حالاتِ حاضرہ سماج نقطۂ نظر

مجھے جناح کا پاکستان چاہیے!

مجھے اپنی ماں کے علاوہ کسی انسان سے دلی عقیدت ہے تو وہ ہے جناح۔۔۔ میرا قائد۔ قائد اعظم۔۔

سوچتی ہوں اگر وہ آج زندہ ہوتے تو کیا کرتے۔۔۔ کیا سوچتے۔۔۔یا کہیں اوپر سے، کسی جھروکے سے وہ پاکستان کو دیکھ سکتے تو کیا ہوتا؟

دکھ اور حیرت ہوتی انھیں کہ ان کی آنکھیں بند ہوتے ہی اس ملک پر ایک کے بعد ایک فوجی نے قبضہ کیا۔

 اس پر روتے کہ پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم نے آج تک اپنی مدت پوری نہیں کی۔

وہ شاید آنسو بہاتے یہ دیکھ کر کہ پاکستان کا صدر ایک ایسا شخص ہے جو اسکول میں کھڑا ہوکر اقرار کرتا ہے کہ وہ کبھی اسکول نہیں گیا۔

 ملک کی تاریخ سیاستدانوں کے قتل، سزائے موت، فوجی انقلابات، اسمبلی کی تحلیل اور نااہلی سے بھری پڑی ہے اور پاکستان کا تین بار منتخب شدہ وزیراعظم گلے تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ اور پھر بھی پوچھ رہا ہے کہ” مجھے کیوں نکالا” ۔وہ جو پاکستان کی دولت چرا کر سوئس بینک میں رکھے ہوئے ہے، ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتا ہے۔

جناح کی تاریخی تقریر کسی کو یاد ہے؟ جب انھوں نے کہا تھا” آپ سب آزاد ہیں۔ آزاد ہیں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کو۔ مسلم ہوں یا غیر مسلم آپ سب پاکستانی ہیں ” ان کی تقریر کے یہ حصے نہایت چالاکی اور بد نیتی سے غائب کر دیئے گئے۔قائد دل کو تھام لیتے اقلیتوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک دیکھ کر ۔ چرچ اور مندر جلائے جا رہے ہیں۔ غیر مسلموں کو کہیں زندہ جلایا جا رہا ہے کہیں انھیں چن چن کر مارا جا رہا ہے۔ عقیدے کا اختلاف برداشت سے باہر ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ دوسرے عقیدے والوں کو مار دیا جائے۔ میرے جناح پروگرسیو تھے، موڈریٹ تھے، متوازن تھے۔ اسلامی تھے لیکن خدا کے واسطے انھیں مولوی مت بنایئے۔وہ ملائیت کے مخالف تھے۔ وہ کبھی بھی مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کرتے تھے۔

یہ خیال ہی غلط ہے کہ پاکستان مسلمانوں کے لیے بنا تھا۔ پاکستان بنا تھا اسلام کے اصولوں پر چلنے کے لیے۔ جہاں لوگ امن سے رہ سکیں۔ جہاں ہر انسان کی بلا تفریق تکریم ہو اور سب کو برابر کے حقوق ہوں۔ یہ تصور قران نے دیا اور رسول اللہ نے مدینہ میں ان اصولوں پر اسلامی ریاست بنا کر دکھا دی ، جہاں غیر مسلم تو کیا کافروں کے بھی حقوق تھے۔ جہاں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آ کر بسنا چاہتے تھے کیونکہ وہاں امن تھا۔  یہ وہ خیال تھا جو اقبال کے ذہن میں تھا اور اس خیال اس خواب کو حقیقت بنانے کا کام جناح نے کیا۔ کچھ مولویوں نے نہ صرف دو قومی نظریے کی مخالفت کی بلکہ قائد اعظم کو کافرِ اعظم تک قرار دیا اور پاکستان کو’ ناپاکستان’ یا ‘پلیدستان کے القابات سے پُکارا۔

جس ملک کے حصول کے لیے جناح نے دن رات ایک کیا ، اسے امن کی جگہ بنانا چاہا وہ ملک آج شدید دہشت گردی کا شکار ہے۔ جن مذہبی جماعتوں نے دل کھول کر جناح کی مخالفت کی اور منھ بھر بھر انھیں گالیاں دیں، کافر کہا وہ ایک ایک کر کے یہاں آبسے اور اب اس ملک کی ٹھیکیداری کرنے پر تلے ہیں۔ کیا گذرتی جناح پر یہ دیکھ کر؟

وہ تقریر یاد ہے جس میں میرے جناح نے کہا تھا کہ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اگر اس قوم کی عورتوں کو برابری کا درجہ نہ دیا جائے۔ اور اب عورتوں کے لیے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر تیسرا ہے۔

 اور ملک کے وزرا اور رہنما الحمداللہ ساری دنیا میں جائیدادیں رکھتے ہیں۔ ملک کے رکھوالوں کے گھروں اور لانچوں سے اربوں روپے اور ٹنوں سونا نکل رہاہے۔ اور اسی ملک میں لوگ راتوں کو کھلے آسمان تلے سوتے ہیں۔ بھوک سے تنگ آ کر خودکشی کر رہے ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کے لیے / پر برائے فروخت کی تختی لگائے سڑک کنارے بیٹھی ہیں ۔کیا سوچتے میرے جناح پتہ نہیں نیا پاکستان کیسا ہوگا مجھے تو وہ پرانا پاکستان چاہیے جو میرے قائد نے بنایا تھا؟ منھ بند کریں وہ جو خود کو قائداعظم ثانی کہلا رہے ہیں؟ پہلے خود کو قائد کا ثانی ثابت تو کریں ۔ قائد کا ثانی کوئی نہیں۔ کم سے ابھی تک تو نہیں ہے۔

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے