نقطۂ نظر

قومی زبان کی افادیت اور اہميت

کیسی  ستم ظریفی ہے کہ ہميں آزادی حاصل کيے سات عشرے گزر گئے لیکن اب تک ہم  اپنی قومی زبان اردو کو  سرکاری حیثیت میں  مکمل طور پر رائج نہ کر سکے۔  حالانکہ دو قومی نظریے، جس کی بنیاد پر پر پاکستان کا حصول ممکن ہوا اس نظریے کی تشکیل  میں اردو ہندی تنازعے ہی نے بنیادی کردار  ادا کیا  تھا۔ ہندو اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دیتے اور اسے نظرانداز کرتے۔   اردو ہندی کا یہ تنازعہ  ہی آگے چل کر پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا اسی لیے قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا تھا کہ "قومی زبان تو اردو ہی ہوگی”۔

اردو ایک جامع اور وسیع ذخیرہ الفاظ کی حامل زبان ہے۔  اردو کی جڑیں نہ صرف اس دھرتی کی تہذیب و ثقافت میں پیوست ہے بلکہ یہ اس خطے میں اپنے قدم جمانے والی دیگر زبانوں کی بھی امین ہے۔ اردو زبان جو سنسکرت اور ہندی سے جنمی ہے، عربی اور فارسی ذخیرہ الفاظ کی حامل ہے؛ اس خطے کی دیگر زبانوں کے ساتھ اپنی اسی مضبوط رشتے داری کے ساتھ یہاں رہنے والی سب ہی اقوام کے لیے لنگوافرینکا (رابطے کی زبان) بن چکی ہے۔  اس لیے بھی پاکستان میں مختلف علاقائی و صوبائی زبانیں بولنے والوں کے مابین اخوت اور باہمی ارتباط  کے حوالے سے مشترک زبان یعنی اردو کا کردار انتہائی اہم ہے۔

قارئين، انسان کی اپنی زبان سے انسيت و محبت کا سفر اس دنيا میں آنکھيں کھولتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔  کہتے ہیں کہ انسان اپنی ماں کی گود سے سيکھنا اور پڑھنا شروع کرتا ہے۔  ماں کی لوری،ڈانٹ ڈپٹ،تربیت اور سکھانے کا تمام عمل اپنی زبان میں ہی ہوا کرتا ہے۔  کچھ بڑا ہوتا ہے اپنی زبان کی مدد سے ہی اپنا پیٹ بھرتا اور والدین سے اپنی فرمائشیں پوری کرواتا ہے۔  ہمارے لوگوں کی مادری زبانیں ، ہماری علاقائی زبانیں ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہیں اور ہم ان کی ترقی کے خواہش مند ہیں تاہم، میری ناقص رائے میں ہماری علاقائی زبانوں کی ترویج کے لیے بھی اردو زبان ہی کردار ادا کرسکتی ہے کوئی بدیسی زبان نہیں جس کا ہماری مادری و علاقائی زبانوں سے کو رشتہ ہی نہیں ہے۔

ہمارے تعلیمی نظام میں اسکول کی سطح پر تعلیم  کا آغاز بھی اپنی زبان سے ہوتا ہے ۔  اگر ہم سرکاری سکولوں کی بات کريں یا اکثریتی نجی اداروں کی (نجی شعبے کے چند اشرافیہ سے تعلق  رکھنے والے تعلیمی ادارے اس میں شامل نہیں)   تو پرائمری تک ساری پڑھائی اردو میں ہوتی ہے ۔ بچے کی مشکلات کا اصل آغاز عموماً ان تعلیمی درجات  سے ہوتا ہے جب انگریزی کو بطور لازمی مضمون پڑھنا پڑتا ہے۔  اردو اور انگریزی کی آنکھ مچولی میٹرک تک چلتی ہے اور کالج میں قدم رکھتے ہی نئی افتاد آن پڑتی ہے کہ سائنس کے تمام مضامين انگریزی میں ہوتے ہيں۔  یوں طالب علم کی  زیادہ  تر صلاحیتیں  اور  قیمتی وقت حصولِ علم  کے بجا ئے انگريزی کی لغات ٹٹولتے اور انگریزی زبان میں  مہارت حاصل کرنے میں لگ  جاتا ہے۔  یونیورسٹی میں جا کر اردو بطور لازمی مضمون  والا باب ہی بند ہو جاتا ہے۔  حالانکہ یہ بات ثابت ہے کہ مادری زبان کے علاوہ ثانوی زبان پر دسترس حاصل کرلینا ہر انسان کے بس میں نہیں، اور یہ ثانوی زبان کا التزام اکثر بچوں کو  تعلیمی عمل ہی سے بےزار کردیتا ہے۔

تمام سرکاری و قانونی امور اور خط و کتابت کے لیے انگریزی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔  اردو کی ایسی بے قدری اور بے توقیری دیکھنے میں آتی ہے کہ دلی افسوس ہوتا ہے۔ اردو بولنے والے افراد کو اکثر ملازمتوں کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے تو انتہائی کم تنخواہ پر ملازم رکھا جاتا ہے۔ انھیں عمومی برتاؤ میں بھی عزت نہیں دی جاتی۔  ہمارے احساس کمتری اور ذہنی غلامی کی انتہا دیکھیں کہ اردو پر عبوررکھنے والے لیکن  انگریزی میں کمزور طلبا، افسران اور سیاست دانوں کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ مذاق اڑانے والے یہ کم فہم لوگ انگریزی، فرانسیسی،جرمن اور چینی  بولنے والے ممالک کی ترقی کے بنیادی راز کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔

کامیاب اور ترقی يافتہ قوموں کی تاریخ اٹھا کر ديکھيں تو ان کی ترقی میں ان کی قومی و مادری زبانوں کا نمایاں کردار نظر آتا ہے۔ کم و بیش ہر مہذب و ترقی یافتہ قوم نے اپنی  کامیابی کے سفر کا آغاز اپنی قومی زبان کو کلی طور پر رائج کر کے کیا ہے۔  بھرپور تحقیق کے باوجود راقم ابھی تک ايسی کوئی  ترقی یافتہ قوم یا ملک تلاش نہیں کر سکا جس نے کسی دوسرے کی زبان اپنا کر ترقی کی منازل طے کی ہوں۔

قارئین، میں ہرگز انگریزی یا کسی دوسری زبان کے خلاف نہيں بلکہ اردو کو بنيادی اور قابل فخر حیثیت  دیتے ہوئے باقی زبانوں پر عبور حاصل کرنے کو حالات کا تقاضا سمجھتا ہوں۔  اسی طرح چین، امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کی ترقی میں ان کی قومی زبانوں کا قابل قدر کردار دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے کہ کوئی  تو ہو جو ہماری قومی زبان کی بے توقیری پر بھی سو مو ٹو لے اور ہماری کامیابی و کامرانی کے سفر کا آغاز کرے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے