طنز و مزاح

بہت آگ چلموں کی سلگانے والے ۔۔۔ مشتاق یوسفی

(زرگشت سے اقتباس)

لطیفی صاحب کے حلقۂ معتوبین میں ہم نہایت ممتاز مقام رکھتے تھے۔ دو مہینے پہلے وہ ہمارے رزق کا دروازہ بند کرنے کی دھمکی دے چکے تھے اور ہم بھی اتنے عاجز آ چکے تھے کہ صبح کا سلام تک بند کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور چیز بند کرنا ہمارے اختیار میں تھا بھی نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ہم دم دبائے رہتے تھے، لیکن اتنے بھی گئے گذرے نہیں کہ اس پر کسی کو کھڑا ہونے دیں۔ انہوں نے اپنے گرد منتخب روزگار نااہل جمع کر لیے تھے جو دوسروں کے لیے بھی وہ پسند نہ کرتے تھے جو اپنے لیے ناپسند کرتے تھے۔ یعنی کام۔ ان کا واحد مشغلہ لطیفی صاحب کی ہر ادا اور ہر لطیفے پر لوٹ پوٹ ہونا تھا۔ اور ہم بڑے لوگوں کی ہاں میں ہاں ملانے سے اس لیے بھی احتراز کرتے ہیں کہ اگر ہم کسی کی رائے سے اتفاق کریں گے تو لوگ اسے احمق سمجھنے لگتے ہیں۔ مولانا محمد حسین آزادؔ یہ نہیں کہتے کہ اکبر اَن پڑھ، جاہل یا کاہل تھا۔ فرماتے ہیں ’’علوم نے اس کی آنکھوں پر عینک نہ لگائی تھی اور فنون نے دماغ پر دستکاری خرچ نہ کی تھی۔‘‘ گویا سارا قصور اور تمام تر کوتاہی علوم و فنون ہی کی ٹھیری جو سراسر حرام خوری اور کاہلی پر اتر آئے تھے۔ لیکن دربار لطیفی کے تو نورتن بھی اپنے بادشاہ پر پڑے تھے۔ یعنی عینک وغیرہ کے تکلّفات سے بے نیاز۔

وہ بغیر عینک کے کہاں سے کہاں پہنچ چکے تھے اور ہم؟ ہم، بقول مرزا، معاشرے کی وہ پسلی ہیں جس میں کہنیاں مار مار کر آگے بڑھنے والے آگے بڑھتے ہیں۔ اب جو ٹھنڈے دل سے محاسبہ کرتے ہیں تو اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ہماری خواری میں ان خصومت سے زیادہ ہماری اپنی ناسمجھی اور ناتجربہ کاری کو دخل تھا۔ ہم جوان تھے برخود غلط تھے۔ (برخود غلط تو آج بھی ہیں، مگر پہلی خرابی دور ہو چکی ہے۔) ان کی مسٹر اینڈرسن سے ٹھنی ہوئی تھی اور ہمیں اس کا قرب خاص حاصل تھا۔ مطلب یہ کہ ہم جنرل منیجر کے اتنے قریب ہو گئے تھے کہ اس کے غیظ و غضب کی ابتدا ہم ہی سے ہوتی تھی۔ پشتو کہاوت کے بمصداق سانڈوں کی لڑائی میں مینڈک کچلے جاتے ہیں۔ سو ہمارا بھی قیمہ ہو گیا مگر ٹرّانا نہ گیا۔ دیکھا جائے تو لطیفی صاحب کو ہم سے کیا عداوات یا رقابت ہو سکتی تھی۔ ان کا ایک ادنیٰ سا افسرانہ مطالبہ تھا جسے ہماری انا سمجھ نہ پائی۔

ام عرشیہ
ام عرشیہ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ عمومی سماجی رویوں کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں یوں بیان کرتی ہیں کہ آپ بیتی اور جگ بیتی ایک دوسرے کا پرتو بن جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے