زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب – بیسویں قسط

ظفر کو پہلی بار ایسا لگا

جیسے

وہ لڑکی اپنی پوری آگہی کے ساتھ

اس کے سامنے

چپ چاپ گردن کو جھکائے

اس کی اِن مانوس مصرعوں سے سجی

              اک نظم…

اپنے نام کی اک نظم سن کرورطۂ حیرت

              میں گم سم ہے

[توقف کے بس اک دو ثانیے

اور پھر ظفر نے

زیرِلب اُس سے کہا]

ظفر:شہرزاد!

ہم پہلی بار

فون پر اک وصل کے لمحے میں ہیں

میں نے اپنی ایک نظم

اپنی ہی آواز میں پڑھ کر تمھارے نام کی ہے

سن رہی تھیں نا!…

[ اکہری سانس کا وقفہ لیا

سنبل نے

 اور بولی]

سنبل:سن رہی تھی میں

مگر یہ نام کس کا ہے جو اکثر تم نے اپنی نظموں کے ماتھے پر لکھا ہے!

ظفر:[ سرگوشی میں بولا] تمھیں کیسا لگا یہ نام!

سنبل:[ایک ٹھنڈی سانس لے کر ] اچھا ہے …

[ظفرکو

شایداُس سے کچھ زیادہ کی توقع تھی

سو اُس نے

اک ذرا حیرت سے پوچھا]

ظفر:بس اچھا ہے!

سنبل:ہاں بہت اچھا ہے لیکن…

ظفر:لیکن کیا!…

[ظفراپنے تجسّس میں گھرا تھا

پھر اُسے یکدم خیال آیا]

ظفر:ارے ہاں…

میں نے تو اب تک تمھارا نام بھی پوچھا نہیں تم سے

[ اور پھر اُس نے وضاحت کی]

ظفر:ایکچولی…یوں ہے …مری نظموں میں اک لڑکی ہمیشہ سے رہی ہے

جانے کیوں اک نظم لکھتے لکھتے ایسے ہی اچانک ایک نام

’’شہرزاد‘‘

ایک مصرعے میں کہیں سے آگیا تھا

اب میں اکثر اپنی نظموں میں نہ جانے کیوں…[ظفرجملہ بدلتا ہے]

اچانک آج اِسی لمحے کھلا مجھ پر کہ وہ تم ہو

قسم ربّ محبت کی

مری دنیا میں تم سے پہلے بھی اس نام کا کوئی نہیں تھا

اور نہ اب ہے، ہاں مگر…تم ہو

[اچانک ہنس پڑی سنبل

ظفر کے سینے میں بھی اُس کی ننھی سی ہنسی کے

چند جگنو ٹمٹما اُٹھے]

چند لمحوں کی بہت گہری خموشی…

جیسے وہ اس خامشی کے پُل کی دونوں انتہاؤں پر

کھڑے ہوں، بیچ میں حائل کئی صدیاں ہوں، سانسیں وقت کی رکنے لگی ہوں

[پھر اچانک اُسے

 سنبل افراز کی

ایک سرگوشی نے چھولیا]

سنبل:ظفر احتشام!

میرا نام

سنبل افراز ہے

اور تم ہو مرے شہرزاد!

[ فون

ہلکی سی Click کے ساتھ

اس کے دیکھتے ہی دیکھتے بند ہوگیا]

ظفرکا دل دھڑک کر رہ گیا

اصل میں اُس کے لیے یہ ایک انہونی سی تھی

ہونی جب ہو جائے تو انہونی سی لگتی ہے

ابھی کچھ دیر پہلے سن رہا تھا وہ ہنسی اس کی

جسے اس نے ابھی تک messages کی شکل میں

سیل فون کے inbox میں ہی save کر رکھا تھا

آج اس نے براہِ راست اس سے بات کی تھی

وہ جسے نظموں میں لکھتا آرہا تھا… شہرزاد!

آج اُسی لڑکی نے وارفتہ سی ہوکر ایک مصرعے میں بنا ڈالا ظفر کو بھی خود اپنا شہرزاد!

اُسی وارفتگی میں پھر ظفر نے

 ضبط کی کچھ ڈوریوں کی گرہیں کھولیں

اور اپنے دل کی دھک دھک میں

دھڑکنے والی اک ننھی سی بات

نظم کرکے بھیج دی سنبل کے نام

آج میں نے تمھاری ہنسی بھی سُنی

اے مری شہرزاد

تم وہی ہو کہ جس کے لیے

میں نے نظمیں لکھیں

رتجگے کاٹے ہیں

اپنے خواب وخیال اور ہجروصال اور کہی ان کہی کے

ہر اک زاویے اور نظموں کے مصرعوں میں،لفظوں میں، حرفوں میں، نقطوں، کشوں، دائروں میں، تمھارے تصورکی تشکیل کی ہے

مری شہرزاد!

آج میں نے تمھاری ہنسی بھی سنی

اور آواز کے زیروبم کے لبادے سے کچھ کچھ جھلکتا ہوا

روشنی کا سراپا بھی دیکھا ہے

جو ہوبہو میرے خوابوں کی تشکیل وتعبیر ہے

سنبل افراز

کیا…

کیا یہ ممکن ہے تم ایک تصویر اپنی مجھے بھیج دو!

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے