نقطۂ نظر

سچ اور سچائی  کو اہمیت دیں

مشہور ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے۔ سچ کی کڑواہٹ تکلیف تو دیتی ہے لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ   بالآخر جیت بھی حق اور سچائی  کی ہی ہوتی ہے۔  جھوٹ سے عارضی فوائد تو حاصل کیے  جا سکتے ہیں مگر جھوٹ کا ساتھ زیادہ  عرصہ نہیں رہتا اور سچ ایک نہ ایک دن سامنے آ کر ہی رہتا ہے۔ ایک جھوٹ بولنے میں کئی اور جھوٹوں کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے اور یوں انسان اپنے ہی جھوٹ کے گرداب  میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔

مہذب معاشروں میں سچ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔  ترقی یافتہ ممالک میں ہر عوامی اور سماجی عہدہ رکھنے والے سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس نے اپنے حال اور ماضی کی کوئی بھی حقیقت پوشیدہ نہ رکھی ہو۔ وہاں ماضی کے عمل،واقعے یا حقیقت کے قانونی اور اخلاقی طور پر صحیح یا غلط ہونے سے زیادہ  اہمیت  اس بات کو دی جاتی ہے کہ سچائی   سے اسے بیان کر دیا جائے۔ ماضیِ قریب میں   بل کلنٹن اور مونیکا لیونسکی کے معاشقے کی کہانی  اس امر کا واضح اظہار ہے جب  معاشقے  کی اس حقیقت کو چھپانے سے کلنٹن کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔ بیشتر   امریکیوں کے لیے نقطۂ اعتراض یہ معاشقہ نہیں تھا بلکہ  ایک سچائی  اور حقیقت پہ پردہ ڈالنا عوام کے جذبات اور اعتماد کو ٹھیس لگانے کا موجب تھا۔  اس جیسے اور بھی  ان گنت واقعات موجود ہیں جن سے ترقی یافتہ ممالک میں سچائی  کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ہمارے ملک میں سچ اور سچائی   اب کم ہی دکھائی دیتے ہیں ۔  ہر طرف جھوٹ،مکر و فریب کا دور دورہ ہے۔عام آدمی سے لے کر ایوانوں میں بیٹھے   عوامی  نمائندوں تک سبھی جھوٹ کے طومار باندھتے نظر آتے ہیں۔ بیشتر عوامی نمائندے اپنے اثاثے چھپاتے ہیں یا اثاثوں کی حقیقی مالیت کو بہت کم کرکے دکھاتے ہیں جو اکثر  ان کا مذاق اڑوانے کا سبب بھی بنتا ہے ۔  عوامی اجتماعات اور اسمبلیوں میں سر عام انتہائی ڈھٹائی سے  جھوٹ بولا جاتا ہے۔ سیاست دانوں، بااثر افراد کے  جھوٹے وعدے، جھوٹے بیانیے،  بلند بانگ دعوے، مخالف پر  کیچڑ اچھالنے کو تہمتیں اور پیسہ لے کر ان ہی جھوٹے بیانیوں کی میڈیا کے ہاتھوں ترویج ۔

ہماری  ایک اور ستم ظریفی  یہ بھی ہے کہ یہاں کمال مہارت اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے والے سب سے واہ واہ سمیٹتے ہیں جبکہ سچ بولنے والے جو  آٹے میں نمک کے برابر ہیں وہ عموماً  ناکام و نا مراد ہی نظر آتے  ہیں۔  صرف کوچۂ سیاست ہی نہیں بلکہ ہر جگہ اور ہر شعبے میں جھوٹ،مکاری اور فریب زوروں پر ہے۔ تعلیم، صحت، تعمیرات، معاشیات، سماجیات  ہر جگہ جھوٹ کا دور دورہ ہے۔ بولنے والا بھی جانتا ہے جھوٹ ہے، سننے والا بھی جانتا ہے جھوٹ ہے، اور پھر بھی دونوں ہی فریق جھوٹ سنتے ہیں، جھوٹ پر یقین کرتے ہیں۔ اب تو ہم اپنے آپ تک سے جھوٹ بولتے ہیں۔   آپ بھی   اپنے گرد و نواح میں نظر دوڑائیں تو سچائی  کے نا پید ہونے کا احساس شدید سے شدید تر ہو جاتا ہے۔  لیکن حل کیا ہے؟

سچائی!

جی ہاں جھوٹ کے اس سیلِ رواں پر سچائی ہی بند باندھ سکتی ہے۔ سچائی تلخ ہوتی ہے، کبھی دکھ بھی دیتی ہے، لیکن یاد رکھیے،  اس سے پہلے کہ جھوٹ کا یہ  رستا ناسور  پورے معاشرے اور تمام تر انسانی و اخلاقی اقدار کو تباہ کردیے سچائی کا نشتر لے کر عمل جراحی سے گزرنا ہی ہوگا۔ جھوٹ کو اس کی جڑوں سمیت نکال پھینکنا ہی ہوگا۔  ہم سب جب تک انفرادی حیثیت میں سچ سننے، بولنے اور لکھنے کے عادی نہ ہوں گے ہماری اجتماعی زندگی میں سچ اپنی جگہ کبھی حاصل نہ کر پائے گا۔

قارئین، مہذب قوموں اور معاشروں کی پہچان ان کی  اخلاقی قدروں سے ہوتی ہے۔  اپنے آپ سے سچ اورسچائی  کی پاس داری کر کے ہم بھی ایک مہذب قوم بننے کے سفر کا آغاز کر سکتے ہيں۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

2 thoughts on “سچ اور سچائی  کو اہمیت دیں”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے