مذہب نقطۂ نظر

لبیک اللھم لبیک لبیک لاشریک لک

میں چاہ کر بھی اپنی اُن کیفیات ،محبت اور عقیدت کے جذبات کو لفظوں کے پیرائے میں نہیں ڈھال سکتی جو کعبہ شریف پر پہلی نظر پڑتے ہی قلب و نظر روح و بدن کو نصیب ہوئے تھے،
ہر منظر جیسے پسِ منظر کی حیثیت اختیار کر گیا تھا، ہر ہونا نہ ہونا تھا میرا خود کا وجود لایعنی تھا کچھ اور سنائی ہی نہیں دے رہا تھا نہ کوئی آواز نہ کوئی پکار ۔۔۔ کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا اپنا عاصی جسم بھی نہیں ، بس آنکھیں زندہ تھیں،  محسوس کر سکتی تھیں دل کی گہرائی و گیرائی سے شہادت دے رہی تھیں – لا الہ الا اللہ ، ہو ہی نہیں سکتا کوئی معبود بجُز اللہ سبحانہ کے۔
حیرانی سی حیرانی تھی ہجوم کے ہوتے بھی سنّاٹا تھا اور وہ محور جس کے آگے پوری دنیا جھکتی ہے اپنی جانب والہانہ کھینچ رہا تھا جسم میں جان تو اُس منظر کو دیکھ کے آئی تھی،  جینے کا تو مطلب ہی آج ملا تھا اُس مقام پر جو ہر مقام سے مقدم ہے ہر جگہ سے حسین و دلکش ہے۔
سر ہی نہیں پورے کا پورا وجود جھک رہا تھا یہ کشش تو کسی منظر میں نہ دیکھی تھی کبھی ۔۔۔۔ آنسووں کا ایک ہجوم تھا پلکوں پر ۔۔۔۔ معلوم نہیں یہ آنسو شکرانے کے تھے ندامت کے یا اُس جاہ و جلال کے اِس طرح سامنے آجانے کے ،۔ اللہ کے گھر کو دیکھ کر سہی معنوں میں اللہ یاد آرہا تھا۔
دل پر تو خود عجیب محسوسات کا ڈیرہ تھا۔ فرطِ جذبات سے پورا وجود دھڑکن بنا ہوا تھا جو لبیک کی گونج سماعتوں میں پڑنے سے دھڑکتا تھا۔ میں حاضر تھی پورے کی پوری؟  حاضر تھی بھی یا نہیں اُس گھر کی گواہی پر منحصر تھا اتنا ہی بہت تھا کہ اُس بارگاہِ بےکس پناہ میں تھی اُس آغوش میں جو آغوش ِ مادر کو فراموش کر رہی تھی۔ ہوش و حواس عقل و خرد منجمد ہوکر رہ گئے تھے بس ایک مقناطیس اپنی پوری طاقت سے سمیٹ رہا تھا اپنی جانب۔ دور تھی پاس جانے کو دل مچل رہا تھا، پاس جا کے دیکھنے پر دل بے قرار تھا کے چھو لو غلافِ کعبہ، انگلیوں کی پوروں سے چھو بھی لیا پھر دل اور محبت کی کشش چومنے کو اکسانے لگی اُسی سحر میں ہاتھ بڑھے سر جھکا ہونٹوں کو عقیدت سے پیار کرنا بھی نصیب ہوا اور پھر جیسے کوئی ہاتھ پکڑ کر حقیقت میں کھینچ لایا سب یاد آیا اپنی خطائیں بھی اور اللہ کی عطائیں بھی غلاف کعبہ پکڑ کر بلک کر تڑپ کر کتنے ہی آنسو گرے کیا حال ہوا نہیں یاد،
کیسے پہنچی وہاں تک ، کون لایا واپس وہاں سے ، کچھ یاد نہیں ۔ بے خودی میں یاد بھی کہاں رہتا ہے کچھ۔
پوری دنیا میں کل کائنات میں وہی اک گھر موجود تھا جس کی سب مِلک ہے جو میری آنکھوں کے حصار میں تھا۔ بے شک وہی ہے وحدہ لاشریک، یکتا و غالب ۔

میری سانس سے لے کر جہان بھر کا خالق ، اے اللہ اپنا کر کے رکھنا اپنی محبت میں گم اپنا عبد بنا کر اپنے جام کے نشے میں مدہوش و بے خود رکھنا۔
اللہ انسان پر کتنا کرم کرتا ہے ، گنہگار سی آنکھوں کو بھی وہ جلوے عطا کرتا ہے کہ سبحان اللہ ، حقیر وجود کو کہاں تک لے جاتا ہے کیا کیا کرم فرماتا ہے کیا ہی پیارا ہے میرا ربّ کیا ہی پیارا انداز ہے رحم فرمانے کا کرم کے خزانے لٹانے کا ۔
ہم اللہ سے محبت کئے بنا رہ ہی نہیں سکتے وہ چھوڑتا ہی نہیں ایسے ، وہ دکھا دیتا ہے اپنا جاہ و جلال ہمیں اپنی رحیمی و کریمی ہمیں ۔ بےشک ہمیں اللہ کی طرف ہی لوٹنا ہوتا ہے۔

گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کیجیے