شخصیات نقطۂ نظر

میری فہمیدہ آپا!

"بچے، پیاری بیٹی، چندا، بیٹا، سنو لڑکے، پیارے بیٹے، اچھے لڑکے” یہ سب اندازِ تخاطب اردو کی عظیم شاعرہ، نقاد، ادیبہ، مترجم، فلسفی، مبصر اور ایکٹیوسٹ کے ہیں۔  مجھے نہیں پتا ادبی تعلقات یا دیگر شاعروں ادیبوں کے حلقے میں ان کا طرزِ تخاطب یہی تھا یا نہیں لیکن میرا رشتہ چونکہ فہمیدہ آپا سے تھا  اس لیے میں جس خاتون سے واقف ہوں وہ درج بالا عظیم الشان صفات سے ہٹ کر ایک سادہ، معصوم، جھلی، بھلکڑ، اور بہت دردمند محبت بھرا دل رکھنے والی خاتون تھیں۔

فہمیدہ آپا کی شخصیت فہمیدہ ریاض سے مختلف تھی یا نہیں یہ مجھے علم نہیں ہوسکا ہاں اس اپنے آپ میں گُم لاپروائی سے چلتی الھڑ سی لڑکی کو دیکھ کر میں کبھی ان کی سوچ کی گہرائی کو نہ تلاش پائی۔ اور شاید میں نےکبھی  کوشش بھی نہ کی۔ آج یہ سطریں لکھتے ہوئے بھی مجھے اس بات پر کوئی خاص افسوس نہیں کہ میں نے ان سے ادب کے میدان میں بہت کچھ کیوں نہ سیکھا ہاں اب کل سے دل اداس سا ہے کہ ان سے انسانیت، محبت اور زندگی گزارنے کے اصول پوری طرح نہ سیکھ پائی۔

فہمیدہ ریاض سے میری پہلی ملاقات ان کی کتاب سے ہوئی یا ان سے یہ یاد نہیں۔ اوکسفرڈ جوائن کرنے سے پہلے بھی کتابی کیڑا تھی لیکن شاید تعلیمی زندگی کے متوازی گزاری گئی عملی زندگی میں نصابی کتب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ادبی کتب بہت زیادہ نہ پڑھ سکی (اور یہ میری زندگی کا ایک اہم پچھتاوا بھی ہے)۔ اوکسفرڈ میں میرے بیٹھنے کے لیے سیٹ کی ایڈجسٹمنٹ کی جارہی تھی اور ایک بک شیلف ہٹایا جارہا تھا۔ وہاں رکھی کتابوں کو ایک ڈبے میں بند کرتے دیکھ رہی تھی جب میری نظروں کے سامنے بدن دریدہ آئی۔ نام کی انفرادیت نے توجہ کھینچی اور میں کتاب اٹھا کر دیکھنے لگی۔ خاتون شاعرہ فہمیدہ ریاض۔۔۔ نام آنکھوں کو جانا پہچانا لگا۔ اپنے لائن منیجر سے کہا سر یہ کتاب لے سکتی ہوں دیکھ کر واپس رکھ دوں گی۔ کتاب دیکھ کر جیسے انھیں کرنٹ سا لگا۔ نظریں چراتے ہوئے بولے یہ پڑھنے والی کتاب نہیں ہے کیا کریں گی اسے دیکھ کر، لائیے۔۔۔ کتاب انھوں نے لے کر رکھ دی لیکن میرے اندر شاید کچھ سوال جاگ اٹھے۔ کیوں؟ ایسا بھی کیا ہے کتاب میں ۔۔۔ فہمیدہ ریاض کون ہیں جنھوں نے کوئی ایسی کتاب لکھ دی ہے جس کا ذکر معیوب ہو۔ ایسا ایک بار تب ہوا تھا جب یونیورسٹی میں منٹو کی کتاب اشو کروائی تو لائبریرین نے خلاف توقع کاغذ میں لپیٹ کر دی۔ مجھے وجہ سمجھ نہ آئی (یا شاید غور ہی نہیں کیا) لیکن جب باہر جا کر کاغذ اتارے  کتاب ہاتھ میں لیے گھومتی پھری تو کئی لوگوں کے ٹوکنے پر سمجھ آیا کہ یہ کچھ معیوب تھی۔

ان کی کتاب تو نہ پڑھ سکی تب لیکن کچھ دن بعد  لنچ کرتے کیفے میں ایک غیر معمولی قہقہے کو سن کر چونکی۔ پوچھنے پر پتا چلا یہ فہمیدہ ریاض ہیں۔ دماغ میں جھماکا سا ہوا۔ بدن دریدہ پر بھی فہمیدہ ریاض لکھا تھا۔۔۔ کیا یہ وہ ہوسکتی ہیں؟ پرنٹڈ عام سا لان کا قمیض شلوار پہنے، کندھوں تک آتے بال اور چشمہ لگائے خاتون جو مست انداز میں باتیں کرتی کچھ مختلف انداز میں ہنس رہی تھیں۔  پھر وہ خاتون اکثر نظرآنے لگیں۔  جھومتے ہوئے چلتی ہوئی ہمارے ہال میں داخل ہوتیں ، بلند آواز میں بات کرتیں، مخاطب کو بغور سنتیں اور سوال بہت کرتیں۔

ایک بار شاید کسی سے پوچھا بھی تھا کہ کیا یہ وہی شاعرہ فہمیدہ ریاض ہیں ، تائید میں جواب ضرور ملا لیکن جب ان کی شاعری کے بارے میں پوچھا تو پتا چلا اچھا لکھتی ہیں بس کچھ خیال نہیں کرتیں، کچھ بھی لکھ دیتی ہیں۔۔۔ ہاں لکھتی سچ ہیں۔

مجھے وہ بہت معصوم لگتی تھیں۔ اکثر ان سے واش روم میں سامنا ہوتا۔ ایسی ہی کسی ملاقات میں انھوں نے مجھ سے پوچھا بچے تم سعد صاحب کے ساتھ ہوتی ہو نا، ڈکشنری پر کام کر رہی ہو۔ میں نے جوش سے ہاں کہا تھا شاید۔ وہ میرے پاس آئیں اور بہت پیار سے میرے گال چھوئے، ذہین بچی۔ کیا کام کرتی ہو ڈکشنری پر۔ میں نے بھی شاید کچھ بڑھا چڑھا کر اپنے بارے میں بتایا اور وہ ایسے مسکرا کر سر ہلاتی رہیں جیسے مجھ سے قابل تو واقعی کوئی نہیں ہے۔ میری ان کی باضابطہ پہلی ملاقات تھی یہ۔ اس کے بعد وہ اکثر میرے پاس آ کر حال احوال پوچھنے لگیں۔ کبھی کوئی لفظ لیے چلی آتیں کہ  بچے اس کے کیا معنی ہوسکتے ہیں۔ میں لغات کی مدد سے معنی بتاتی اور وہ خوشی خوشی چلی جاتیں۔ میں سوچتی مشہور شاعرہ ہیں اور انھیں اس عام لفظ کے معنی نہیں آتے۔۔۔  کچھ عرصے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ وہ معنی تو جانتی تھیں شاید محتاط تھیں یا معنی کا  انھیں علم ہوتا لیکن اپنی تسلی کرنا چاہتی تھیں۔ ہر بار میں انھیں معنی بتاتی وہ مجھے پیار کرتیں اور چلی جاتیں۔

سوشل میڈیا استعمال کرنے کا شوق ہوا ۔ اپنی فیس بک کی آئی ڈی بھی بنا لی کسی کی مدد سے۔ میرے پاس آئیں، بچے کچھ لوگ فیس بک پر اردو میں لکھتے ہیں تمھیں پتا ہے ایسا کیسے ہوتا ہے۔ میں نے بتایا ہاں میں بھی اردو میں ہی لکھتی ہوں فیس بُک پر۔ پھر انھوں نے پیار کیا بلائیں لیں۔ اچھا پیاری بیٹی مجھے بھی سکھاؤ نا۔ میں نے کہا آپ کے کمپیوٹر پر اردو زبان ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگی باقی تو آسان ہے آپ سیکھ لیں گی۔ اب اردو زبان ڈاؤن لوڈ کرنا بھی میری ذمہ داری تھا۔ میں شوق سے گئی اور آئی ٹی والوں سے پرائیویسی کے حوالے سے مدد لیتے ہوئے اردو لینگویج اور فونٹ ڈاؤن لوڈ کردیا۔ ان کا نام اردو میں ٹائپ کر کے دکھایا، بہت خوش ہوئیں۔ ہر آتے جاتے کو روک روک کر دکھایا کہ دیکھو یہ کتنی اچھی بچی ہے اس نے میرے کمپیوٹر میں اردو ڈال دی اب یہ مجھے اردو لکھنا سکھا رہی ہے۔ اب سے انھوں نے مجھے استاد تسلیم کرلیا۔ میں شرمندہ ہوئی جاتی اور وہ ہر شرم، جھجک اور اپنے قد آورادیبہ شاعرہ ہونے کے احساس سے ماورا  میری تعریفیں کیے جاتیں۔ ان کی زبان سے لفظ”بچے “ سننا اس قدر اچھا لگتا کہ حد نہیں۔ مجھے وہ میری امی جیسی لگتی تھیں۔ ان کا لمس اس قدر پُرمحبت ہوتا، ان کے انداز میں سادگی ہوتی، الفاظ اس قدر شیریں ہوتے  کہ دل چاہتا سنتی چلی جاؤں۔ میرے ان کے تعلق میں تو کوئی ادیبہ شاعرہ نقاد تھی ہی نہیں۔ ایک جویائے علم تھی، ایک طالبِ علم، ایک مستقل لرنر جو سیکھنا چاہتی تھیں۔ ایک صاف سلیٹ کی مانند تھی ان کی شخصیت یا انھوں نے کتابِ دل اوردماغ کو سادہ رکھا تھا تاکہ  زیادہ سے زیادہ سیکھ سکیں۔

مجھے ان سے بات کرتے کبھی لگا ہی نہیں کہ وہ بہت عالم فاضل ہیں۔ لفظ ان کے آگے ہاتھ باندھے چلے آتے ہیں یہ مجھے ان کو پڑھے بغیر کبھی  پتا نہ لگا تھا۔ ایک بار اوکسفرڈ کے شیئرڈ فولڈر میں مزدک کے نام سے ایک فائل نظر آئی۔ نام کی انفرادیت کی وجہ سے کھول کر دیکھا۔ کیا تحریر تھی۔ دل جھوم اٹھا۔ میں شاید خالی برتن ہوں جو بہت شور کرتا ہے۔ مجھے اپنے علاوہ بہت کم لوگوں کا لکھا پسند آتا ہے۔ بہت سے بڑے لکھاریوں کو پڑھ کر لگتاہے ایسا یا اس سے اچھا تو میں بھی لکھ سکتی ہوں، ان میں ایسا کیا خاص ہے۔ لیکن مزدک کی وہ تحریر پڑھ کر میں دم بخود رہ گئی۔ منظر کشی اس قدر اعلیٰ پائے کی کہ میں خود کو اس تحریر کا حصہ بنے اپنے آس پاس وہ سب محسوس کر رہی تھی۔ میں بلاشبہ زمان و مکان کی حد سے باہر نکل چکی تھی اور میری زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ مجھے گردوپیش کا ہوش نہ تھا۔ اس فائل میں  چند صفحات ہی تھے لیکن میں  سحرزدہ سی کیفیت میں  بیٹھی تھی۔   مزید پڑھنے کی تشنگی تھی لیکن پوری تحریر کہاں سے ملے گی  اور کیسے علم نہ تھا۔  کس نے لکھا یہ بھی پتا نہیں چل رہا تھا۔ اپنے اس تاثر کو یاد رکھنے کی غرض سے مزدک کا پہلا پیراگراف کاپی کر کے فیس بک پر  پوسٹ کر دیا۔ ان دنوں فہمیدہ آپا  فیس بک استعمال کرتی تھیں اور اس کی پیچیدگیاں مجھ سے ڈسکس کرتی تھیں۔ تب ہی سے میری فرینڈ لسٹ میں بھی تھیں وہ۔ میری پوسٹ دیکھ کر انھوں نے اس پر شکریہ کا کمنٹ لکھا۔ کمنٹ پڑھ کر میرے دماغ میں گھنٹی سی بجی۔ فہمیدہ آپا نے شکریہ کیوں ادا کیا۔۔۔ کیا یہ ان کی تحریر تھی؟ اگر ان کی تحریر تھی تو انھیں اس اقتباس کے ساتھ اپنا نام نہ دیکھ کر برا تو لگا ہوگا۔ یہ تو  بہت غلط ہوگیا۔ اب کیا کیا جائے، پہلے تو تصدیق ہو ان ہی کی تحریر ہے۔ خیر ادھر ادھر سے پوچھا اور تصدیق بھی ہوگئی۔ پوسٹ کو ایڈٹ کر کے”  بشکریہ فہمیدہ ریاض ” لکھ دیا۔ اب اگلی فکر یہ کہ ان کا سامنا کیسے کروں۔

جہاں وہ دور سے نظر آتیں میرا دل دھڑک اٹھتا کہ اب وہ آکر پوچھیں گی کہ میری تحریر تم نے چوری کرلی، یا ناراض ہوں گی، کہیں انھوں نے وہ شکریہ بطور طنز تو نہیں لکھا تھا۔۔۔ کتنے سوال تھے لیکن ان کی طرف سے خاموشی۔ ایک دو دن بعد وہ آئیں میری طرف تو اسی معمول کے انداز میں جھومتی، مسکراتی، اسی سادہ حلیے میں، ویسے ہی سوال لیے۔۔۔ میں گھبرائی گھبرائی جواب دیتی رہی اور پھر وہ ویسے ہی  روز کی طرح پیار کرکے چلتی بنیں۔  ایسی ہی تھیں وہ ۔ ان کے دل میں نہ میل تھا نہ ناراضی، وہ تو محسوس بھی نہ کرتی تھیں کہ کوئی منفی سوچ رہا ہے یا مثبت۔ خدا معلوم انھیں پتا نہ چلتا یا پتا چلتا بھی تو ان کے لیے  اس بات کی کوئی اہمیت نہ تھی۔  وہ کسی کے ماتھے کی تیوریوں کو بھی خاطر میں لائے بغیر اس سے اسی معصومیت سے بات کرتی رہتیں اور ہمیشہ بہت احترام اور پیار سے مخاطب ہوتیں۔

ان کی سیاسی جدوجہد کے بارے میں بھی سنا، فیمنسٹ سوچ کو بھی جانا،  ان پر پرو بھارتی ہی نہیں بلکہ بھارتی جاسوس ہونے کا الزام بھی لوگوں کے منھ سے سنا لیکن صرف حیرت ہوئی۔ دل اور ذہن یک زبان ہوکر کہتے، ارے نہیں! یہ میری جھلی، معصوم سیدھی سادی سہیلی ایسی تو نہیں ہوسکتیں۔ پاکستان مخالف تو کبھی کوئی کلمہ ان کے منھ سے ویسے بھی نہیں سنا تھا میں نے، ہاں پاکستانیوں کے لیے دردمندی ان کے لہجے سے جھلکتی تھی۔ وہ لہجہ نہیں جو مجھ سے مخاطب ہوتا تھا بلکہ فیس بک کی پوسٹوں میں موجود ان کا لہجہ۔ میں روز بروز فہمیدہ ریاض کی فین ہورہی تھی تو  فہمیدہ آپا کے لیے دل میں محبت کا  احساس بھی گہرا ہوتا جا رہا تھا۔

واش روم والی ملاقاتیں بھی جاری و ساری تھیں۔ ایک بار خلافِ معمول ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھیں، چہرہ حسبِ معمول میک اپ سے مبرا تھا۔ پتا چلا ان کا ایک انٹرویو ہونا تھا، میڈیا والےاوکسفرڈ کے آفس آئے تھے۔  انھیں سمجھایا کچھ میک اپ ہی کرلیں یار۔ اسی میٹھے انداز میں بولیں بچے تم خود ہی کر دو میک اپ ۔ میرے پاس بھی لائنر ہی رکھا ہوتا میک اپ کے نام پر یا ایک آدھ لپ اسٹک ۔ ان کی آنکھوں پر لائنر لگاتے ان کے نقوش کو بغور دیکھا۔ کس قدر حسین تھیں وہ آنکھیں۔ کیسا پیارا چہرا تھا۔ بہت حسین خاتون  رہی ہوں گی جوانی میں۔ خاتون کیا وہ تو آج تک لڑکی تھیں۔ البیلی نار میری۔ وہ لمحہ کس قدر قیمتی تھا، اس وقت اندازہ ہورہا ہے۔ فہمیدہ آپا کے ساتھ گزارا ہر لمحہ ایسا ہی زندہ لمحہ ہے نا۔

ان کا نواسا پیدا ہوا۔ وہیں واش روم میں ملاقات ہوئی  تو انھوں نے بتایا اور میں نے  نانی جان سے مٹھائی مانگ لی۔  اقرار کیا نہ انکار، بس بھرپور انداز میں  مسکرائیں اور مجھے پیار کرتی ہوئی چلی گئیں۔ اگلے دن میرے پاس ایک بڑا سا ڈبا لیے آئیں، لو یہ مٹھائی اور اب خود بھی کھاؤ اور سب کو بھی کھلاؤ۔ میں حیران اور اس سے بھی زیادہ خوش ہوچکی تھی۔  ڈبا کھول کر خوشی اور حیرت دونوں ہی کئی گنا بڑھ گئے۔ ڈبے میں موتی چُور کے لڈو  رکھے تھے۔ اب یہ اتفاق تھا یا ان کی محبت۔۔۔ لیکن موتی چور کے لڈو مجھے بےحد پسندہیں۔ عام طور پر یہ ملتے بھی نہیں ہیں۔ میری خوش گمانی ہے کہ ہمارے دل کے تار ملے تھے شاید۔  ایک اور حسین یاد، ایک اور یادگار لمحہ۔ میں نے خوشی سے جھومتے اپنے ہاتھ سے سب کو لڈو بانٹے اور سب سے آخر میں ایک لڈو انھیں تھما کر کہا اب یہ لڈو پہلے آپ کھائیں اور پھر مجھے اپنے ہاتھ سے کھلائیں۔ انھوں نے پہلے خود چکھا اور پھر مجھے اپنے ہاتھ سے کھلایا۔ ۔ کاش یہ محبت جو انھوں نے مجھے دی میں اسے لوٹا سکوں، کاش ان کے ہاتھ سے پایا وہ لڈو کا گرو دان میرے خمیر میں محبت اتار دے۔ یادیں ہی یادیں ہیں۔

اکثر اپنا بیگ، چشمہ، لائٹر، سگریٹ کا پیکٹ واش روم میں بھول جاتیں اور پھر ہر جگہ ڈھونڈتی پھرتیں۔ مجھ سمیت سب کو پتا ہوتا کہ کس کا ہے۔ کوئی نہ کوئی ان تک پہنچا دیتا۔ کبھی  میں کچھ  گم شدہ چیز لے جاکر دیتی تو بہت خوش ہوتیں اور بہت پیار کرتیں۔  ایک بار ان کا چشمہ ملا۔ مجھے شرارت سوجھی چشمے کی تصویر لے کر فیس بک پر "تلاش گم شدہ” کے عنوان سے پوسٹ کردی۔ کچھ دیر بعد مسکراتی  میرے پاس آئیں، شرارتی لڑکی چلو میرا چشمہ دو۔ اور میں جو ان سے مزید شرارت پر آمادہ تھی ان کی معصوم صورت دیکھ کر  مسکرا دی۔ مجھے ان پر بےساختہ پیار آیا  اور انھوں نے اس پیار کا عملی اظہار کرڈالا۔  کے ایل ایف کی افتتاحی تقریب میں جا رہی تھی ایک کولیگ نے آصف فرخی کو پہنچانے کے لیے کتابوں کا پلندہ تھما دیا کہ آپ جارہی ہیں تو پلیز انھیں دے دیجیے گا۔ گاڑی میں اتفاق سے وہ میری ہم سفر تھیں۔ کتابوں کا پلندہ اٹھائے دیکھ کر حیران ہوئیں۔ انھیں سب ماجرا بتایا تو آگے بیٹھے سامان اٹھانے والے لڑکوں میں سے ایک کو بلایا اور وہ پلندہ تھما دیا کہ آصف فرخی تک پہنچا دے اور آکر مجھے بتائے۔ مجھے واقعی اپنی افسری کا کوئی ادراک نہ تھا لیکن انھوں نے مجھے سمجھایا کہ جو کام ہم کرتے ہیں اور ہماری جاب کا تقاضا ہیں ہمارا خلوص ان کے لیے ہونا چاہیے اور یہ کہ کچھ کام ہمیں دوسروں سے بھی کروانا چاہئیں، وہ کام جو دوسروں کی ہی ذمہ داری ہیں۔

وہ کچھ عرصہ اردو لغت بورڈ میں  بھی رہیں۔ یہ ان ہی دنوں کی بات ہے مجھے اپنے لیے لغتِ کبیر کا اکیس جلدی سیٹ خریدنا تھا (بائیسویں جلد اس کے بعد شائع ہوئی تھی)۔  علی کے ساتھ لغت بورڈ گئی ۔  اتفاق سے ان سے سامنا ہوا مجھے دیکھ کر کھل اٹھیں۔ مجھے پتا تھا وہ وہاں مدیراعلی ہیں لیکن ان کی جانب سے پذیرائی کی توقع نہ تھی کہ عہدہ ملنے پر بہت سوں کو رویے بدلتے دیکھ رکھا تھا۔ اپنے کمرے میں بلا کر بٹھایا۔ اپنی ٹیم سے ملوایا، ہمیں چائے پلائی اور جب تک عملہ لغت کی جلدیں جمع کرتا رہا وہ مجھے اپنے پاس بٹھائے علی سے میری تعریفیں کرتی رہیں۔ ان کی محبت نے مجھے فتح کرلیا تھا۔

ایک بار میں  آفس سے جلد واپسی جا رہی تھی۔ وہ بھی جلدی گھر جا رہی تھیں ۔ ہم دونوں آفس کی گاڑی میں تھے۔ وہ پی ای سی ایچ ایس میں رہتی تھیں۔ پوش علاقہ تھا۔  میں کچھ مرعوب سی تھی، لیکن وہ اسی طرح انجان۔ ہم باتیں کرنے لگے اور باتوں باتوں میں پتا چلا کہ یہ کرائے کا مکان ہے جہاں وہ مقیم ہیں۔ کچھ ہی دیر میں ان کا گھر میرے سامنے تھا۔ وہ الوداع کہتی اتر گئیں لیکن میں تو جیسے ایک بار پھر گُم سم ہوچکی تھی۔ اس قدر شکستہ حال مکان میں مقیم تھیں میری محبوب فہمیدہ آپا۔ مکان گویا چیخ چیخ کر اپنی حالتِ زار بیان کر رہا تھا۔ کیا کسی جاسوس کا گھر ایسا ہوگا؟  کیا دنیا کمانے والوں  کی زندگی اس قدر مشکل ہوگی؟ میرا دل ہر منفی پراپیگنڈے کی نفی کر رہا تھا تو آنکھیں نم تھیں۔ ایک بار بیمار تھیں ڈاکٹر کو دکھا کر واپس آئیں تو بےچینی و تکلیف چہرے پر رقم تھی پوچھنے پر پتا چلا کہ رکشا سے واپسی ہوئی تھی اور ٹوٹی پھوٹی سڑک نے تکلیف کو سوا کر دیا تھا۔ گاڑی نہ ڈرائیور نہ کُک کچھ بھی تو دنیاوی سامان نہ تھا ان کے پاس۔

میرے اوکسفرڈ چھوڑنے پر اداس تھیں۔ بہت پیار کیا مجھے۔ تب ہی انھوں نے مجھ سے اوکسفرڈ اور امینہ کی ادب پروری کی تعریف بھی کی جو اس عمر میں انھیں احترام دیتے اور ان کے لیے کسی قدر مالی سہارا بھی تھے۔ وہ مخالفوں، ناقدوں، اور مختلف زاویۂ فکر رکھنے والوں سے بھی محبت کرتی رہیں۔  انھوں نے زندگی میں محبت کمائی تھی اور وہی ان کا اثاثہ تھی۔ دردمند دل والوں کا اثاثہ محبت ہی ہوا کرتی ہے۔

 

 

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

One thought on “میری فہمیدہ آپا!”

  1. حمیرا آپ نے ہم سب کو فہمیدہ آپا سے ملوایا اس کا شکریہ۔ مجھے یاد ہے کئی دفعہ آپ نے چاہا کہ ہم ان سے ملیں لیکن دنیاوی کاموں سے کبھی مجھے فرصت نہ ملی۔ آج اس بات کا افسوس ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے