زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب ــ پچیسویں قسط

سمندرکے نرغے میں ہچکولے کھاتی محبت

ظفر احتشام

اور سنبل

محبت کے نرغے میں

ہچکولے کھاتی ہوئی ایک کشتی پہ

قوسِ قزح سے لدی صبحوں، شاموں کے کولاژ میں

اپنے لمسوں کے پیوند

سرگوشیوں کی لَویں

اور آواز کی کترنیں

دھوپ اور چاندنی میں ملا کر

لمحوں کے Tweezer سے چن چن کے

دل کینوس میں اُڑ ستے رہے

وہم کی جھاڑیوں میں اگرچہ

دلِ مبتلا کو

 سنبل کے ذاتی سوالوں کے کیڑے مکوڑے الٹتے پلٹتے رہے

پھر بھی جو اس کے دل میں ظفر کی محبت نے سم بھر دیا

اس نے اُن سب سوالوں کو گُل کردیا

ہم کلامی کے بہت سارے دنوں کے بعد

بہت سارے دنوں کا ایک نشہ

بے خودی، وارفتگی اور اپنے گرد و پیش سے بے ربط و بے ترتیب سی اک بے نیازی،

دلربائی عشوہ و ناز و ادا کا جمگھٹا اور پھر غرورِفتح

کا احساس

سنبل اپنے آئینے کو

اپنے کمرے کی ہر اک شے کو

مس آصف ،کلاس فیلوز، لائبریری، کوریڈورز …

یعنی ہرشے کو بھلا بیٹھی

نیلگوں مخمل میں لپٹی چاندنی کی آہٹیں تک

 اُس سے Jealous ہوگئیں تھیں

محبت ایک وحشت بلکہ دہشت کی طرح اُس کے

حواسوں پر مسلط تھی

مگر یہ گرمیوں کی چھٹیاں!!

یہی الجھن تھی جو اس کے دلِ صد وہم کے اندر

بہت آہستگی سے پل رہی تھی جانے کب سے اور اُسے کل

ہوسٹل سے اپنے گھرواپس بھی جانا تھا

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے