شخصیات

عہد یوسفی

کسی نے مشتاق یوسفی کی شگفتہ بیانی اور مزاح کی عظمت کو یوں بیان کیا تھا ” ہم عہد یوسفی میں زندہ ہیں۔ "

یہ سچ ہے میری نسل کے لوگ واقعی اس عہد کے ہیں۔ مزاح سے پہلا تعارف میرا کرنل شفیق الرحمن کی حماقتوں سے ہوا۔۔۔ پھر ایک اور کرنل محمد خان کی بجنگ آمد اور ابن انشا کے کالموں سے ہوتا ہوا یوسفی صاحب کی چراغ تلے، خاکم بدہن اور زرگذشت تک پہنچا۔ بینکنگ کے  خشک شعبہ میں رہ کر اتنی شگفتگی کہاں سے آئی ان میں؟

ان کی خاکہ نگاری کا جواب نہیں تھا۔ حد یہ کہ انہوں نے خود اپنے پر بھی خاکہ لکھا اور خوب لکھا۔ صرف مزاح ہی نہیں ان کی باتوں میں طنز بھی ہوتا تھا لیکن ایسا کہ کسی ماتھے پر تیوریاں نہیں بلکہ لبوں پر مسکراہٹ ہی آتی۔الفاظ میں بلا کی کاٹ تھی لیکن کسی کا خون نہیں بہا۔ اپنے مضامین کے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں :

یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے۔۔۔ یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے”

سوچ رہی ہوں کہ اب کیا ہو گا؟ کیا عہد یوسفی تمام ہوا؟ اب کون ہنسائے گا ہمیں؟ تحریر کی یہ صنف کچھ بنجر سی نظر آتی ہے۔

 مشتاق احمد یوسفی صاحب کی فکر و فن کا ایک زمانہ معترف ہے۔  مشتاق صاحب کی وفات اردو ادب کے لیے یقینا ایک سانحے سے کم نہیں۔ ان کی وفات پر ہم نے  نوشتہ کے  قارئین کے لیے  یوسفی صاحب کے معاصرین کے تاثرات قلم بند کیے ہیں۔


"صاحب اسلوب نثر نگار کے طور پر کوئی بھی آدمی شاید ان کے قد و قامت کا آج کے دور میں نہیں ہے۔ نثر کی جتنی جہتیں، اچھی نثر کی جتنی پہچان ہوتی ہے، جتنے طریقے سے کسی نثر کو کہا جاتا ہے کہ یہ اچھی نثر ہے، وہ تمام کی تمام ان کی نثر میں نظر آتی ہیں۔  "

افتخار عارف

شاعر، محقق


"وہ کرداروں کی اچھل پھاند سے نہیں، بلکہ لفظوں کے ہیرپھیر، تحریف، لسانی بازی گری اور بات سے بات نکال کر مزاح پیدا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا وسیع ذخیرۂ الفاظ اور اس سے بھی وسیع تر مطالعہ ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ایسے مزاح نگار ہیں جن کی تحریر سے سرسری نہیں گزار جا سکتا، بلکہ ہر ہر فقرے کو بڑی توجہ اور احتیاط سے پڑھنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات دوبارہ یا سہ بارہ پڑھ کر ہی اس سے بھرپور حظ کشید کیا جا سکتا ہے۔”

ظفرسید

لکھاری


"کچھ ادیب ایسے تھے جو گو زندہ تھے مگر میرے نزدیک وہ صرف کتاب تھے ، گوشت پوست کا انسان نہیں ۔ عبداللہ حسین، انتظار حسین اور مشتاق احمد یوسفی صاحب ۔ شیشوں والی الماری کے پیچھے ان کی تین کتابیں رکھی تھیں ۔ پھر چوتھی میں نے خود خریدی تو معلوم ہوا کہ یوسفی صاحب زندہ ہیں۔ آج ان کی وفات کی خبر ملی تو مزید شدت سے احساس ہوا کہ یوسفی صاحب زندہ ہیں ۔۔۔”

آمنہ مفتی

مصنفہ


"مشتاق احمد یوسفی پہ لکھنے کو تو اک دبستان چاہیے ۔ ۔۔وہ اک تحریک تھے ، اک ادارہ تھے،  اک عہد تھا جس کا نام مشتاق یوسفی تھا ۔۔۔جس کو’ تھا’ کہتے دل کو ٹھیس لگتی ہے۔۔۔۔مگر مجھ سے معمولی اہل قلم بھی یہ ایک بات فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ عہد یوسفی میں زندہ تھے ۔۔ ”

سیمیں کرن

افسانہ نگار ، مصنفہ


یوسفی صاحب کی تحریریں آپ کو ہنسانے اور رلانے دونوں ہی میں کمال ہیں۔ ابھی آپ مرزا کے تبصروں پر مسکرا رہے ہوتے ہیں کہ سیزر کے ایکسیڈنٹ کی تصویر کشی آپ کی آنکھوں کو نم کر دیتی ہے۔ ان کا جانا ہم سب کو اداس کر گیا ہے لیکن وہ اپنے ادبی ورثے کے ذریعے ہمیشہ ہماری یادوں میں مسکرائیں گے۔

ہما قریشی،

ماہر تعلیم، بلاگر

 


مشتاق صاحب کو کالج کے زمانے سے پڑھنا شروع کیا۔ بطور مزاح نگار ان کی ادبی عظمت کا اندازہ ذرا شعور آنے پر ہوا جب ان کی کتاب آبِ گم پڑھی۔ یہ کتاب پڑھ کر ایک اداسی کی کیفیت طاری ہوگئی اور پہلی بار اندازہ ہوا کہ دوسروں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے والا خود کتنا اداس ہے۔ مشتاق صاحب کی تحریر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا مطالعہ اور حسِ مزاح دونوں اعلیٰ ہوں۔ ”

منزیٰ ارشاد

معلمہ، صداکار


"اگر ہم کبھی موجودہ دور کے تحریری مزاح  کو کوئی نام دے سکے تو جو واحد نام میرے ذہن میں اآتا ہے ‘یوسفی ‘ ہے”

"ابنِ انشاء کے یہ الفاظ کتنے صادق ہیں اس بات کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو یوسفی کی تحریری روح کو سمجھ پایا ہو۔ہنسی اور قہقوں کے بیج بو کر دلوں  کو خوشی کے معنوں سے ہمکنار کرنے والا دورِ  یوسفی اختتام کو پہنچا۔مگر شاید ہمیشہ باقی رہنے کے لیے۔۔۔ یہ ستارہء امتیاز، ہلاِل امتیاز، ہجرہ ایوارڈ، قائد اعظم میموریل ایوارڈ،پاکستان اکیڈمی ایوارڈاور اس طرح کے بے شمار چھوٹے بڑے اعزازات مل کر بھی اس بلندی کا احاطہ نہیں کر پائے جس اونچائی کو یوسفی کی فکر و فن چھوتے تھے یا شاید کوئی بھی اعزاز یوسفی جیسی ہستی کو بیان نہ کر پائے۔ ایسے لوگوں کا کوئی نعم البدل ہوتا بھی تو نہیں  جو زندگی کو زندگی بخشنے کے لیے ہی جنم لیتے ہیں ۔اپنی میٹھی تیکھی ہنسی و طنزو مزاح کی باتوں سے زندگی کے معنی فراہم کرتے ہیں ۔ٹھیک اسی طرح یوسفی ایک باب تمام ہوکر بھی کئی نئے باب کھلے چھوڑ گیا۔”

کلیان ہاشمی

ترجمہ نگار، بلاگر


"ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے تھے ۔ یوسفی صاحب نے رخت سفر آخر باندھا اور عہد بدل گیا۔”

رابعہ خرم

لکھاری


 

 

 

 

 

 

 

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے