زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب – تئیسویں قسط

Collage of unforgettable moments

of

Love

 

شاید کہ بہار آئی ،زنجیر نظر آئی

قدم رک گئے تھے

نظر جھک گئی تھی

ٹیبل کی ہموار سطحِ تراشیدہ کے درمیاں

اُس کے ہونٹوں کے رنگ ایسا اک تازہ پھول

مسکرانے لگا

سامنے بیٹھا اک خوبرو نوجواں دیکھتا جارہا تھا اُسے

سنبل نے پلکیں اٹھائیں تو وہ بھی اٹھا

خوش لباسی تو جیسے اُسی کا ہی حصہ تھی

اس کے ہونٹوں کے اک کنجِ نادیدہ میں

مسکراہٹ چھپی تھی

اور آنکھوں میں پہچان لینے کی عجلت بھری تھی

ظفر نے اشارہ کیا بیٹھنے کا تو سنبل…

سنبل اپنے خیالوں خیالوں میں ہی

ایک کرسی پہ بیٹھی تو اُس کو لگا

جیسے وہ نیند کی ایک کشتی میں بیٹھی ہے

اور دھند ہے

ایک لیمپ پوسٹ ہے

وائلن کے سروں میں بہاؤ سمندر کا ہے

سامنے اک ہیولا…مگر اس کے ہاتھوں میں

                سگریٹ نہیں

جانے کب تک وہ اِک دوسرے کی طرف دیکھتے ہی رہے

دیکھتے دیکھتے ان کو ایسا لگا جیسے تاروں بھری نیند کی مخملیں کشتی میں ایک جادو بھرا خواب ہے،

خواب کی آب ہے،

جو انھیں بن کہے،

جانے انجانے سے اک جزیرے کی جانب لیے جارہا ہے

یہاں تک کہ دونوں اُسی خواب کی نیلگوں دھند میں

 جیسے تحلیل سے ہوگئے

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے