زبان و ادب نقطۂ نظر

بھائی ممدو کا املا

اردو زبان کہنے کو تو ہم سب ہی بولتے ہیں لیکن جب اردو لکھنے کی باری آئے تو بہت سوں کی سٹی گم ہوجاتی ہے۔ اور جب ان کی لکھی ہوئی اردو کو پڑھنے کی بات آئے تو املا کی اغلاط دیکھ کر ہی سر پیٹ لینے کو دل چاہتا ہے۔ اردو املا میں اغلاط پہلے بھی ہوجایا کرتی تھیں اور کچھ عربی، فارسی و ہندی نژاد الفاظ کے لکھنے میں اکابرین کے ہاں ذرا اختلاف بھی پایا جاتا تھا لیکن آج جو حال ہے، الامان والحفیظ 

درست اردو املا تو خال خال ہی ہے، اس کے ساتھ اردو میں انگریزی کے تڑکے سے اس کی گرامر، مذکر مونث یا جمع بنانے کے لیے بھی انگریزی قواعد مستعار لے لیے گئے ہیں۔ ہندی فلموں نے مزید بیڑا غرق کردیا کہ فلم زدہ شاہین بچے اب ممولوں کی زبان میں ک اور خ کو کھ کہنے (اور پھر اس کہے کو لکھنے ) پر تُل گئے۔ رہی سہی کسر عربی حروف کو عربوں کے انداز میں ادا کرنے سے پوری ہوگئی یوں علما، اشیا، اجزا، اسما، اعضا کے ساتھ ہمزہ لگانا بھی جائز ہوگیا۔ اب اسما بی بی کو آہستگی سے کیا زور دے کر اسماء (یعنی اسماا کیونکہ ء الف کا قائم مقام ہے) پکارا گیا تو بھی کسی بھائی صاحب کی غیرت نہ جاگی۔ 

موجودہ زمانے میں نیوز چینلز پر چلنے والے ٹکرز نے اردو املا کو وہ وہ ٹکریں ماری ہیں کہ گیسوئے اردو جو منت پذیر شانہ تھا، اب معلوم ہوتا ہے کسی سرکاری اسپتال  کے آئی سی یو میں انگریزی عربی ہندی کے ساتھ بستر پر پڑا ہے اور مصنوعی آکسیجن پر زندہ ہے۔ بہرحال اس طویل تمہید کا مقصد اپنے قارئین کو اردو زبان کی کسمپرسی کا ایک چہرہ دکھانے کے ساتھ شان الحق حقی صاحب کی اس نظم سے بھی مستفیض کرنا تھا تاکہ کچھ املا کی اغلاط کی ہم بھی درستی کرسکیں۔ شان الحق حقی، ماہر لسانیات، لغت نویس، شاعر، محقق و مصنف و عالم، ترجمہ نویس ہیں۔ آئیے حقی صاحب کی دل چسپ نظم پڑھتے ہیں اور اپنی اغلاط کی تصحیح بھی کرتے ہیں۔

شان الحق حقی

کچا ہے بھائی ممدو کا اِملا بہت ابھی
مِسطر کی طرح طوئے سے لکھتے ہیں مشتری

ظاہر ہے ایک شوشے سے بنتا ہے سر کا سین
اس میں بھی وہ بناتے ہیں دندانے تین تین

جس لفظ کو انھوں نے جو چاہا بنا دیا
بھینسا کو چھوٹی ہ سے بہینسا بنا دیا

اپنی نظر میں سارے مسلمان بھائی ہیں
ان کی نظر میں خیر سے ہم سب بہائی ہیں

ہم میں بھی وہ لگاتے ہیں ناحق دوچشمی ھ
آیت میں ڈال دیتے ہیں ہمزہ بجائے ے

وہ غیظ کو بھی فیض کا سمجھے ہیں قافیہ
لکھتے ہیں ذال سے زکریا کو   ذکریا

کچھ فرق ہی نہیں نذیر اور نظیر میں
دونوں کو ظوئے سے تو کبھی ذال سے لکھیں

لکھا علیٰ الحساب اَلل ٹپ الف کے بن
حضرت تو مطمئن کو بھی لکھتے ہیں مطمَعِن

درخواست کو تو واؤ سے لکھتے ہیں خیر سب
برخاست میں بھی ڈالیں گے وہ واؤ بے سبب

کہتے ہیں چھوٹی اور بڑی ے میں فرق کیا
دیکھا ہے ہم نے دہلی کو دہلے لکھا ہوا

کتنا جناب ممدُو کے اِملا میں کھوٹ ہے
تحریر ان کی ساری لطیفوں کی پوٹ ہے

گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کیجیے