متفرقات

مزدور کو عزت دو

مزدور کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتے ہيں۔ شاہراؤں اور دیگر ہر قسم کی تعمیرات سے لے کر صنعتی پہیے کا چلنا اور اجناس کے اگانے سے لے کر  ہم تک پہنچنے کا عمل بھی مزدور کا ہی مرہون منت ہے۔

ترقی یافتہ ممالک مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کرتے ہیں۔ کم سے کم اجرت کا تعین مہنگائی کی شرح کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے اور اس پر  ہر سال نظر ثانی بھی کی جاتی ہے۔مزدوروں اور  ان کے  بیوی بچوں کو صحت اور تعلیم کی خصوصی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کی  صحت، سلامتی ، بیمہ  اور پنشن  کا خیال رکھا جاتا ہے نیز  سخت قوانین کے نفاذ سے  مزدوروں کے حقوق کا مکمل دفاع کیا جاتا ہے۔ ان ممالک نے حقیقی معنوں میں مزدور دوست اور فلاحی قوانین نافذ کر رکھے ہیں۔  جبکہ شکایات کی صورت میں لیبر کورٹس فوری انصاف مہیا کرتی ہيں۔

اس کے  برعکس  اگر ہم وطن عزیز  کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ  ہمارے ہاں  مزدوروں کا طبقہ سب سے لاچار،بےبس اور مفلوک الحال  ہے۔ ایک طرف تو  ہوشربا مہنگائی  نے ہمارے مزدور کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔  دوسری طرف مزدوروں  کا استحصال عروج پر ہے۔ اول تو کام ملتا ہی نہيں اور اگر مل بھی جائے تو اجرت بہت کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اجرت کے  وقت پر نہ ملنے اور  سرے سے اجرت کے ہی نہ ملنے کی  شکایات بھی عام ہیں۔ ہمارے ہاں کم سے کم اور حالات و مہنگائی  سے مطابقت رکھنے والی اجرت کا کوئی تصور  موجود نہیں ہے۔  اسی طرح فوری اور یکساں انصاف بھی میسر نہیں۔ صحت، تعلیم،سلامتی اور بیمے  کی سہولیات مزدوروں کو بھی حاصل ہوسکتی ہیں؟  یہ تو کوئی سوچنے کو تیار ہی نہیں۔   نجی شعبے میں یا عام دہاڑی دار  مزدوروں کی پنشن کا کوئی  فعال اور موزوں نظام بھی نہیں  ہے۔

سرکاری و نجی اداروں میں مزدور انجمنیں اگر موجود بھی ہیں تو وہ بااثر طبقات کی نمائندہ ہیں اور اعلیٰ افسران و آجرین سے روپیہ لے کر  اپنے دو چار حاشیہ برداروں کو نواز تے ہوئے خود ہی سب  کچھ ہڑپ کر جاتی ہیں۔ مزدور کو دورانِ کام حادثہ پیش آنے کی صورت میں بھی اکثر اوقات وہ کسی قسم کی  سہولت یا زرِ تلافی سے محروم نظر آتا ہے، حتیٰ کہ ایسی صورتوں میں ہونے والی غیر حاضری پر تنخواہ تک کاٹ لی جاتی ہے۔  

عزت کا لفظ تو مزدور کے لیے گویا شجرِ ممنوعہ ہے۔  مزدور سے گالیوں اور تو تڑاق سے بات چیت  رواجِ عام ہے۔  مزدور کی اجرت میں کٹوتی کے نت نئے بہانے سوچے جاتے ہیں اور نتیجتاً مزدور گھر صرف چند روپے اور آنسو لیے چلا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز میں  مزدوروں کی اپنے بیوی بچوں سمیت خودکشی کے واقعات بھی اب عام ہوتے جا رہے ہیں، لیکن اس سب کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔  ابھی کچھ سال پہلے ایک بھٹہ مزدور   شہزاد کے مزدوری مانگنے پر بھٹہ مالک کی جانب سے توہینِ رسالت کا الزام لگا کر بیوی سمیت جلائے جانے کا واقعہ تو تقریباً سب ہی لوگ جانتے ہوں گے۔

مزدور کی محنت و مشقت کا سفر بچپن سے شروع ہو کر قبر تک ختم ہوتا ہے۔ ہمارا نظام ایک دس سالہ اور ایک اسی سالہ مزدور سے بھی ایک جوان کی سی محنت و مشقت کا تقاضا کرتا ہے اور ايسے تکلیف دہ مناظر جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ مزدور کا بچہ مزدور ہی رہے گا یہ تو  آج کی عیاں حقیقت بن چکا ہے لیکن  بلدیہ ٹاؤن فیکٹری جیسے حادثوں کی صورت میں سیکڑوں مزدوروں کے خاندانوں کی کفالت  کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اس بات کا تعین کرنا بھی تو ہماری ذمہ داری ہے۔

قارئین، ملکی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اس بے بس طبقے پر توجہ دینا اشد ضروری ہے۔ خوش حال مزدور ہی دل جمعی سے کام کر کے خوش حال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتا ہے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے