سیر و سیاحت مقامات

لاہور کے دروازے

شہر میں داخل ہونے کے لیے قدیم لاہور کے گرد تعمیر کردہ فصیل میں متعدد جگہوں پر دروازے بنائے گئے تھے۔ یہ علاقہ اب اندرون شہر کہلاتا ہے۔ شہر کے شمالِ مغرب میں واقع مغلیہ دور میں تعمیر کیا جانے والا لاہور کا یہ حصہ اپنے اندر کئی صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ مغلیہ دور میں قائم ہونے والے ان دروازوں کو دوبارہ تعمیر کی نیت سے انگریزوں کے دور میں گرا دیا گیا اور اُسی طرز پر پھر سے تعمیر بھی کیا گیا ۔یہ سب دروازے اْنیسویں صدی تک اپنی اصل حالت میں قائم تھے ۔مگر 1947ء کے فسادات میں کچھ دروازوں کو نظرِ آتش کر دیا گیا۔ بعد از کچھ دروازے شکست و ریخت کا شکار ہو کر یا تو بالکل ختم ہوگئے یا کچھ کے محض آثار ہی باقی بچے ہیں ۔ اب کتابوں میں صرف اْن کے نام اور تاریخ ہی ملتی ہے۔ تاحال 13 میں سے صرف 6 دروازے ہی اب تک باقی ہیں جو حکومت کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ذیل میں اُن تمام 13 دروازوں کی فہرست اور کچھ تفصیل موجود ہے ۔

دروازے جو تا حال موجود ہیں:

1۔  بھاٹی دروازہ

2۔ دہلی دروازہ

3۔ کشمیری دروازہ

4۔ لوہاری دروازہ

5۔ روشنائی دروازہ

6۔ خضری/ شیرانوالہ دروازہ

وہ دروازے جو اب موجود نہیں یا اُن کی باقیات ہی موجود ہیں:

7۔ اکبری دروازہ

8۔ مستی دروازہ

9۔ موچی دروازہ

10۔ موری دروازہ

11۔ شاہ عالمی دروازہ

12۔ ٹکسالی دروازہ

13۔ یکّی دروازہ

بھاٹی دروازہ:

قدیم لاہور کی فصیل پر قائم کردہ دروازوں میں ایک دروازہ بھاٹی گیٹ سیّد علی ہجویری المعروف حضرت داتا صاحب کے مزار کی سمت واقع ہے ۔اسے لاہور کا چیلسی بھی کہا جاتا تھا۔ اسے علم و ادب کا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ مغربی سمت میں واقع اس دروازے کا یہ نام اس لیے بھی پڑ گیا کہ جب شہر آباد ہونا شروع ہوا تو اس جگہ بھاٹ قوم آباد ہوئی ۔اصل دروازہ شکستہ ہونے پر انگریزوں نے اس کی دوبارہ تعمیر کی۔

دہلی اور چٹا دروازہ:

مغلیہ دور میں قائم کردہ یہ دروازہ آج کل یونین کونسل 27 کا آفس ،تحصیل راوی ہے۔ 1650ء میں تعمیر کیا گیا اور تاریخی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔یہاں کئی یادگار حویلیاں، اور قدیم بازار اور شاہی حمام ہیں ۔مسجد وزیر خان بھی اس دروازے کے قریب ہے۔ اس کا رخ انڈیا کے شہر دہلی کی طرف تھا اس لیے اسے دہلی دروازہ کہتے ہیں۔

ہر شام یہ دروازہ مقفل کر دیا جاتا تھا۔برطانوی حکمرانی کے دوران یہ دروازہ گرادیا گیا تھاپر برطانوی راج کے دوران ہی پھر بنادیا گیا۔ اس دو منزلہ دروازے میں 10 یا 12 دْکانیں ہیں اور دروازے کی اوپری منزل پر جانے کے لیے سیڑھیاں موجود ہیں۔دہلی دروازے سے اندر رنگ محل کی طرف جائیں تو وزیر خان چوک کے پاس مسجد وزیر خان کا احاطہ شروع ہونے سے پہلے ایک اور دروازہ ہے جو 1934 میں تعمیر کیا گیا ۔ انگریزوں کے دور مین اس پر سفید چونا کر دیا گیا اسی وجہ زمانۂ قدیم سے ہی اسے چٹا دروازہ کہا جانے لگا ۔خستہ حالی کا شکار یہ دروازہ اپنے اندر کئی زمانوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے ۔

کشمیری دروازہ:

کشمیری دروازے کے بائیں جانب شیرانوالہ اور دائیں جانب مست دروازہ ہے۔ دریائے روای کسی زمانے میں یہاں سے گزرتا تھا۔اس لیے شیرانوالہ اور کشمیری دروازے کو شہر سے بلند رکھا گیا تھا ۔ دروازے کا رُخ کشمیر کی طرف ہونا اس دروازے کی وجہ تسمیہ ہے۔چونامنٹ حویلیاں اہم یادگار ہیں ۔شباہت کے اعتبار سے یہ بھاٹی گیٹ جیسا ہے کیونکہ دونوں کو ہی انگریزوں کے دور میں دوبارہ بنایا گیا تھا۔

لوہاری دروازہ:

یہ دروازہ قدیم ترین دروازوں میں سے ایک اور اصلی حالت میں موجود ہے۔اس کا اصل نام لاہوری دروازہ تھا ۔برطانوی دور میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ یہ دروازہ اچھرہ بازر کی سمت کھلتا ہے۔ اسے لوہاری دروازہ غالباً اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں لوہار آباد تھے۔

لوہاری گیٹ کے اندر ابھی تک لوہاری بازار موجود ہے جسے لوہاری منڈی بھی کہا جاتا ہے۔ مسافروں کے قافلے جو ملتان سے آتے تھے وہ گزر بہار خان اور گزر مچھی ہٹہ کے ذریعے اس دروازے سے لاہور میں داخل ہوتے تھے۔ موجودہ لوہاری دروازہ 1864ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ دروازے کے قریب ہی مسلم مسجد ہے جو اسکالر مولانا محمد بخش مسلم کے نام سے منسوب ہے۔لوہاری گیٹ میں موجود قیمتی پتھروں کی دْکان کا کوئی ثانی نہیں ۔نیوین مسجد، چوک بخاری ،لوہار منڈی ،لال حویلی ،مٹی بائی چوک ،چھنڈا چوک ،نوری حویلی ،اور لال حویلی (جو کہ نیشنل کالج آف آرٹس نے اپنی بیٹھک کے لیے لے لی ہے اس کی اہم عمارتیں ہیں۔

روشنائی دروازہ:

روشنائی دروازہ سب سے بڑا اور اونچا ہے۔ عالمگیری دروازے کے بعد مغل بادشاہوں کے ہاتھیوں کا دستہ اسی دروازے سے شہر میں داخل ہوتا تھا۔اس دروازے سے ملحقہ حضوری باغ بھی تعمیر کیا گیا تھا ۔جو شمال میں واقع ہے اور بادشاہوں کی گزر گاہ تھا۔ دریائے راوی جب مغلیہ دور میں قلعہ لاہور اور بادشاہی مسجد کے شمال سے گزرتا تھا تو یہ دروازہ خاص طور پر مسافروں کے لیے روشن کیا جاتا تھا۔اس وجہ سے اس کا نام روشنائی دروازہ پڑ گیا۔ یہ وہ واحد دروازہ ہے جو اپنی اصلی حالت میں اب بھی موجود ہے۔

خضری /شیرانوالہ دروازہ:

یہ گوتھک اندازِ تعمیر کی ایک منزلہ عمارت ہے۔اس کی موجودہ حالت بہت ابتر ہے۔ اس کا نام مغلیہ دور میں خضری دروازہ تھا اور حضرت خواجہ خضر کے نام سے منسوب تھا۔1800ء تک یہ خضری دروازے کے نام سے موسوم رہا بعد از راجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں اس کا نام شیرانوالہ دروازہ رکھ دیا گیا کیونکہ اسے شیروں سے بہت رغبت تھی۔ اس دروازے کے اندر خضری محلہ ابھی تک موجود ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی کٹڑیاں بھی ہیں جیسے کٹڑی باؤ ممتاز ،کٹڑی سدھیر، کٹڑی خیر دین، کٹڑی ہری داس، کٹڑی خوشحال سنگھ اور راجہ دھیان سنگھ وغیرہ۔ ان کٹڑیوں کے دریچے، رہداریاں اور بالکونیاں فنِ تعمیر کا مظہر لیکن زبوں حالی کا شکار حکومت کی توجہ کی منتظر ہیں ۔یہاں بہت سی گلیوں کے نام بھی یادگار ہیں جیسے گلی بیجا رام، کوچہ گنج لال، محلہ نوگرہ، اور دیگر دریائے راوی پہلے اس کے بہت قریب سے گزرتا تھااور کشتیاں اس گیٹ کے پاس کھڑی کی جاتی تھیں۔

اکبری دروازہ:

شہنشاہ اکبر کے نام سے منسوب یہ دروازہ مغل دور کا ایک اور یادگار دروازہ ہے۔ یہ دروازہ مریم زمانی مسجد کی جانب ہے ۔اس دروازے کے اندر ہر طرح کے غلے کی منڈی ہوا کرتی تھی جسے اکبری منڈی کہا جاتا تھا۔ یہ منڈی ابھی تک موجود ہے۔ہاں دروازہ خستہ حالی کا شکار ہوکر بالآخر ختم ہوگیا ہے۔

مستی دروازہ:

مستی دروازہ ابھی تک موجود ہے۔مغلیہ دور میں اس دروازے سے اندر داخل ہوتے ساتھ ہی ایک چلچل ستون تھا۔ جو کہ بہت سے ستونوں پر مشتمل ایک ہال تھا جسے دیوانِ عام و خاص کہا جاتا تھا۔ایک ملازم جس کا نام مستی بلوچ تھا وہ اس دروازے کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا اس لیے یہ دروازہ اسی کے نام سے مشہور ہوگیا۔ یہ دروازہ قلعہ لاہور کے ٹھیک عقب میں موجود ہے۔ اس دروازے میں داخل ہوں تو گلی کے اختتام پر زمانی مسجد ہے۔ اس مسجد کا نام شہنشاہ جہانگیر کی والدہ زمانی بیگم کے نام پر رکھا گیا۔

موچی دروازہ:

موچی دروازے کے دائیں جانب اکبری دروازہ اور بائیں جانب شاہ عالمی دروازہ ہے ۔اس کا پرانا نام موتی دروازہ تھا جو موتی رام جمعدار کے نام سے منسوب تھا ۔موتی رام نے اکبر کے دور سے دم آخر اس دروازے کی دیکھ بھال کی اور جنگ کے دور میں اپنی حکمتِ عملی سے حملہ آوروں کو دروازے سے اندر نہ آنے دیا۔ کچھ مورخین کے نزدیک اس کا پرانا نام مورچی تھا جو بگڑ کر موچی ہو گیا ۔فوج کے پیادے یہاں اس دروازے کے اندر قیام پذیر تھے اور اسی نسبت سے اس کی گلیوں اور محلوں کے نام بھی ہیں۔جیسے محلہ کماں گراں، محلہ تیرا گراں، محلہ لٹھ ماراں، محلہ چابک سوزاں، محلہ بندوق سازاں، اور حماماں والی گلی۔اتنی صدیوں سے آج تک یہ دروازہ سیاسی اہمیت کا حامل ہے ۔جلسے احتجاجی ریلیاں ،اور بڑی بڑی تحریکوں نے یہیں سے ہی جنم لیا۔ موچی باغ تحریکِ پاکستان سے اب تک سیاسی منظر نامے کا اہم حصہ ہے۔انگریزوں کے دور میں شہر کی فصیل چھوٹی کی گئی تو اس دروازے کے دونوں اطراف بنائے گئے بُرجوں کو مسمار کر دیا گیا، جن کی تعمیر پھر دوبارہ نہیں ہو سکی۔ اس لیے اب اس دروازے کے آثار بھی نمایاں نہیں ہاں تاریخ ضرور موجود ہے۔

موری دروازہ:

لوہاری اور بھاٹی گیٹ کے درمیان میں موری دروازہ ہے۔یہ دروازہ اتنا چھوٹا تھا کہ ایک اسپ سوار ہی بمشکل اس میں سے گزر سکتا تھا۔ سلطان محمود جب اپنی فوج کو شہر میں داخل کرنے کی کوئی راہ نہ پا سکا تو اس دروازے کو گرا کر شہر میں داخل ہوگیا۔ انگریزوں کے دورِ حکومت میں اس دروازے کو تھوڑا بڑا کر کے دوبارہ تعمیر کیا گیا پر اس کا نا م اب تک موری دروازہ ہی ہے۔

شاہ عالمی دروازہ:

اس دروازے کا نام اورنگ زیب عالمگیر کے صاحب زادے محمد معظم شاہ عالم بہادر کے نام پر رکھا گیا ۔ 1947ء کے فسادات میں اس دروازے کو بھی نظرِ آتش کر دیا گیا تھا۔یہ دروازہ اب موجود نہیں پر جس جگہ موجود تھا وہاں اس کی ٹوٹی پھوٹی باقیات اب بھی ملتی ہیں ۔یہاں قدیم بازار شاہ عالمی بھی ہے جو بہت مصروف بازار ہے جہاں ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز ہول سیل ریٹ پر دستیاب ہے۔ اس دروازے کے اندر بہت سی یاد گار حویلیاں اور بازار موجود ہیں۔ تقسیم سے پہلے یہاں بڑی تعداد میں ہندو آباد تھے اور سب کاروبار اُن کے ہی ہاتھ میں تھا۔

ٹکسالی دروازہ:

یہ دروازہ بادشاہی مسجد لاہور کے قریب واقع ہے۔ لاہور کا پرانا بازارِ حسن بھی اسی دروازے کے قریب واقع ہے۔ پہلے یہ بازار تہذیب اور رقص وسرود کا مرکز مانا جاتا تھا پر اب یہ صرف رقص کی حد تک محدود نہیں رہا۔ اصل دروازے کے آثار اب غائب ہو چکے ہیں۔ یہاں مغلیہ دور میں ایک ٹکسال واقع تھا جہاں مغلیہ سکے ڈھالے جاتے تھے۔ اس لیے اس دروازے کا نام ٹکسالی دروازہ پڑ گیا۔گو کہ شہر کے سب دروازوں کا موجدِ اعلیٰ شہنشاہ اکبر ہی تھا پر ٹکسالی دروازے کا نام عہد شاہ جہانی سے منسوب ہے ۔اس دروازے پر ٹکسالی مسجد بھی موجود ہے۔ صوفی بزرگ شاہ حسین لاہوری، اور شیخ عثمان کے گھر بھی ٹکسالی دروازے کی حدود میں ہیں۔یہاں شاہ حسین کی بیٹھک ابھی تک موجود ہے جہاں استاد دامن نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ گرم حمام اور حجام کی دکانیں بھی مغل دور سے چلی آرہی ہیں ۔

یکی دروازہ:

یکّی دورازہ دہلی دروازے کے قریب واقع ہے ۔اس دروازے کے نام کے حوالے سے دو روایات موجود ہیں ۔ایک تو یہ کہ اس دروازے کا نام پیر زکی کے نام پر زکی دروازہ تھا جو بعد میں یکی ہو گیا۔ پیر زکی کا مزار بھی دروازے کے دونوں اطراف موجود ہے (سر ایک سرے پر دفن ہے اور دھڑ دوسرے سرے پر)۔ دوسری روایت یہ کہ پہلے یہاں سے شرفاکے تانگے گزرا کرتے تھے اس لیے اسے یکی دروازہ کہتے ہیں ۔یہاں بہت سی قدیم حویلیاں آج بھی موجود ہیں۔ جیسے کہ حویلی نادر والی، لال حویلی، ناظم حویلی، حویلی راجہ اندر ناتھ۔ ان حویلیوں میں سے بہت سی حویلیاں کٹڑیوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔

یہ سب دروازے اور ان سے ملحقہ تعمیرات کی شاہکار عمارتیں حویلیاں ،کٹڑیاں بازار ،محلے، گلیاں، مساجد، ستون، باغات اور دیگر چیزیں ہمارے تاریخی ورثے کا بیش بہا خزانہ ہیں اور عمل تحفظ سے گزرنے کے بعد اپنی پرانی شکل میں واپس لائی جاسکتی ہیں۔ حکومت کو اپنے تاریخی ورثے کے تحفظ کی کوشش میں بہت سے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کو جدید ترقی سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ پرانی شاہکار عمارتوں کی بحالی کے لیے بھی اپنے حصے کا کام کرنا ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف ہماری تاریخ محفوظ ہو گی بلکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کیجیے