متفرقات

نہ تم بدلے نہ ہم بدلے!

آج تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے اور تینوں مرتبہ کرپشن اور دروغ گوئی کی بنا پر اس عظیم  منصب سے فارغ کیے جانے والے نواز شریف کسی عظیم فاتح کی طرح اپنی دختر مریم نواز کے ہمراہ پاکستان آرہے ہیں۔ ایک طرف  ن لیگ کے جیالوں نے ان کے فقید المثال استقبال کے لیے تیاریاں کررکھی ہیں تو دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کسی بھی بدنظمی سے بچنے کے لیے حفظِ ماتقدم کے تحت کئی کارکنان کو پہلے ہی حراست میں لے لیا ہے۔ یہ تو سب  ہی جانتے ہیں کہ انہیں احتساب عدالت نے ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کے جرم میں 10 برس قید کی سزا سنائی ہے اور اسی  لیے انھیں لندن سے  واپسی پر لاہور ایئرپورٹ  ہی سے گرفتار کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

ان کی گرفتاری سے قطع نظر یہ بات بھی خاصی اہم ہے کہ ان کے لگائے ہوئے پودے اور بیوروکریسی میں نوازے ہوئے سپوت جو اب میڈیا میں کالموں پر طبع آزمائی یا ٹی اسکرینوں پر بلند بانگ دعوے کرتے ہیں اس وقت  اپنے ہردلعزیز قائد کی محبت میں اس قدر گرفتار ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والے تمام احتسابی عمل کو ہی مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جس مجرم کو عدالت مہینوں ٹرائل کے بعد سزا سناچکی ہے تو قانوناً اسے فی الفور جیل بھیجا جانا چاہیے۔ وہ وطن واپسی پر اگر جیل بھیج دیئے جاتے ہیں تو یہ کوئی مارورائے قانون امر نہ ہوگا۔ مگر کیا کیجیے ہمارے سیاسی کلچر کا جہاں سیاسی پسند و ناپسند رکھنے والے افراد اپنے رہنما کی ہر برائی کو اچھائی ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں اور اس کے صحیح اور غلط فیصلوں کا کما حقہ دفاع کرنا اپنی پیدائشی فرض سمجھتے ہیں۔

مجھے نواز شریف سے کوئی محبت ہے نہ نفرت۔  میں تو بس یہ دیکھ کر انگشتِ بدنداں ہوں کہ ان کی ذاتی اسٹیل ملیں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتی رہیں جبکہ پاکستان اسٹیل ملز روبۂ خاک ہوگئی ہے، دس ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کے جانے کے باوجود آج بھی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، اور وہ بھی مہنگے فرنس آئل اور درآمد شدہ گیس کے ذریعے۔ گیس بھی انتہائی مہنگے داموں پر قطر سے درآمد کی گئی اور پڑوسی ملک ایران سے سستی گیس کے منصوبے کو پورا نہ کیا گیا۔ سستی بجلی کے حصول کے لیے ڈیم بنانے کی زحمت نہ کی کیونکہ اس کی وجہ سے شاہد خاقان عباسی نے جو قطر سے گیس معاہدہ کرنا تھا اور مبینہ طور پر ایک ارب ڈالر کی رشوت وصول کرنی تھی، وہ نہ ہوپاتا۔ پنجاب اور ملک کے چند اور حصوں میں سڑکوں، انڈر پاسز، موٹر ویز کا جال بچھایا گیا مگر غریبوں کو طبی سہولیات کی عدم فراہمی، بے روزگار ، بے گھری،  سستی تعلیمی سہولیات کی عدم فراہمی کے جال سے نہ نکالا جا سکا۔

میاں شہباز شریف کے  بقول لاہور جو اب پیرس بن چکا تھا، حالیہ بارشوں میں وینس بھی بن گیا۔ پورے صوبے کا 60 فیصد بجٹ لگاکر بھی ایک شہر میں سیوریج کا نظام درست نہ کیا گیا، جس کے لیے محض چند ارب روپے درکار تھے،  جبکہ 160 ارب روپے سے زائد سرمایہ صرف میٹرو ٹرین کی نذر کردیا گیا۔  یہ کیسی ترقی اور منصوبہ بندی ہے۔ ملک کے تمام شہر ہمارے ہیں،  ہر جگہ ترقی ہو، ہر جگہ بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور یہ سب پائیدار بنیادوں پر ہو نہ کہ صرف ایک بارش کی مار۔

مختصراً، اگر بلاتعصب دیکھا جائے تو ان کے تینوں ادوار میں ایسے منصوبوں پر روزافزوں کام کیا گیا، جن میں ٹھیکے دیے جانے تھے۔ نتیجتاً ، فرنٹ مینوں کے ذریعے  کمپنیاں کھول کر اپنے رفقا کو ٹھیکے دیے گئے۔ لہٰذا ان کی معیشت مضبوط اور ملکی معیشت کمزور ہوتی گئی، نیز اس طرح کی نذرانوں پر مشتمل آمدنی سے آف شور کمپنیاں بنالی گئیں۔

دنیا بھر میں کرپشن کے الزام میں حکمرانوں کا احتساب ہوتا ہے وہ جیل جاتے ہیں، اعترافِ جرم کرتے اور سزا مکمل کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جب مہذب ملکوں میں کسی وزیر اعظم یا اعلیٰ عہدیدار پر الزام عائد کیا جاتا ہے تو وہ فی الفور مستعفی ہوجاتے ہیں۔ جبکہ ان سے اپوزیشن کی جانب سے کئی برس سے استعفیٰ طلب کیے جانے کے باوجود سخت ترین ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا گیا اور بالآخر اللہ کا ازخود نوٹس پانامہ لیکس کی صورت میں جلوہ افروز ہوگیا جس نے ان کی بدعنوانی بھی آشکار کردی۔ آج یہ سزا بھگتنے کے لیے پاکستان واپس آرہے ہیں۔  ان کے حمایتی کس منھ سے انہیں معصوم کہہ سکتے ہیں، کیا ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ نہیں چلایا گیا؟ کیا تمام قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے؟  کیا انھیں وزیر اعظم ہاؤس سے پکڑکر کسی نے اڈیالہ جیل کی سیر کرائی ہے یا باقاعدہ ان کے بیانات لیے گئے ہیں؟  

ان باتوں پر سوچے کون!  ہم تو وہی ہیں سدا کے بھولے، شخصیت پرست اور وہ بھی ہمیشہ کی طرح ہمارے جذبات سے کھیلنے اپنا الو سیدھا کرنے والے۔ نہ ہم بدلے، نہ تم بدلے!

 

فیضان رحیم
ترجمہ نگار، صحافی، محقق، بلاگر فیضان رحیم رجائیت پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ مطالعہ اور سیاست و سماجی مسائل پر خامہ فرسائی ان کا مشغلہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے