سماج نقطۂ نظر

وقت ہے سمجھ جاؤ!

سنو! جب تم ہمیں دیکھ کر اپنے مخصوص اعضا کو سہلانے لگتے ہو، تم آنکھوں میں در آئی خباثت کو مخمور نگاہی کے پردے میں چھپاتے  ہو اور تمھاری گھناؤنی انگلیاں بہانے بہانے ہماری سمت بڑھنے کو اور ہم سے متعلق کوئی بھی چیز ہماری، نوٹ بک، ہمارا قلم، یا ہمارا لیا گیا کوئی پرنٹ آؤٹ چھونے کو مچلتی ہیں اور تم ہمارے ہاتھ سے لی ہوئی کسی بھی چیز کو پُرخیال انداز میں پکڑ کر سہلانے لگتے ہو، تو جان لو عین اس لمحے، ہم جان چکے ہوتے ہیں کہ تمھارے دماغ میں کیا چل رہا ہے، تم انسانیت کی کن گہری ترین پستوں میں گُم ہو۔

یہ جو لذت کوشی کی دھن تمھارے ذہن پر سوار ہے اور جو تم ہمارے کام، ہماری کامیابی یا ہماری ذہانت کی بجائے ہمارے وزن اور رنگت کے ترازو میں ہمیں تول رہے ہو، ہم سب جانتے ہیں۔  یہ جو تم اپنی کرسی پر ذرا آگے کو جھک آتے ہو، جو تم ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کسی بھی بےمعنی بات کے معنی پوچھنے لگتے ہو تاکہ ہمارا چہرا تمھاری آنکھوں کا فوکس رہے اور تم اپنے عضوِ مخصوص کو سہلاتے ہوئے ہمارے ہلتے لب دیکھے جاؤ اور تمھارے شہوانی جذبات برانگیختہ ہوتے جائیں۔  بلاشبہ، ہم جانتے ہیں کہ اس ساعت تمھارے اندر کونسے سرور کی لہریں اٹھ رہی ہیں اور تم کس تصوراتی  میں غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہو۔

سنو یہ وہ پرانے زمانے کی عورت نہیں، جو فلم زدہ ہو اور تمھاری نگاہوں کے تعاقب کو محبت کی آنکھ مچولی سمجھے۔ ہم جانتے ہیں! ہاں ہمیں سب علم ہے کہ محبت اور شہوت کی سرحدیں کہاں جدا ہوتی ہیں۔ ہمیں ادراک ہے کہ  تمھارےجسم میں اٹھتی پُرلذت تحریک اور سلگتی آگ کے پرے محبت نہیں کوئی اور خبیث جذبہ موجود ہے۔ وہی خبیث جذبہ، جسے صرف مقابل کو پسپا کرنا اور اسے ایک شے سمجھ کر استعمال کرنا آتا ہے۔ تمھاری نوازشیں، تمھارا غیرضروری میسجز کرنا، اپنی توجہ کا اظہار اور اس توجہ کے ثبوت میں چوری چھپے ہمیں یہ جتانا کہ تم ہمیں غیر ضروری فیور دیتے ہو اور جواباً ہم پر لازم ہے کہ ہم تمھیں دیکھ کر مسکرائیں تاکہ  جواباً تم اپنے سینے کو سہلا کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے ہمارے نشیب و فراز کو اپنی نگاہوں میں تولتے رہو۔ انجان نہ  بنے رہو کہ ہمیں کچھ علم نہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تمھاری آنکھوں کی پتلیوں میں لپکتی شیطانیت تمھیں اسفل السافلین بنا چکی  ہوتی ہے۔

ہاں تم انجان ہو، اس نفرت کی شدید لہر سے جو ہمارے دل میں تمھارے لیے اٹھتی ہے۔ تم یقیناً نہیں جانتے کہ اس وقت تمھارے منھ پر ایک زور کا تھپڑ رسید کر دینے کی خواہش کیسے ہم میں زور پکڑتی ہے، اور تم یہ بھی نہیں جانتے کہ تم اس وقت ہمارے لیے اس کائنات کے سب سے غلیظ انسان ہوتے ہو، اور تمھیں یہ بھی خبر نہیں  کہ تمھاری کریہہ صورت پر تھوک دینے کو ہمارا بھی دل مچلتا ہے اور تمھیں یہ بھی نہیں پتا کہ تمھارا وجود ہمیں بدبو اور پیپ زدہ محسوس ہوتا ہے اور ہمیں  بےاختیار ابکائی آتی ہے۔

آج تم یہ جان لو کہ ہم تم سے بہتر ہیں۔ ہمیں خود پر قابو پانا آتا ہے۔ نہ ہی ہمارے جذبات تمھاری طرح شتر بےمہار گھومتے ہیں اور نہ ہی نفرت۔ ہم اپنی نفرت کو بھی سنجیدگی کے پردے میں چھپا کر اس جگہ سے اٹھ جاتے ہیں جہاں تمھاری شیطانیت بےلگام ہونے لگتی ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا سفر طویل ہے، بہت طویل۔ ہمارا مقصد عظیم ہے: ہمیں اس سماج کی وسعتوں میں اپنا نام اور پہچان بنانی ہے۔ اپنی ہم صنفوں کے وقار کی حفاظت کرنی اور انھیں بااختیار بنانا ہے۔ ہم جو گھر سے نکلتی ہیں، ہم وہ صفِ اول کی مجاہدہ ہیں جو اپنی صنف کے لیے کامیابی کی جانب قدموں کے نشان بنا رہی ہیں تاکہ ان پر چلنے والی ہماری وہ ہم جنس جو آج گھروں یا تعلیمی اداروں میں ہیں کل وہ نہ صرف گھریلو استحصال، مارپیٹ، گالی گلوچ سے بچ سکیں بلکہ جب وہ کمانے اور کرئیر بنانے نکلیں، تو  انھیں تم جیسے درندوں کے آگے استحصال کا شکار بھی نہ ہونا پڑے۔ اب وقت بدلنے ہی والا ہے۔ ہم نے اب تک خود کو منوایا ہے، آگے بھی حوصلے سے اپنی جگہ بنائیں گی۔  کل، ہاں آنے والا کل صرف تمھارا نہیں، ہمارا بھی ہوگا اور تم ہمارے ساتھ اسی صورت چلنے قابل ہوسکو گے جب تم اپنی نگاہوں میں احترام لاسکو۔

وقت ہے سمجھ جاؤ۔۔۔۔ ورنہ وقت تم کو سمجھا دے گا!

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے