سماج لائف اسٹائل نقطۂ نظر

سوشل میڈیا اور شخصی تنہائی

سوشل میڈیا کا نام آتے ہی کچھ لوگوں کے حلق میں کونین سی گُھل جاتی ہے۔ ان کے خیال میں لوگوں، بالخصوص نوجوان نسل کو بگاڑنے، شتر بے مہار آزادی دینے والی اور رشتوں نیز اپنائیت کے احساس سے بیگانہ کر دینے والی شے کا نام سوشل میڈیا ہے۔ لیکن کیا حقیقتاً ایسا ہی ہے یا یہ بس لوگوں کی اڑائی ہوئی ایک بے تُکی بات ہی ہے کہ جب کسی پر تنقید کا موقع نہ ملے تو سوشل میڈیا کے استعمال پر ہی اسے لعن طعن کر دی جائے۔ لیکن کیا واقعی سوشل میڈیا ہی قصور وار ہے؟

انسان تو شاید ازل سے ہی تنہا رہا ہے لیکن آج افراد کی اس بھیڑ میں انسان واقعی خود کو تنہا ہی محسوس کرتا ہے، رشتوں کے ہوتے بھی آج کا انسان اکیلا اور اپنے رشتوں کے لیے محض استعمال کی شے بن کر رہ گیا ہے۔ مشینی زندگی نے جذبات کو بھی مشین بنا رکھا ہے۔ نہ لمس میں سکون ہے نہ رشتوں میں احساس۔  دل کسی ایسے کو ڈھونڈتا پھرتا ہے جس سے دل کی ہر بات کہی جاسکے، جسے اپنے دکھ کھول کر سنا دیے جائیں اور یہ خوف بھی نہ ہو کہ وہ ہمارے بارے میں غلط سوچے گا۔ جسے اپنی غلطیاں بتاتے ہوئے شرمندگی نہ ہو اور جسے اپنے ارمان سناتے ہوئے کوئی لاج شرم راہ نہ روکے۔ جو ہم پر اندھا بھروسا کرے اور ہم جس پر اپنی ذات سے بڑھ کر بھروسا کریں۔ جو دکھ میں آنسو پونچھے اور سکھ میں ساتھ ہنسے۔ اب کوئی یہ کہے کہ شادی کے رشتے میں یہ سب حاصل کیا جا سکتا ہے تو اس کے لیے زیرِ لب کچھ مغلظات کے سوا اور کچھ نہیں میرے پاس۔

انسانی رشتوں میں سب سے نازک، سب سے زیادہ اذیت کا سامان بننے والا یہ رشتہ شادی ہی ہے جس میں انسان کو ہر دم خود کو کتنی تہوں میں مقید کرنا پڑتا ہے۔ جس میں جسم کی بےحجابی تو ضرور ہوتی ہے روح کی بے حجابی مفقود ہوتی ہے۔ جہاں بیوی کو آگے بڑھ کر سیکس میں دل چسپی دکھانے پر بھی آبرو باختہ کہلائے جانے کا خوف ہوتا ہے۔ جہاں اپنی مرضی کا لباس پہنے، اور اپنی خوشی سے ہنسنے کی عیاشی بھی میسر نہیں ہوتی۔ کسی سے بات کرنے کے لیے بھی اسے اجازت درکار ہو اور دل کی بات کرنا تو ناممکن۔ کہیں آنے جانے کے لیے الگ محتاجی۔ جی ایک بیوی تو اس معاشرے میں اس قدر بےاعتبار ہے کہ تیس سال کی عمر میں بھی کہیں جانے کے لیے اسے اپنے پانچ سال کے چھوٹے بچے کا سہارا درکار ہوتا ہے ورنہ وہ آبرو باختہ آوارہ عورت ہے۔ جہاں دھڑکنیں ایک ردھم پر ہوں اور دل میں خوشی کے احساس کے ساتھ چاہت اور چاہے جانے کی خواہش اور اپنے وجود کی اہمیت کا احساس ہو وہ رشتہ شادی ہر گز نہیں جہاں شوہر بس مطلب نکل جانے تک ساتھ ہوتا ہے اور پھر کروٹ بدل کر سو جاتا ہے یہ جانے بغیر کہ اس مطلب کے نکل جانے والے پانچ منٹ کے عرصے میں بیوی کے جذبات کس ابال پر پہنچے اور کس طرح نآسودہ اس کے انگ انگ کو چیرتے اس کے اندر دفن ہوگئے۔

ہاں بات تو ہو رہی تھی سوشل میڈیا کی، اور مدعا یہ تھا کہ لوگ سوشل میڈیا کی طرف جوق درجوق بڑھے جارہے ہیں، ان پر تنقید و تنقیص ہو رہی ہے لیکن ان کے اندر کی گھٹن اور فرسٹریشن ان کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ۔۔۔ ہاں اس سے پہلے کہ یہ گھٹن ان کی سانس روک دے وہ اپنے دل کی بات دنیا کو پہنچا دیں۔ کہیں یہ گھٹن جھوٹی تصاویر اور رشتوں کی باہمی محبت کے جھوٹے نظاروں کی شکل میں باہر آتی ہے تو کہیں امارت و شوکت کے مظاہروں کی شکل میں ، کہیں درناک شاعری کی صورت تو کہیں پرائی عورتوں اور پرائے مردوں میں رغبت کی صورت۔ لوگوں کو اندھا بھروسا نہ بھی ملے لیکن اپنی شناخت مخفی رکھ کر جذبات کے ابال کو باہر آنے کا راستہ مل جاتا ہے۔ اس سماج میں جہاں بات کرتے زبان کٹتی ہے، آزادی کا احساس نہیں، سماج کی ان دیکھی ڈور جسم و جاں کو باندھ کر بے دست و پا کر دیتی ہے وہاں اس سماج کے ضابطوں سے چوری چوری ایک کھڑکی کھول کر آزادی اظہار کو راستہ مل جاتا ہے۔

کہیں لڑکیوں لڑکوں کو موزوں رشتے نہیں ملتے تو کہیں ان کے جائز رشتے ان کو چپ اور بےاعتباری کی مار مار دیتے ہیں تو کہیں خیال کے لبادے میں اپنے شک کے پھن پھیلائے ناگ کی تشفی کرنے کو ان کے گرد شکنجے کستے چلے جاتے ہیں۔ کہیں کوئی محبت کو ترستا ہے تو کہیں کوئی تعریف کے چند بول کو، کہیں کوئی اعتبار کو ترستا ہے تو کہیں آزادی کو، کہیں روح کے ساتھ کا کوئی متلاشی اپنی پیاسی روح کی تسکین کا سامان ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ لیکن اس سب کا انجام کیا آنسو، سسکیاں، آہیں، تڑپ اور بس! آج سوشل میڈیا کے ہونے سے لوگوں کو اپنی اس تڑپ اور پیاس کی تسکین کا ایک جھوٹا ہی سہی آسرا تو ملا ہے۔ اندھیرے زندان میں آزادی کا سراب دکھاتا ایک روزن ہی کھُلا ہے تو لوگ اس پر اعتراض کرنے آکھڑے ہوئے ہیں۔

تسلیم کہ اس سے پیاس بجھتی نہیں؛ تسلیم کہ اس سے عزت نفس کے مجروح کیے جانے، احساس کمتری کے درد کو بھلانے اور اپنے سماجی چہرے کو بہت مطمئن دکھانے میں کامیابی کے باوجود سکون کی دولت نہیں ملتی؛ تسلیم کہ ارمانوں کی سیج پر سلگتے جسم کے درد کو درماں نہیں ملتا، تسلیم کہ اس سے روح کا ساتھ میسر نہیں آتا، ہاتھ خالی کے خالی رہتے ہیں، اپنا لاشہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے چلنا ہی پڑتا ہے، یہ سب ناآسودگیاں اپنی شدت نہ بھی کھوئیں لیکن وقتی طور پر ان کی چبھن مٹ ہی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کی یہی خوبی ہے جو لوگوں کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔ لوگ تعریف کے ایک بول، ایک محبت کے اظہار کے لیے سب بھلائے اس کی جانب بھاگ رہے ہیں اس لیے کہ جنھیں یہ دینا تھا وہ اپنی ذمہ داری بھول گئے اور مزید نفرت اگلنے بیٹھ گئے۔

بہتر تو یہ ہوتا کہ رشتے انسان کو احترام دیتے، اس کی پرائیویسی برقرار رکھتے ہوئے اسے اس کی زندگی کی آزادی دیتے، اس کے لباس اور اس کو حاصل سہولیات سے اسے نہ پہچانتے بلکہ اس کی روح کو پہچان کر اسے تکریم دیتے۔ اس کے جسم و روح کی پیاس کو جان کر دل و جسم کی ہم آہنگی کے ساتھ رشتہ قائم کرتے۔ کاش مطلب نکل جانے کے بعد بھی کروٹ موڑنے کی بجائے سینے سے لگا کر لب چومتے اور پیار بھرا جملہ بولتے تو تنہائی کا احساس ہی نہیں مٹتا بلکہ سوشل میڈیا تو کیا اجل بھی اس رشتے کو نہ توڑ پاتی۔۔۔۔ رشتوں میں بڑھتی بے زاری کی وجہ سوشل میڈیا نہیں اس بے زاری سے پیدا ہونے والی تکلیف کا درماں بنا ہے یہ سوشل میڈیا۔ سوچیں! تبدیلی کی ضرورت کہاں ہے۔

 

 

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

One thought on “سوشل میڈیا اور شخصی تنہائی”

  1. عارم ۔ بہت اچھے موضوع پر لکھا ہے آپ نے اور بہت اچھا لکھا ہے۔۔سوشل نیٹ ورک اب زندگی کا حصہ بن گیا ہے۔ ہم اپنی بات، نکتہ نظر، تصاویر اور اپنا اسٹیٹس دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ ۔ دوسروں کی پوسٹ پڑھتے ہیں اپنی دکھاتے ہیں ۔ کسی حد تک آپ پرایویئسی متاثر ہوتی ہے۔ یہ سمجھوتہ تو کرنا پڑے گا۔ جس کو شخصی آزادی چایئے تو وہ اس گلی میں جائے کیوں؟

اپنی رائے کا اظہار کیجیے