نقطۂ نظر

ایک مفروضے پہ قائم ہے ابھی تک دنیا

مجھے تو کیا ابھی بنانے والوں کو خود بھی نہیں معلوم کہ پچاس لاکھ گھر بنائے گا کون، بنیں گے کہاں، کیسے اور کس کے لیے۔ الہ دین کے چراغ کا زمانہ تو لد چکا کہ سوال ہو “کیا حکم ہے میرے آقا؟” اور پھر فوری طور پر تعمیل بھی ہو جائے“جو حکم میرے آقا”۔ اور اگر یہ جن کہیں ہے بھی تو پچھلے پینتیس برس ہم اس کی کرامات خوب دیکھ چکے ہیں کہ رات کے پچھلے پہر دیکھے گئے خواب کی تعبیر دن ڈھلے تک نام کی تختی بن چکی ہوتی تھی۔ اسی جناتی عمل کو درگور کرنے کے نعرے کو سب نے “تبدیلی” جانا تھا۔

ایک گھر بنانا ہو تو سو پاکھنڈ ہوتے ہیں ، حالانکہ اپنی ضروریات، وسائل، زمین ، پلاٹ سب کا علم ہوتا ہے۔

نقشہ کس سے بنوانا ہے، کیسا بنوانا ہے، منظور کیسے جلدی کروانا ہے، میٹیریل یعنی ریت، اینٹیں، سریا، سیمنٹ کتنا اور کیسا استعمال کرنا ہے۔

بنیادیں کتنے فٹ بھرنی ہیں۔  دیواریں ریت سے بنانی ہیں یا چونڈی بھر سیمنٹ بھی ڈالنا ہے۔

گھر ٹھیکیدار سے بنوانا ہے یا خود۔۔۔ خود بنانا ہے تو راج مزدور کہاں سے آئیں گے۔

ٹھیکیدار سے بنوانا ہے تو۔۔۔ نگرانی کا میکنزم کیا ہو گا۔

دیواروں پر پلستر کروانا ہے یا اینٹیں نظر آتی رہیں۔ کھڑکیاں دروازے کتنے رکھنے ہیں، کمرے کتنے ہوں، کچن، باتھ روم کا رُخ کس طرف ہوگا۔

لینٹر ڈالنا ہے تو وائبریٹر چلانا ہے یا نہیں۔ دوران تعمیر پانی بجلی کا کیا بندوبست کرنا ہے۔ فرش پر چپس ڈالنا ہے یا ٹائلیں۔ بجلی کی فٹنگ، پلمبر کے رپھڑے، باتھ روم فٹنگز، نلکوں اور سیوریج کی فٹنگ، گیس کی فٹنگ۔ بچت کیسے اور کہاں کہاں سے کرنی ہے۔

الغرض ایک گھر بنانے کے لیے سو دھندے ہوتے ہیں،  تو پانچ لاکھ گھر بنانے میں کتنے دھندے ہوں گے، حساب دوست خود کر لیں۔

حکومتی قواعد کے مطابق پبلک سیکٹر کے ایک مقررہ لاگت سے زیادہ کے منصوبوں کے لیے متعلقہ وزارت کی ڈیپارٹمنل کمیٹی کی اور  ،مقررہ لاگت سے زیادہ کے منصوبوں کے لیے منصوبہ بندی کمیشن کی منظوری ضروری ہے۔ اس منظوری کو حاصل کرنے کے لیے  منصوبے کے مقاصد، اہداف، طریق کار، تکمیل کی مدت، ممکنہ فوائد اور اخراجات کا تخمینہ پی سی ون کی شکل میں پیش کرنا پڑتا ہے۔

مگر ٹھہریے اس سے پہلے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کیا پانچ سالہ منصوبے میں اور اس سال کے پی ایس ڈی پی یا ترقیاتی منصوبے میں اس قبیل کی کوئی شے موجود بھی ہے یا نہیں۔  اگر ترقیاتی  منصوبے میں پہلے سے ایسا کوئی میگا منصوبہ رکھا گیا ہو تو بات آ گے چلتی ہے ورنہ مجذوب کی بڑ سمجھا جاتا ہے۔ مجذوبانہ طریقے پچھلے پینتیس سال ہم خوب بھگت چکے ہیں،  جب زبانی حکم اور خاندانی فیصلوں کے تحت منصوبے بنائے اور قرضے لیے جاتے تھے۔  شرح سود اور واپسی کے طریق کار کے قضیے میں پڑے بغیر، ملائی اتارتے ہوئے، یہ سوچ کر کہ قرضے ہم نے کون سا  اپنی جیب سےدینے ہیں (یا کون سا اس وقت ہم حکومت میں ہوں گے)  اور دینے بھی پڑے تو کیا ہے کہ ہاتھ بھی سلامت ہیں کشکول بھی اور “دے جا سخیا راہ خدا تیرا اللہ ہی بُوٹا لاوے گا” کی فقیرانہ صدا بھی، اور تجربہ مستزاد۔ اگر یہی کچھ اب بھی ہونا ہے تو "وہ” کیا برے تھے، مانگنے کی مہارت بھی تھی، جھاکا بھی اترا ہوا تھا۔

یہ تو ہوئی طریق کار کی بات۔ اب دیکھتے ہیں اسے ایک اور پہلو سے اور وہ ہے مانگ اور رسد کا حوالہ۔ فی زمانہ اوسطا کتنے گھر سالانہ بن رہے ہیں اور تعمیراتی کاموں کے لیے ضروری میٹیریل ملکی ضروریات کس حد تک پورا کر رہا ہے، اس کے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں پڑے بغیر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ اس وقت ملکی ضروریات کماحقہ پوری ہو رہی ہیں اور رسد اور مانگ میں راست توازن موجود ہے۔ پچاس لاکھ مزید گھروں کے لیے بے روزگاروں کو بھرتی کرکے راج ترکھان تو شاید آن دی جاب ٹریننگ دے کر تیار کر لیے جائیں لیکن اضافی اینٹوں، سیمنٹ، لکڑی اور دیگر ضروری سامان کا بندوبست کہاں سے ہو گا؟ امپورٹ کیا جائے گا تو ڈالر کہاں سے آئیں گے۔مقامی طور پر تیار کیا جائے گا تو رسد کیسے پوری ہو گی؟ گویا رسد اور ضرورت کے گدھی گیڑے میں مجھ ایسے لوگ ہی پسیں گے جو عمر کی آخری دہائی میں اپنے لیے کُلی کی تلاش میں ہیں۔

تو بھراؤ معاملہ اتنا سیدھا نہیں جتنا نظر آتا ہے۔ دوا تو ہے نہیں، چلیں ان کے لیے بھی دعا ہی کرتے ہیں کہ تھوڑی سی عقل کہیں سے مستعار ہی لے لیں۔

پلے نئیں دھیلا تے کردی میلہ میلہ

ظہیر پراچہ
”نہ تو زہر ہلاہل کو قند کہنے کا مرض ہے اور نہ لائکس کی تمنا “ زندگی کی چاشنی میں حقائق کی تلخی سے گندھے ، سماجی ناہمواریوں، نیز دیہی زندگی کے مسائل کے 20 سالہ قریبی مشاہدے، زرعی تحقیق کے میدان میں ملازمینِ سرکار کی رفاقت کے تجربے کے ساتھ ساتھ جہاں گردی اور لکھنے کے شغف کا حامل ،” ایک ستریا بہتریا “

اپنی رائے کا اظہار کیجیے