حالاتِ حاضرہ نقطۂ نظر

نئے پاکستان کا نعرہ لگاتی پرانی عوام

(13 اگست 2018 کی رات کا احوال)

قومیں اپنے وطن کی سالگرہ کی آمد پر جس محبت اور عقیدت کے جذبے سے سرشار ہو کر  نئے عہد باندھ کر  پھر اس عہد کو  سالگرہ آنے سے پہلے ہی سے ایفا کرنے  کی کوشش کرتی ہے وہ جذبہ کل کی رات  مجھے نظر نہیں آیا ۔ کل بھی میری  نوجوان نسل انھی خرافات میں گم تھی، جنھیں دیکھ کر یوم آزادی کی وہ ساری خوشی ماند پڑ گئی  جو گھر سے نکلتے وقت میرے دل میں تھی ۔ نئے پاکستان کا نعرہ لگاتی قوم سے جو امیدیں  پروان چڑھی تھیں  کہ: وہ جھنڈیاں نہیں پودے لگائیں گ، ے پاکستان کو سر سبز بنائیں گے ۔  اب ملک  کی قیادت نئی نسل کی سوچوں کی ترجمان ہے اب تبدیلی آئے گی اور دنیا دیکھے گی جیسے الفاظ ذہن میں لیے  تبدیلی کو پہلا قدم بڑھاتے دیکھنے کی خوشی تھی وہ گھر کی دہلیز سے گلی کے آخری کونے تک پہنچتے پہنچتے آخری سانسیں لینے لگی تھی ۔ چھوٹے چھوٹے بچے گلی میں ادھر سے ادھر چھوٹے بڑے باجوں سے پیں پیں کرتے ، نت نئے بد شکل ماسک پہنے  نظر آئے  یہ کون سا انداز تھا یوم آزادی منانے کا؟ بچوں کے ذہن تو معصوم ہوتے ہیں انھیں جس  رخ پر لے کر جائیں وہ مڑ جاتے ہیں۔  انھیں شاید ان کے والدین نے آزادی کا مطلب بھی نہیں بتایا ہوگا مگر یہ کھلونے دلا دئیے تو وہ کیسے سمجھ سکتے ہیں قوم کے معنی۔  غلطی تو یہاں میرے گھروں اور گلیوں سے ہی شروع ہو گئی تھی ۔ یہ بچے جھنڈیوں کا احترام تو نہیں جان پائیں گے ہاں وہ بینڈ باجوں ،  بہروپ شکل والے دن سے 14 اگست کو ضرور یاد رکھا کریں گے جس کے آنے کا مقصد یہ سب ہی ہوتا ہے۔ بنیاد ہی یہ تھی ۔۔۔۔۔۔

کہتے ہیں نوجوان نسل قوم کا سرمایہ ہوا کرتی ہے اور جب اس سرمائے کو گھن لگ جائے تو ملت غربت کے دلدل میں ایسی پھنستی ہے کے فاقہ کشی کی نوبت کے بعد ختم ہی ہو جاتی ہے۔ سرمایے کا یہ گھن کن وجوہات کی بنا پر لگتا ہے اس کی صرف ایک وجہ نہیں ، بے شمار ہیں ،عوام، سیاستدان، مسائل ، وسائل کا خاطر خواہ استعمال نہ کرنا، مادہ پرستی،  بے حسی اور پتا نہیں کیا کیا اور ان سب باتوں کے عمل پذیر ہونے میں بھی بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں گو کے ابتداء  سے تصحیح   ضرورت ہے ۔ پر ہر  مقام سے ابتداء کی جاسکتی ہے ۔یہ بحث کسی اور موضوع کی طرف لے جائے گی سو 13 اگست کی رات کا احوال ہی اس موضوع کا اساس ہے  تو وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے چھوڑا تھا۔

گلی سے گزر کر جو آسودگی  افسردگی میں بدلی تھی وہ واپس  آتے آتے پہلے غصے میں بدلی  پھرفکر و   پریشانی اور آخر میں پھر غم میں بدل گئی۔ سڑکوں  اور بڑی شاہراہوں پر  نوجوانوں نے ایک طوفان بد تمیزی بپا کیا ہوا تھا۔ موٹرسائیکلوں کے سائلنسرز نکال کر  تیز رفتار ، شور کرتی یہ موٹر سائیکلیں چھوٹے بڑے کی تمیز کھو چکی تھیں  اور تو اور ایک ایک موٹر سائیکل پر  چارچار لڑکے سوار تھے۔  جس کے من میں جو آ رہا تھا جوش میں کہتے جا رہے تھے ، جملے کس رہے تھے ، خاص کر پاس  گزرتی خواتین پر۔ ون ویلنگ سے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی۔گندے حلیے، پان، بھرے منھ اور جھنڈے کو کمر سے باندھے وہ کس گمان میں تھے کہ پرچم کا احترام کر رہے ہیں ( یہاں ایک غیر ملکی لڑکی کو تو جھنڈے کی بے حرمتی پر فخرسے جرمانہ کر دیا جاتا ہے)۔ جگہ جگہ کھانوں کے اسٹالز پر لوگ دائرے میں بیٹھے مختلف چیزیں کھا رہے تھے پر اس کے باقیات اور کچرا سر عام پھینک کر ملک کو اس رات  ایک الگ ہی انداز میں خراج، عقیدت پیش کر رہے تھے ۔ اسٹالز پر کنڈے کی بجلی سے چراغاں تھا اور اس پر فروخت کیے جانے والا سامان بھی اپنی قیت سے کئی گنا مہنگا تھا ۔ یعنی یہ  رات اور وطن کی محبت کا یہ جذبہ بھی  نفع کمانے کا ذریعہ تھے۔ تیز آواز میں بڑے بڑے میوزک پلیئرز پر لگائے گئے ملی نغموں سے کان پڑیی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی  جو سمع خراشی کے ساتھ ساتھ گھروں میں موجود ضعیف  حضرات اور بمعصوم بچوں  کے  علاوہ ہر ذی روح کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی تھی۔

میں تو پہلی بار نئے پاکستان کے پہلے یوم آزادی کے حوالے سے یہ سوچ کر گھر سے نکلنے کی غلطی کر بیٹھی تھی کہ منظر بدلا ہوگا ۔  ہاں خوشی منائی گئی ہوگی پر زندہ باضمیر اور پر عزم قوموں کی طرح پر ابھی شاید تھوڑا اور وقت لگے گا بہاروں کے جھوم کر آنے میں۔  ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ وہ لڑکے جو موٹر سائیکلوں پر شور کرتے بے کار پھر کر پوری رات کالی کر رہے تھے وہ اپنے اپنے علاقے میں حسبِ استطاعت گلی کوچوں کی صفائی کا اہتمام کرتے اور شہر کی گلیوں میں کوڑا کرکٹ کا رونا روتے شہری ایسے کچرا پھینکتے نہ پھرتے  کہ شہر کی صفائی اور خیال کی ذمہ داری کسی ایک ادارے کی نہیں ہر پاکستانی کا فرض ہے اور اسے ہر ممکن اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔  کم از کم اس دن سے ہی ابتدا کر دیتے۔ملک کو روشن کرتے  مگر دلوں میں  وطن کی محبت روشن کر کے  نہ کہ چوری کی بجلی سے چراغاں کر کے ۔  تیز آوازوں میں ملی نغمے سننے اور سمع خراشی سے بہتر تھا ان نغموں کے مصرعوں کی آواز کو عمل میں بدلنے کی اپنی سی کوشش کرتے۔  یہ وطن ہمارا ہے ہم ہیں پاسباں اس کے  تو پاسباں بن کر وطن کی مٹی کو گواہ بنا لیتے، پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے پاکستان کو خوبصورتی ، خوشحالی اور کامیابی کی زندہ مثال بنا نے میں اپنا اپناکردار ادا کرتے  تو کل 13 اگست کی رات کے نظارے ہی الگ ہوتے۔

گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کیجیے