انتخابات 2018 سیاست شخصیات

شریف خاندان کا مختصر احوال

پاکستان بننے کے بعد 1947ء میں  اننت ناگ کشمیر سے تعلق رکھنے والا کشمیری نسل کا ایک نوجوان اس نئے ملک میں قدم جمانے اور  کاروبار کرنے کا ارادہ لے کر امرتسر کے گاؤں جاتی امرا سے ہجرت کرکے یہاں آیا۔ محمد شریف نام کا یہ نوجوان اپنے ارادو ں کا دھنی اور کام سے انتہائی رغبت رکھنے والا انسان تھا۔ یہ نوجوان اپنے چھ بھائیوں کے ساتھ ایک لوہار کی بھٹی میں مزدوری کیا کرتا تھا جہاں مناسب مزدوری نہ ملنے پر ایک دن کام چھوڑ کر  اس نوجوان نے پانچ سو روپے کی خطیر رقم ادھار  لی اور  1939ء میں اپنے سات بھائیوں کی معاونت سے اتفاق گروپ کے نام سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا ۔ ساتوں بھائیوں کی انتہائی و شبانہ روز محنت اور   ذہانت و کاروباری زیرک کے بل پر خاصی کامیابی حاصل کی۔ پاکستان بننے پر انھوں نے اپنا کاروبار امرتسر سے لاہور منتقل کیا اور لنڈا بازار لاہور میں لوہے کی بھٹی لگائی۔ پاکستان کی صنعت اس وقت ابھی نوزائیدہ ہی تھی۔ کاروبار اور صنعت پر سرکردہ ہندو گھرانے جوق در جوق انڈیا ہجرت کر رہے تھے جبکہ سرحد پار سے لٹے پٹے مسلمان پاکستان آکر اپنی زندگیاں شروع کر رہے تھے۔ ان حالات میں میاں محمد شریف کا کاروبار چمک اٹھا۔

یہ نوجوان اس وقت کے مشہور سیاسی خانوادے شریف خاندان کے سربراہ میاں محمد شریف تھے۔  میاں شریف کے آبا کا پیشہ مزدوری تھا اور یہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ غربت کے باوجود یہ گھرانا شرافت کی دولت سے مالامال تھا۔ مل جل کر رہتے اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے سادہ کشمیری لوگ تھے۔ اپنے بھائیوں میں میاں محمد شریف کو نمایاں مرتبہ حاصل تھا جبکہ دیگر افرادِ خانہ  ان کی سمجھ داری  کے معترف تھے۔ اتفاق گروپ نے پاکستان میں بھی اپنی محنت کے بل پرجلد  نمایاں مقام حاصل کرلیا۔  اور 1971ء تک لنڈا بازار کی ایک بھٹی اب اسٹیل کی بہت بڑی صنعت کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔  تاہم اب اتفاق گروپ فعال نہیں رہا ہے۔ جبکہ اتفاق گروپ سے تعلق رکھنے والے 119 بیتے پوتے پوتیاں ان کے ازدواج و دیگران کے درمیان اثاثوں کی تقسیم جیسے تکلیف دہ معاملات عدالتوں میں بھی پیش ہوئے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے تمام نجی اداروں کو قومیا نے (نیشنلائز کرنے) کا سلسلہ شروع کیا تو  میاں محمد شریف نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر 1974ءمیں شریف گروپ آف کمپنیز  کی بنیاد ڈالی۔  بھٹو کے قومیانے کے بعد میاں محمد شریف نے  متحدہ عرب امارات میں  اسٹیل ری رولنگ ملز کی بنیاد ڈالی۔

قومیائے جانے کے بعد شریف خاندان  نے سیاست  کے میدان میں پیش قدمی کی اور اپنے تعلقات بڑھانے شروع کیے۔  70 کے عشرے کے اواخر میں شریف خاندان کے ضیا الحق سے مراسم  بڑھے جنھوں نے اتفاق فاؤنڈری واپس کردی جبکہ میاں محمد  نواز شریف کو پنجاب کی کابینہ میں وزیر مالیات تعینات کردیا۔

اس زمانے میں اتفاق گروپ ذیل کے چار کاروباری اداروں پر مشتمل تھا:

1۔ اتفاق ٹیکسٹائل

2۔ نواز شہباز انٹرپرائز

3۔ جاوید پرویز انٹرپرائز

4۔ خالد سراج انڈسٹریز (پرائیویٹ) لمیٹڈ

80ء کے عشرے میں نواز شریف وزیر مالیات جبکہ اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہے۔ اسی 80ء کے عشرے میں اتفاق گروپ  میں 1982ء میں اتفاق شوگر ملز، 1983ء برادرز اسٹیل، 1986ء میں برادرز ٹیکسٹائل ملز، 1987ء میں اتفاق ٹیکسٹائل یونٹس 2-3، 1988ء میں خالد سراج ٹیکسٹائل ملز قائم کی گئیں۔

بےنظیر کی پہلی حکومت کے دوران نواز شریف پنجاب کے طاقت ور صوبے کے بے تاج بادشاہ تھے۔ اسی وقت اتفاق گروپ کے بینر تلے برادرز شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز قائم کی گئیں۔ اتفاق گروپ کے بینر تلے یہ آکری منصوبے ثابت ہوئے اور 1990ء میں جب نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو میاں محمد شریف نے اپنے الگ منصوبے قائم کرنا شروع کیے جو اتفاق گروپ میں نفاق کا باعث بن گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب بنے اس وقت گروپ نے  غیرملکی بینکوں سے محفوظ قرض لینے کا فیصلہ کیا جبکہ قومیائے گئے کمرشل بینکوں سے جاری سرمائے کا قرضہ لیا گیا۔  جن منصوبوں کی مالکاری غیر ملکی قرضوں سے  کی گئی  وہ فارن کرنسی ڈپازٹس کے حوالے سے محفوظ تھے جن کی وجہ سے کئی بےنامی کھاتے بھی بنائے گئے جن  کا ذکر  نصیر اللہ بابر اپنی پریس کانفرنسوں میں  کرتے رہے ہیں۔

1989ء میں کوآپریٹو اسکےم ٹریبونل (Cooperative Scam Tribunal)  نے اپنی رپورٹ میں گروپ کے اثاثے 6 ارب ڈیکلیئر کیے۔ 1992ء میں سلمان تاثیر  جو پیپلز پارٹی کے انفارمیشن سیکرٹری تھے، نے “دی پلنڈر آف پاکستان” کے نام سے کتابچہ شائع کیا جس میں  نواز حکومت کی کرپشن کے فسانے تحریر کیے۔  تاثیر کے مطابق اتفاق گروپ نے کمرشل بینکوں سے  12 ارب کے  قرضے  لیے جبکہ گروپ کے اپنے بیان کے مطابق یہ قرضے 4420 ملین روپے تھے، جبکہ ان کے مجموعی اثاثے 6 ارب بیان کیے گئے۔ 1996ء میں اتفاق گروپ دو دھڑوں میں منقسم ہوگیا، پہلے دھڑے میں میاں محمد شریف،محمد شفیع، برکت علی، یوسف عزیز، ادریس بشیر شامل تھے جبکہ معراج دین اور سراج دین دوسرے دھڑے میں شامل تھے۔ تاحال اتفاق گروپ کے ارکان تین گروپس میں منقسم ہیں، 1) شریف گروپ، 2) اتفاق گروپ، 3) حسیب وقاص گروپ۔

شریف گروپ

  1. اتفاق ٹیکسٹائل
  2. مہران رمضان ٹیکسٹائل
  3. برادرز ٹیکسٹائل ملز
  4. رمضان بخش ٹیکسٹائل ملز
  5. محمد بخش ٹیکسٹائل ملز
  6. حمزہ اسپننگ ملز
  7. اتفاق شوگر ملز
  8. رمضان شوگر ملز
  9. چوہدری شوگر ملز
  10. اتفاق فاؤنڈری (پرائیویٹ) لمیٹڈ
  11. برادرز اسٹیل ملز
  12. اتفاق برادرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ
  13. الیاس انٹرپرائز
  14. حدیبیہ پیپرز ملز
  15. حمزہ بورڈ ملز
  16. حدیبیہ انجینیرنگ
  17. خالد سراج انڈسٹریز
  18. الہارون ٹیکسٹائل ملز
  19. حنیف سراج ٹیکسٹائل ملز
  20. فاروق برکت (پرائیویٹ) لمیٹڈ
  21. عبدالعزیز ٹیکسٹائل ملز
  22. برکت ٹیکسٹائل ملز
  23. صندل بار ٹیکسٹائل ملز
  24. حسیب وقاص رائس ملز
  25. سردار بورڈ اینڈ پیپر ملز
  26. ماڈل ٹریڈنگ ہاؤس (پرائیویٹ) لمیٹڈ

میاں محمد شریف کی شادی بیگم شمیم اختر سے ہوئی جن سے ان کے ہاں تین بیٹے تولد ہوئے: میاں نوازشریف، میاں شہباز  شریف اور میاں عباس شریف۔  میاں نواز شریف کی شادی معروف گاما پہلوان کی پوتی بیگم کلثوم نواز سے ہوئی جن سے ان کے چار بچے مریم نواز شریف، اسما نواز شریف، حسن نواز شریف اور حسین نواز شریف ہیں۔ شہباز شریف نے  تین شادیاں  نصرت شہباز، عالیہ ہنی، اور تہمینہ درانی سے کیں جبکہ ان کی اولادیں حمزہ شہباز شریف، سلمان شہباز شریف اور رابعہ عمران ہیں۔  اسما نواز کی شادی  معروف سیاست دان اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار سے ہوئی۔ مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر بھی سیاست کے میدان میں ان کے ہم قدم ہیں۔ ان کے علاوہ   کلثوم نواز کے بھتیجے بلال یاسین، محسن لطیف اور بھانجے عابد شیر علی نیز بہنوئی  چوہدری شیر علی بھی سیاست کے میدان میں سرگرم ہیں۔

نوازشریف کی سیاسی تربیت جنرل محمد ضیاءالحق کے زیر سایہ ہوئی۔ ضیاء دور میں وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء ميں پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرِخزانہ شامل ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کھيلوں کے وزير بھی رہے ۔آمریت کے زیرِ سایہ 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں مياں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبليوں کی سيٹوں پہ بھاری اکثريت سے کامياب ہوئے۔ 9 اپريل ،1985ء کو انھوں نے پنجاب کے وزيرِاعلٰی کی حيثيت سے حلف اٹھايا۔ 31 مئی 1988ء کو جنرل ضياءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا ، تاہم مياں نواز شريف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ 1988ء کی بے نظیر حکومت میں وہ بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے۔

6 نومبر 1990ء کو نواز شريف نے اس وقت بطور منتخِب وزيرِاعظم حلف اُٹھايا جب ان کی انتخابی جماعت،اسلامی جمہوری اتحاد نے اکتوبر 1990ء کے انتخابات ميں کاميابی حاصل کی۔  پہلی شریف انتظامیہ کو غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا، جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ء کو جسٹس نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء میں ایک معاہدے کے تحت استعفا دے دیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔ انہیں اکتوبر 1999ء میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی فوجی بغاوت میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا، جو "طیارہ سازش کیس” کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔ اسی جلاوطنی کے دوران اکتوبر 2014ء کو میاں محمد نواز شریف دل کے عارضے سے انتقال کرگئے۔ 23 اگست، 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بنا پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔  نواز شریف کا یہ تیسرا دورِ حکومت بھی خاصی ہلچل کا شکار رہا۔ عمران خان نے ان پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا ان کے خلاف طویل ترین دھرنا بھی دیا۔ بعد از دنیا بھر کی معروف شخصیات کے خلاف بدترین اسکینڈل پانامہ میں شریف خاندان کے نام شامل ہونے پر انھیں ملک گیر ملامت کا سامنا بھی کرنا پڑا اس کے علاوہ نواز شریف پانامہ کیس کی سماعت کے بعد اقامہ رکھنے کے جرم میں  28 جولائی 2017ء کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے نااہل قرار پائے۔ 6 جولائی 2018ء کو پاکستانی عدالت نے  ایون فیلڈ ریفرنس میں کرپشن ثابت ہونے پر نواز شریف کو دس سال قید اور   ایک ارب انتیس کروڑ روپے جرمانہ، جعلی دستاویزات پیش کرنے اور جرم میں معاونت کے الزام میں مریم نواز شریف کو  7 سات قید اور 32 کروڑ روپے  جرمانے کی سزا سنائی جبکہ شریف فیملی کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا۔ تاحال نواز شریف مع بیٹی و داماد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور 25 جولائی کے الیکشن میں اپنی جماعت کی کامیابی میں ہی اپنی فلاح کے لیے پرامید ہیں۔

سیاست میں آنے سے پیشتر، مریم نواز خاندان کی رفاہی تنظیم کے انتظام میں شامل رہیں اور شریف وقف ( ٹرسٹ)، شریف میڈیکل سٹی اور شریف تعلیمی اداروں کی سربراہ رہیں۔2012ء میں، مریم سیاست کی طرف آئیں  اور انھیں 2013ء کے پاکستان کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ۔ نواز شریف کے خلاف دائر ریفرنسز نیز پانامہ دستاویزات میں ان کا نام آنے پر انھیں کورٹ ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا جہاں وہ بلند بانگ دعوے کرتے دکھائی دیں۔ تاوقت وہ اپنے والد کے ہمراہ جیل کی سلاخوں کے پیچھےسزا کاٹ رہی ہیں۔ مریم کو نواز شریف کا ظاہری وارث اور مسلم لیگ ن کا نیا رہنما سمجھا جانے لگا۔

شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر بھی ہیں۔ شہباز شریف 1988ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی اور 1990ء میں قومی اسمبلی پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993ء پھر پنجاب صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔ 1997ء میں تیسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے، شہباز شریف نے 20 فروری 1997ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ 1999ء کے  طیارہ سازش کیس کے بعد شہباز شریف نے شریف خاندان کے ساتھ سعودی عرب میں جلا وطنی کی زندگی گزاری اور آخرکار 2007ء میں پاکستان واپسی ہوئی۔ پاکستان کے عام انتخابات 2008ء میں کامیابی کے بعد شہباز شریف دوسری بار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 2009ء میں جب صدر آصف علی زرداری نے گورنر راج کا نفاذ کر کے سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب نامزد کیا تو شہباز شریف معزول ہو گئے۔  مئی 2013ء کے انتخابات کے بعد آپ پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے اور اپنی وزارت کی مدت کے 5 سال مکمل کیے۔  اس وقت شہباز شریف مسلم لیگ نون کے صدر کی حیثیت سے انتخابی مہم میں سرگرم و مشغول ہیں۔  شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز بھی سیاست میں سرگرم ہیں اور رکن قومی اسمبلی رہے ہیں۔

حوالہ جات:

http://richpaki.tripod.com/barons.html#Ittefaq

https://en.wikipedia.org/wiki/Ittefaq_Group

https://en.wikipedia.org/wiki/Sharif_family

http://researchpedia.info/mian-muhammad-sharif-founder-of-the-ittefaq-group-of-industries/

https://en.wikipedia.org/wiki/Muhammad_Sharif

http://nawazsharif.blogspot.com/

https://gulfnews.com/news/asia/pakistan/sharif-brothers-split-assets-1.287707

https://www.thefamouspeople.com/profiles/nawaz-sharif-5526.php

 

 

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے