سماج نقطۂ نظر

ایک ماں کا المیہ

آج ہم اپنے اطراف نظر دوڑائیں تو چھوٹے بڑے کئی سماجی مسائل نظر آتے ہیں۔ یہ  مسائل کہیں عدم برداشت کی شکل میں سڑک پر ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے افراد کی شکل میں ہوتے ہیں تو کہیں کسی دفتر میں بیٹھے کولیگز کے آپس میں حسد اور ایک دوسرے کی کاٹ کرنے اور ایک دوسرے کی ترقی کی راہ مسدود کرنے کی شکل میں ہوتے ہیں۔ کہیں یہ صنف مخالف پر آوازے کسنے اور انھیں ہراساں کرنے کی شکل اختیار کرتے ہیں تو کہیں یہ ہر اخلاقی حد پار کرکے چوری، قتل و غارت، ریپ جیسی شکل بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ ہم ایک مسلمان قوم ہونے کے باوجود بھی عجیب انتشار کا شکار ہیں۔ ایسا کیوں ہے یہ سمجھ نہیں آتا۔ میں نہیں سمجھتی کہ ہم بحیثیتِ مجموعی اخلاقی، سماجی یا مذہبی اعتبار سے اس قدر گرے ہوئے لوگ تھے کہ ہم بدی و غیر اخلاقی کی تمام ہی حدیں پار کر لیتے۔ کیوں آج ہم جس طرف نظر دوڑائیں جرائم ہی نظر آتے ہیں، کم ناپ تول، جھوٹ، غیبت، کینہ، عدم احترام اور مغلظات کی کثرت سمیت ایسے ایسے ظلم و ستم کی داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے۔  میں کوئی سماجی تجزیہ نگار یا نفسیات دان نہیں پھر بھی آج اس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہوں، جو میری رائے میں اس سب کی ایک اہم وجہ ہوسکتا ہے۔

اللہ نے مجھے اولاد کی خوش خبری سے نوازا، جس دن سے مجھے پتا چلا کہ میرے اندر ایک جان پل رہی ہے، میں خود کو بالکل ہی بدلا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ بہت سی عادات جو مجھے لگتا ہے میری شخصیت کے منفی پہلو تھے، مثلاً شوہر سے ناراض ہونا یا ان پر غصہ کرنا، اور اسی طرح کی دوسری عادات جن پہ میرا موڈ بہت جلد خراب ہوجاتا تھا، وہ خود بخود ختم ہوگئیں۔ شاید میں اپنی اولاد کو ایسا ماحول دینے کے لیے تیار کر رہی تھی جس میں وہ خوش رہے، اور سب بھی خوش رہیں۔ اس وقت سے میں نے اپنے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا تھا اور بس اپنی اولاد کے لیے، اپنی اولاد کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔۔۔ ہاں لیکن! سب کچھ ہمارے اختیار میں نہیں ہوا کرتا۔

نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے حالات پیدا ہو ہی جاتے ہیں جو ہم شاید کبھی نہیں چاہتے۔ ہمارے معاشرے میں مشترکہ خاندانی نظام ابھی تک موجود ہے، اور اسے بہرصورت برقرار رکھنا ایک بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اس پر فخر کرتے ہوئے بخوشی بتایا جاتا ہے کہ ہماری سب بہوئیں ایک گھر میں ساتھ رہتی ہیں۔ مشترکہ نظام میں مختلف المزاج لوگوں کا ایک ساتھ رہنا ایک مشکل کام ضرور ہے بہرحال یہ کوئی کارنامہ نہیں۔ اکثر جگہ ساس اور بہوؤں کے بیچ یا بہوؤں کے درمیان آپس میں یا نند بھابیوں کے درمیان اختلافات پنپتے رہتے ہیں۔ عموماً ایسے فخریہ دعووں کے جواب میں بہوؤں سے کوئی نہیں پوچھتا، جو سارا سارا دن اپنا دل جلا کر کباب / کوئلہ بناتی رہتی ہیں۔

تو بات شروع ہوئی تھی میرے حاملہ ہونے سے، بلکہ یوں کہیں باتیں تو میری شادی کے اول دنوں سے ہی شروع ہوگئی تھیں، پر جیسے تیسے گزر ہی رہے تھےدن۔۔۔ پر اب بات تھی ایک ننھی سی جان کی جس کی ذمہ داری اللہ نے مجھ پر ڈالی تھی۔ سسرال کی جانب سے سخت دلی کے مظاہروں اور ناپسندیدگی کے اظہار پر مبنی رویے نے مجھے اندر سے توڑ پھوڑ دیا۔ میں چاہ کر بھی خود کو پرسکون نہ رکھ پاتی۔ میرے اندر سے خوشی کا احساس مٹنے لگا تھا۔ اب گھر میں ہونے والی ہر بحث مجھے احساس دلاتی کہ میں اپنے بچے کو ایک اچھی پرسکون زندگی نہیں دے سکوں گی۔ برداشت کرتے کرتے معاملات اس نہج پر پہنچ جاتے کہ میری طبیعت بگڑ جاتی، کئی بار میں اسپتال میں ایڈمٹ بھی ہوئی اور تب بھی سوائے شوہر کے کسی نے میرا حال نہ پوچھا، ہر بار میں مزید ٹوٹ کر اسپتال سے لوٹ آتی۔ اس پر بھی ہمدردی کے بول میرا نصیب نہ تھے بلکہ ہر بار یہی سننا پڑتا کہ کون سا انوکھا بچہ پیدا کر رہی ہے۔

برداشت کی انتہا ہی ہوگئی تھی جب ایک دن ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی انتہا پر بھی میں اپنا بیگ لے کر گھر سے نکل پڑی۔ سسرال والوں کے نزدیک میرا وجود ان پر بوجھ تھا اور میں اور میرا بچہ ان کے بیٹے کو چھین لینے والے۔ میں اپنے لیے نہیں اپنے بچے کو اس ذہنی اذیت سے بچانے نکلی تھی جو میرے رحم میں میری ہی طرح اس تمام اذیت کو جھیل رہا تھا۔ گذشتہ ہفتے ہاسپٹل میں ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ آپ ذہنی ٹینشن کا شکار ہیں جس کی وجہ سے بچے کی دھڑکن بھی کم ہورہی ہے۔ مجھے بہرصورت اپنے بچے کو بچانا تھا۔ وہ دوپہر میری یاددشت میں ہمیشہ ایک درد کی صورت زندہ رہے گی جب میں جگہ جگہ ہاسٹلز کی خاک چھانتی پھری۔ میری پریگننسی کی حالت دیکھ کر کوئی ہاسٹل مجھے جگہ دینے کو تیار نہ تھا۔ لوگ مشکوک نظروں سے مجھے دیکھتے جیسے الٹے سیدھے اندازے قائم کر رہے ہوں۔ نہ جانے لوگوں نے میرے بارے میں کیا کیا باتیں سوچی ہوں گی۔ کچھ نے تو باقاعدہ نکاح نامہ طلب کیا اور الٹے سیدھے سوالات بھی کیے۔ میں ہر تذلیل سہتی بس یہ ہی سوچتی رہی کہ سسرالی گھر نہ میں بچ سکوں گی نہ میرا بچہ۔ یہ ایک الگ کہانی ہے کہ میرے شوہر نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے میرے اور اپنے بچے کے لیے بھرپور محبت کا احساس دلایا۔ اپنے گھر والوں کی بےحسی کو وہ بھی جانتے تھے ۔ وہ ایک مضبوط چٹان کی طرح میرے اور ہمارے بچے کے لیے سینہ سپر ہوئے۔ جن دردناک حالات میں ہم نے وہ گھر چھوڑا، اللہ ہی جانتا ہے۔ خدا کسی بیٹی کی زندگی میں یہ دن نہ لائے۔

میری ذہنی حالت گو ابھی تک بہت زیادہ معمول پر نہیں آئی، اب بھی سہم جاتی ہوں لیکن پھر بھی کافی بہتر ہوں۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی میں نے حاملہ کے اسٹریس اور ذہنی دباؤ کے پیدا ہونے والے بچے پر اثرات کے حوالے سے یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھیں۔ بہت سی ویڈیوز دیکھنے کے بعد یہ سمجھ آیا کہ گھریلو دباؤ اور تناؤ کی کیفیت ماں سے بچے میں نہ صرف منتقل ہوتی ہے اور پھر زندگی بھر اس کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے ۔ یہ سب اس کی جذباتی کیفیت، سیکھنے کی صلاحیت اور عمومی رویے پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ میری دعا ہے کہ میری اولاد پر ان حالات کا کوئی برا اثر نہ پڑا ہو جن سے میں گزر کر آئی ہوں۔ کبھی کسی کی اولاد پر کوئی آنچ نہ آئے۔ میں سبھی کو یہ کہنا بھی چاہتی ہوں کہ اپنی نسل کی خاطر ہی سہی، اپنی بہوؤں پر ظلم و ستم بند کردیں۔ ہمارے معاشرے میں منفی سوچ اور منفی رویے شاید اسی لیے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ہم اپنے مشترکہ خاندانی نظام کو جوڑے رکھنے کے لیے بہوؤں کی برداشت کا امتحان لیتے رہتے ہیں، انھیں دبائے رکھنے کی خاطر ان پر لفظوں کی سنگ باری کرتے طعنے تشنے دیتے ہیں اور انھیں ذہنی و جسمانی اذیت پہنچاتے ہیں۔ یہی منفی سلوک آگے چل کر ماں سے بچے کو منتقل ہوتا ہے۔ یہ ظلم صرف پرائی لڑکی پر نہیں آپ کی اپنی نسل پر ہو رہا ہوتا ہے۔ آج کا یہ منفی سلوک آگے چل کر بچوں میں جذباتی عدم توازن، سنگ دلی نیز چڑچڑے پن کی صورت اختیار کرسکتا ہے اور ممکنہ جرم کا پیش خیمہ بھی (خدا نہ کرے)۔

ام عرشیہ
ام عرشیہ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ عمومی سماجی رویوں کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں یوں بیان کرتی ہیں کہ آپ بیتی اور جگ بیتی ایک دوسرے کا پرتو بن جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے