زبان و ادب کتب خانہ

محبت کی کتاب – بائیسویں قسط

ذراہوش سے کام لینے کی کوشش کروسنبل افراز

آئینہ:[اپنی گمبھیر آواز میں] کہاں جارہی ہو!

[سنبل نے اپنے لبوں سے لپ اسٹک کو ٹچ کرتے کرتے

پلکیں اٹھائیں اور آئینے میں چور نظروں سے

 اپنے سراپے کو دیکھا تو آئینہ دوبارہ بولا]

آئینہ:کہاں جارہی ہو

تمھارا سراپا مقید ہے مجھ میں

ذرا یہ تو سوچو

یہ مجھ میں اگر ٹوٹ جائے تو تم کیا کرو گی

ذرا ہوش سے کام لینے کی کوشش کرو سنبل ا فراز

وہ لڑکا

کہ جس سے تمھارا فقط messages تک کارشتہ …

[آئینے میں اپنے منھ  پر ہاتھ

رکھ دیتی ہے سنبل اور کہتی ہے]

سنبل:نہیں

یہ رشتہ فقط messages تک کا ہرگز نہیں 

دل سے دل تک کا ہے

دنوں کا نہیں بلکہ صدیوں کا ہے

[سنبل نے آنکھوں کے گوشوں کو

ہلکا سا میچا

ذرا تیز اورفخریہ لہجے میں

آئینے کے قریب آگئی]

سنبل:اگر دل کی دھڑکن

محبت…محبت… محبت کہے

 اور دوری سہے

سانسوں کی لپٹوں میں جلتا ہوا

اور تنہائی کی کالی چادر میں لپٹا ہوا دل

اگراس کا قربِ نفس مانگتا ہو تو سمجھو کہ اب اِس کا بھی آب و دانہ کہیں لگ گیا ہے

جہاں لگ گیا ہے وہیں جارہی ہوں

[تفاخربھرے لہجے میں

 آئینے کی نظر سے ملا کر نظر

 بے نیازی سے کہنے لگی]

سنبل:میں کب جارہی ہوں

یہ تو بس آب و دانہ ہے جو دل کو کھینچے لیے جارہا ہے

مجھے روکنے کی ضرورت نہیں

[اُس  نے آئینے کے دل پہ

اپنی ہتھیلی کو رکھتے ہوئے

پھر کہا]

سنبل :اے مرے آئینے!

اب میں وہ کب رہی

جو تمھیں ایک معصوم حیرت سے تکتی تھی

اب میں تمھیں دیکھتی ہوں تو یہ جانتی ہوں…

میں کیا دیکھتی ہوں

تمھارے جھرو کے میں اپنی جگہ اب جسے دیکھتی ہوں

میں اُس کی طرف جارہی ہوں

مرے آئینے

ٹوٹنے کی نہیں ہو رہی… ورنہ اندرکی دنیا بکھر جائے گی

اب مجھے جانے دے

[آئینہ اُس کو جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا

 وہ ٹوٹا نہیں

ہاں مگر اس کے دل کے کسی کونے میں

 چاندی کا بال سا آگیا]

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے