زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب – پانچویں قسط

ادھاری نیند سے کب نیند آتی ہے

سو، سنبل سو نہ پائی

messages میں درج نظموں کے کئی مصرعوں نے

اس کی نیند اور آنکھوں کے بیچ اِک سُر مگیں جھالر

                                                            بنا دی تھی

تنگ آکر اس نے کاغذاور قلم پکڑا

ابھی کھڑکی میں جاتی رات کی کچھ

                                           سانس باقی تھی

اندھیرے نے ابھی کپڑے نہ بدلے تھے

فقط بادِ صبا نے آنکھ کھولی تھی

جب اُس نے نظم کی یہ آخری چھ لائنیں لکھیں  

سنبل : نیند مجھ سے دور بیٹھی

میری آنکھوں کو ترستی ہے

یہ کیا ہے!

یار۔۔۔۔ سنبل

یہ محبت تو نہیں؟

[ایک گہری اورلمبی سانس کا وقفہ

پھر اس کے دل نے

دھیرے سے کہا]

دل :  شاید ۔۔۔۔

[چلیں اب نظم کو آغاز سے پڑھیے

کہ سنبل کے تذبذب، پیش و پس

اور وسوسوں کاآپ کو

 اندازہ ہو جائے ]

بہت حیران ہوں! یہ کون ہے؟

سنبل:  ارے یہ کون ہے سنبل!

بہت حیران ہوں یہ کون ہے جو

 مجھ کو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے

کیا مرے بھائی کا کوئی دوست ہے؟

اسکول میں ۔۔۔۔ شاید ۔۔۔۔کوئی۔۔۔۔

مگر۔۔۔۔ ایسا تو کوئی بھی نہیں تھا

[سنبل اچانک سوالوں بھری

خود کلامی کے گھیراؤ

میں آگئی ]

سنبل کی ہم زاد : [ روایت کی چادر میں لپٹی ہوئی اُس کے اندر کی سنبل نے اُس سے کہا] چھوڑ اُسے

                        اپنی پڑھائی کر ۔۔۔۔

[کچھ دیر تک سنبل افراز اپنی روایت کی چادر کے گھیراؤ میں

 خامشی کی طرح بھنبھناتی رہی

ایک کروٹ کی اس خامشی سے نکلتے ہوئے

 اس نے تکئے کو منھ  پر رکھا

 گویا

پھر خود کلامی کی شال اوڑھ لی]

 

سنبل: [اپنے آپ سے] مگر پڑھنے میں جی لگتا نہیں

جب بھی کوئی صفحہ پلٹتی ہوں تو اُس کے ایس ایم ایس

                               کے جگنوؤں جیسے چمکتے لفظوں کے پیچھے

                               کتابی صفحہ گُم سا ہونے لگتا ہے

اگر کچھ Paint کرنے لگتی ہوں تو کوئی انجانا سا چہرہ

کینوس کی اوٹ میں سے مسکراتا ہے

میں جب بھی نظم لکھنے کا ارادہ کرتی ہوں توکوئی جانا بوجھا لہجہ

میرے کانوں میں شناسائی کا رس ٹپکانے لگتا ہے

جانے اور انجانے سے جذبے

میں جن سے اب تلک واقف نہ تھی شاید

یا واقف تھی

مگر مجھ کو وہ اپنی خوشبوؤں کے رَتھ میں لے کر

شام کے جیسے دھندلکے میں گھرے، گہرے ، گھنے جنگل میں لے جاتے ہیں

چپکے سے

وہاں میرے علاوہ بھی کوئی ہوتا ہے

لیکن ۔۔۔۔ کون ۔۔۔۔۔!

شاید ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔

وہ جس کی بھینی بھینی گرم سرگوشی بھرے مصرعے مری رگ رگ میں پورے چاند کی نیلاہٹوں کو قطرہ در قطرہ نچوڑے جاتے ہیں

اور میری نیند

نیند مجھ سے دور بیٹھی

میری آنکھوں کو ترستی ہے

یہ کیا ہے یار ۔۔۔۔ سنبل!

یہ محبت تو نہیں!

[ایک گہری اور لمبی سانس کا وقفہ

پھراُس کے دل نے دھیرے سے کہا]

شاید۔۔۔۔

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے