ صرف مسلم لیگ ن ہی نہیں، پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف اور دوسری جماعتوں کو بھی ’’ووٹر کو عزت دو‘‘ کی تحریک کا پرچم تھامنا چاہیے اور اوپر بیان کیے گئے حکومت کے بنیادی فرائض کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنانا چاہیے۔

اگر سیاسی جماعتیں ایسا نہیں کرتیں، تو اس کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ انتخابات محض ایک بہانہ ہیں۔ جیسے کہ ’’لاٹری‘‘ نکل آتی ہے، اور پھر شہنشاہیت کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔

یعنی انتخابات سیاسی اشرافیہ کے لیے اقتدار حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں، ووٹروں کو اس سے کوئی فائدہ و فیض نہیں پہنچتا۔

عام شہری کو، ووٹر کو کبھی عزت نہیں ملتی۔ سیاسی جماعتوں کی باریاں لگی رہتی ہیں، اور وہ شہریوں کے ووٹ کو ایک سیڑھی بناتی ہیں اور ریاست کے وسائل پر قابض ہو جاتی ہیں، اور پھر ریاستی اشرافیہ کے مابین ایک بندر بانٹ شروع ہو جاتی ہے۔


اس سلسلے کے مضامین ڈاکٹر خلیل احمد کی ویب سائٹ http://www.pakpoliticaleconomy.com پر شائع ہوچکے ہیں۔ نوشتہ کے صفحات پر ان کی اشاعت کے لیے ہم ڈاکٹر صاحب کے شکرگزار ہیں۔

خلیل احمد
ڈاکٹر خلیل سیاسی معیشت دان اور سیاسی فلسفی ہیں۔ وہ وسیع المشرب سوچ کے حامل ہیں اور خود کو اخلاق پسند اور عقلیت پسند گردانتے ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں پہلا فری مارکیٹ تھنک ٹینک، آلٹرنیٹ سولوشنز انسٹی ٹیوٹ قائم کیا۔ پاکستان کی سیاسی معیشت اور متنوع مسائل کے بارے میں انھوں نے متعدد مضامین لکھے ہیں۔ وہ "پاکستان میں ریاستی اشرافیہ کا عروج‘‘، ’’سیاسی پارٹیاں یا سیاسی بندوبست‘‘، ’’پاکستانی کشاکش‘‘، Charter of Liberty ، Pakistan’s Democratic Impasse " ، اور ’’عمرانی معاہدے کی تشکیلِ نو: انسانی معاشرے کی تنظیمِ نو کے اصول‘‘ (دو جلدیں) کے مصنف بھی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے