شخصیات نقطۂ نظر

نازیہ حسن کی یاد میں!

انسانی زندگی میں محبت بھرے ساتھ کی اہمیت زندگی کی تمام کامیابیوں پر حاوی ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ  اولاد کے لیے دل اور تن سے سکھی ہونے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ بچپن سے اپنے والدین کے لبوں سے یہی کلمات سننے کو ملے کہ چھ بیٹیاں ہمیں بہت پیاری ہیں، بیٹیوں سے نہیں لیکن ان کے نصیبوں سے ڈر لگتا ہے۔

امی نمازوں سے بھی طویل دعائیں کرتی نظر آتیں اور جب پوچھو آپ رو رو کر کیا مانگتی ہیں تو جواب ملتا اپنی بیٹیوں کے اچھے نصیب۔ تب تو شاید یہ جواب مطمئن نہ کرتا کہ اس وقت نصیب کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن آج اس عمر میں آکر جب میں بھی اپنی تمام تر حقیقت پسندی کے باوجود  اپنی بیٹیوں کا ذکر آنے پر ان کے نصیبوں کی دعا مانگے بغیر کسی دوسرے موضوع پر نہیں مڑ سکتی تو امی کی دعا کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا، الحمداللہ لیکن سب سے اہم شے جو حاصل ہوئی وہ "سُکھ” ہے۔ ہوسکتا ہے لاکھوں کروڑوں میں نہ بھی کھیلتے ہوں لیکن ہم سب کو محبت کرنے والے زندگی کے ساتھی نصیب ہیں جو ہماری عزت کرتے ہیں اور ہماری خوشی کے لیے مقدور بھر کوشش کرتے ہیں اور دل و جان سے ہم سے وفادار ہیں۔ ہاں یہی تو وہ نصیب ہے جو روح کو شاد و آباد رکھتا ہے۔

آج  13 اگست کو اپنے بچپن کی مٹی مٹی یادوں میں موجود ایک پری  کی برسی کے دن مجھے نصیب کی اہمیت کا ایک بار پھر ادراک ہوا۔ ایک بہت حسین لڑکی جو موہنی صورت کے ساتھ میٹھی آواز کی مالک تھی ۔

پی ٹی وی پر چلنے والے نغمے "ٹاہلی دے تھلے بے کے، وے ماہیا وے ماہیا کریے پیار دیاں گلاں”  پر ہم سب بہنیں کھل اٹھتیں اور پھر ہم سب کو مختلف چیزیں تھما کر کھڑا کرتی زینی آگے امی کا بڑا سا دوپٹہ کاندھوں پر ڈال کر نازیہ حسن کی طرح پرفام کرنے لگتی۔  میری حسن پسند طبیعت یا موسیقی و حسین آوازوں کا شوق مجھے اس لڑکی کو دیکھے ہی جانے پر مجبور کیے رکھتا۔

تب ہی پتا چلا یہ نازیہ حسن ہے ایک زبردست گلوکارہ۔ اور شاید وہی شعور کے قریب کے دن تھے جو مشاہدہ پختہ ہوا اور اپنے بڑے کزنز مہتاب بھائی، فرید بھائی، فریدہ باجی اور شاہد چاچا وغیرہ کے رومز میں نازیہ ذوہیب کی قدآدم تصویروں پر غور کیا۔ ارے یہ تو وہی گانے والی پری ہے۔

فرید بھائی ہم بچوں سے بہت محبت کرتے تھے جب بھی پھوپھو کے گھر سب کزنز جمع ہوتے وہ چھوٹے بڑے سب کزنز کو اپنے کمرے میں بھرتے اور میوزک پلیئر پر  نازیہ ذوہیب کے گانے لگا دیتے۔ فریدہ باجی، رانی باجی اور حنا باجی نازیہ حسن کے انداز میں سلک کی لچک دار اے لائن یا امبریلا انداز کی فراک سلواتیں جس میں کمر پر ویسٹ بیلٹ لگی ہوتی اور جب ہم منھ بسور کر ویسے کپڑوں کی فرمائش کرتے تو کہا جاتا بڑی ہوجاؤ تو ایسے کپڑے ملیں گے۔ خالائیں اور بڑی کزنز  نازیہ کے انداز کاپی کرتی نظر آتیں، نازیہ کا لباس، نازیہ کے بال، نازیہ کی ادا، نشست و برخاست ، بات چیت کا انداز، گانے کا انداز، سب ہی تو  ہٹ تھا۔ لڑکے شادی کے لیے نازیہ حسن جیسی لڑکی کا نام لیتے اور  بڑی آنٹیاں  اپنے لڑکوں کے لیے رشتے کی بات چلاتیں تو پہلا جملہ ہوتا نازیہ حسن جیسی کامنی سی لڑکی ہو تو بات بنے۔

ہزاروں دلوں کی دھڑکن نازیہ حسن جس نے کامیابیوں کی داستانیں رقم کیں، ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھی تو بھائی کی بہترین دوست۔ نازیہ نے بہت محبت سمیٹی لیکن وہ جو لفظ "نصیب” کہا جاتا ہے اس کے ہاتھوں مات کھا گئی۔ وہی محبت نامی  خوشی جس کے آگے دنیا کی ہر نعمت ہیچ سمجھی جاتی ہے، اک وہی اس کے نصیب میں نہ آسکی۔ وہ جو ہر جوان دل کی دھڑکن تھی شادی جیسے اہم معاملے میں مات کھاگئی، اپنے زندگی کے ساتھی کے دل کی دھڑکن نہ بن سکی۔ زندگی کا ساتھی نہ ہم دم بنا نہ دم ساز۔ اشتیاق بیگ نے سلیبرٹی سے شادی تو کی لیکن ان کی محبت ان کے ظرف کو بڑا نہ کرسکی۔ اس شادی کے لیے نازیہ کے والدین کی منتیں کرنے والے کی طلب کا وہ جنون نازیہ کو حاصل کر لینے کے بعد سرد پڑ گیا۔ اشتیاق بیگ شوہر تو بنے لیکن زندگی اور روح کا ساتھی نہ بن سکے۔ دکھوں بھری ازدواجی زندگی طلاق پر منتج ہوئی۔ نازیہ کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی لیکن وہ اسے جی بھر پیار نہ کرسکی، کینسر کا شکار ہوئی اور بےشمار محبتوں کے باوجود ایک اہم ترین محبت سے محرومی کا احساس لیے دنیا سے رخصت ہو گئی۔ دل اور من کا سکھ، روح کی حقیقی مسرت اسے نصیب نہ ہوسکی۔

لاکھ حقیقت پسند ہوکر میں سوچوں کہ شادی زندگی کے لیے حرفِ آخر نہیں۔ شادی کے بن بھی زندگی بہت اچھے سے گزر سکتی ہے۔ محبت کا نہ ملنا ایک سانحہ سہی پر یہ بہت اہم نہیں کہ زندگی کو روگ لگا لیا جائے لیکن کہیں اندر ایک چیز کھٹکتی ہے جو بتاتی ہے کہ سجنے سنورنے پر کسی   بہت اپنے کی پُرشوق نظر ، مقامات کی سیر کے وقت کسی حسین ساتھ کی موجودگی یا چھوٹے چھوٹے دکھ بیان کرنے کو کسی آمادہ سماعت رشتے، آنسوؤں کو ایک محبت بھرے کاندھے، چوٹ پر محبت بھرے لمس، کامیابیوں پر ساتھ اچھلنے کودنے، غرض زندگی کے ہر ہر لمحے کو شیئر کرنے کے لیے ایک محبت بھرا ساتھ لازمی  ہوتا ہے۔

پیاری نازیہ شاید اس ساتھ کو زیادہ نہ جی سکی، تاہم قدرت نے اسے اس کی کامیابیوں  اور سب سے بڑھ کر زوہیب کی صورت پہلے ہی اس کمی کا مداوا ضرور کیا۔ یقیناً نازیہ رب کی پیاری تھی، دعا بھی ہے اور گمان بھی کہ وہ رب کو پیاری ہوجانے والی  رب کے پاس بہت اچھے حال میں ہوگی۔ بہت سکھی بہت مطمئن۔ اللہ پاک نازیہ حسن کے درجات بلند کرے! آمین۔

آخری بات! بیٹیوں کے اچھے نصیب، تن اور من سے سُکھی ہونے کی دعا ضرور مانگیں۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے