انتخابات 2018 حالاتِ حاضرہ سیاست نقطۂ نظر

انتخابات 2018ء ایک تجزیہ

زیستِ انسانی انتخاب کے گرد گھومتی ہے۔ بچپن والدین کے کیے جانے والے انتخاب پر سرِ تسلیم خم کرتے گزرتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے معاملات میں خود انتخاب کرنے کی روش اختیار کر لی جاتی ہے۔ جوں جوں زندگی آگے بڑھتی ہے، انسان کو طوعاً و کرہاً انتخاب کے دریا سے گزرنا ہی پڑتا ہے،  چاہے وہ تعلیمی شعبے کا انتخاب ہو، ملازمت کا انتخاب ہو یا نصفِ بہتر کا۔۔۔ اس سلسلے میں آخری درج شدہ انتخاب پر اکثر لوگوں کا اختیار نہیں ہوتا۔۔۔ اس موقع پر فرانسیسی فلسفی روسو کا مقولہ یاد آتا ہے، جس نے کہا تھا ” انسان آزاد پیدا ہوا لیکن ہر جانب سے زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے” یہ زنجیر انتخاب کی ہے۔ اگر انتخاب کامیاب ہوجائے تو اس سے آگے  مزیدانتخاب کرنا آسان ہوجاتا ہے بلکہ یوں کہیے  من پسند انتخاب کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ یہ تو ہے انفرادی معاملہ مگر آج کل ملک میں "انتخابات کا موسم” آچکا ہے۔ انتخاب انفرادی زندگی کا معاملہ ہو یا اجتماعی نوعیت کی درد سری، بہرطور یہ انسانوں کی زندگی پر گہرے مضمرات کا حامل ہے، جو اس کے مستقبل کے لائحہ عمل کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

اب چلتے ہیں 25 جولائی 2018ء کو اعلان کردہ ملکی انتخابات کی جانب۔ یہ انتخابات ہر زاویے سے اہم ہیں۔ کیوں!

اس کے جواب  کے لیے ہمیں بین الاقوامی نیز اس خطے کے جغرافیائی سیاسی حالات، ملکی معاشی صورتِ حال اور امن و امان کے مسائل کا احاطہ کرنا ہوگا۔ معاشی طور پر ملک اس وقت 91 ارب 67 کروڑ ڈالر سے زائد کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے۔ درآمدات 50 ارب ڈالر سے زائد جبکہ برآمدات بمشکل 23 ارب ڈالر کے آس پاس ہیں۔ یعنی 25 ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ زرمبادلہ کے تقریباً ساڑے سولہ ارب ڈالر کے ذخائر پر ناگ بن کے پھنکار رہا ہے – یہاں یہ موازنہ بہت ضروری ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی ہم سے دگنے یعنی 32 ارب ڈالر سے زائد ہیں – بین الاقوامی سطح پر امریکا اب ہمارا شراکت دار بھی نہ رہا، دوست تو وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ خطے میں ایران اور افغانستان ہمارے دوست نہیں جبکہ بھارت تو ہے ہی ازلی دشمن۔ لہٰذا ہماری ناعاقبت اندیش خارجہ پالیسی نے خطے میں ہمیں سینڈوچ بنادیا ہے۔ لے دے کر ایک چین ہی ہمارا دوست ہے مگر اب سی پیک کے تناظر میں یہ بھی ہمارا حاکم بنتا جارہا ہے۔ گذشتہ حکومت کی غیرمتوازن پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں سی پیک سے فائدہ تو کم  ہی ملے گا   بلکہ چین کے زیرِ اثر زیادہ آنا پڑے گا۔ ہم اپنی  ملکی مصنوعات فروخت نہیں کرسکیں گے اور  چین کی سستی مصنوعات سے ہمارے بازار اور گھر بھر جائیں گے۔ ہمارا کردار محض پارکنگ فیس وصولی کرنے والے سے زیادہ نہیں ہوگا اور وہ معاوضہ بھی قرضوں کی ادائیگی نذر ہوجائے گا۔ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری ضرور ہوئی ہے کہ مگر اتنی نہیں کہ غیرملکی سیاح پاکستان کے جنت نظیر علاقے دیکھنے کے لیے جوق در جوق آئیں، بین الاقوامی ٹیمیں ہمارے ملک میں بلاچوں چرا کھیلنے پر آمادہ نظرآئیں، کیونکہ اب بھی بلوچستان سمیت ملک کے  بیشتر علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال مثالی نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر ہم اپنی وکالت تک نہیں کرسکتے۔ عالمی ثالثی عدالت، بین الاقوامی عدالت انصاف ہو یا عالمی بینک کوئی بھی ہمارے لیے موافق فیصلے نہیں کرتا۔ کیوں! کیونکہ ہم نے اپنی  ناعاقبت اندیش پالیسیوں کے ہاتھوں اپنا ہی نقصان کیا۔

پانی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تیسری جنگ عظیم اس مسئلے پر ہوگی، اس معاملے میں  لاپروائی  کے حوالے سے بھی  شاید ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ گذشتہ 48 برسوں سے ہم نے کوئی ڈیم نہیں بنایا، اپنا 90 فیصد پانی سمندر برد کردیتے ہیں۔ یہاں عوام 6 ماہ خشک سالی سے مرتے ہیں تو 6 ماہ سیلابوں کی آفت جھیلتے ہیں۔

اب انتخابات کا موسم آچکا ہے۔ خوش قسمتی سے دو سابقہ حکومتیں اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل کرچکی ہیں۔ ان میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو وفاق میں ایک ایک مرتبہ اور سندھ اور پنجاب میں بالترتیب دو دو مرتبہ عنانِ اقتدار نصیب ہوا۔ ن لیگ اپنے گذشتہ دور حکومت میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کی دعویدار ہے۔  یہ دعویٰ کس حد تک درست  ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ان منصوبوں میں سے کتنے پن بجلی کے تھے  یا ملک میں کتنے ڈیم بنے؟ پانی کی ابتر صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیا کیا گیا۔ کچھ نہیں! دوسری جانب ان کی پیش رو حکومت پیپلزپارٹی تھی، جس نے کرائے کے بجلی گھر متعارف کرائے اور صارفین سے فی یونٹ 45 روپے تک وصول کیا، نیز فلک بوس بدعنوانی کے قصے زبانِ زد عام رہے۔

اب ن لیگ کا کہنا ہےکہ اگر اب کی بار بھی اقتدار ملا تو ڈیم ضرور بنائیں گے! سمجھ نہیں آتا 1985ء سے وزارتوں کے مزے لوٹنے والے میاں برادران کو اور کتنا اقتدار چاہیے   ڈیم بنانے کے لیے۔ چھوٹے میاں صاحب اپنے بڑے بھائی کی بہ نسبت قدرے بہتر شہرت کے حامل ہیں۔ گذشتہ دور میں ان کی بنائی ہوئی تمام کمپنیاں عدالت کے سوالات  کی زد میں ہیں۔ میٹرو بس اور میٹرو ٹرین میں عوام کے کھربوں روپے جھونک کر انھوں نے تعلیم و صحت کے لیے کچھ نہ کیا۔ کسانوں کی ابتر حالت مزید ابتر ہوتی رہی۔ خیر یہ سب عوام کے سامنے ہے۔ لیکن ایک بات ذہن نشین کرنا ہوگی  کہ ملک انفرااسٹرکچر سے نہیں بلکہ عوامی بہبود کے امور  جیسے صحت، تعلیم اور روزگار سے چلتے ہیں۔ انفرااسٹرکچر کی حیثیت ثانوی ہے۔ نیز پُل، سڑکیں وغیرہ بنانا بلدیاتی اداروں کا کام ہوتا ہے نہ کہ مقننہ کا۔ ان جمہوریت کی دعویدار دونوں بڑی جماعتوں نے تو اولاً 5 برس تک بلدیاتی انتخابات نہ ہونے دیے اور پھر انتخاب  کروائے بھی تو ان اداروں کے پر جکڑلیے،  یعنی ان کے اختیارات کو اتنا محدود کردیا کہ وہ عملاً کچھ خاص کارکردگی ہی نہ دکھاسکیں۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ راقم کا مقصد کسی سے جانبداری کا مظاہرہ کرنا نہیں بلکہ حقائق کا تجزیہ کرنا ہے۔

اب چونکہ ہم انتخابات کے دور میں داخل ہوچکے ہیں، اس لیے ہماری توجہ کا مرکز مستقبل کا ممکنہ سیاسی منظرنامہ ہے۔ کونسی جماعت کو اقتدار نصیب ہوگا یہ کوئی نہیں جانتا۔ ملک کے طول و عرض  میں نئے سیاسی عوامل جنم لے چکے ہیں۔ امید اور تجزیے یہی کیے جارہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کسی بھی واحد جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملے گی۔ اور پھر  وہی الزام تراشی کی سیاست کا وطیرہ اپناتے ہوئے ن لیگ خلائی مخلوق کا شوشہ بھی چھوڑ چکی ہے۔ اس مرحلے پر دوباتیں اہم ہیں۔ 2008ء اور 2013ء کے انتخابات کے مواقع پر بھی یہی کہا گیا تھاکہ ایوانِ زیریں میں کسی جماعت کو بھی واضح اکثریت نصیب نہیں ہوگی۔ لیکن نہ صرف 2008ء میں پیپلزپارٹی سادہ اکثریت لینے میں کامیاب رہی بلکہ 2013ء میں ن لیگ بھی واضح اکثریتی جماعت بننے کا سہرا سر پر سجاسکی تھی۔ تو اس بنیاد پر تو یہ کہا جاسکتا ہےکہ کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت مل سکتی ہے۔ مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کونسی جماعت ہوگی۔ دی اکانومسٹ تو اپنے سروے میں کہہ چکا ہے کہ ن لیگ کو پھر اکثریت مل جائے گی، لیکن واقفانِ حال اور خلائی مخلوق کی روایت سے بہرہ مند کئی ایک سینئر تجزیہ کار اس پر متفق ہیں کہ اب انہیں باری نہیں ملے گی، بلکہ اس بات پر اصرار کیا جارہا ہےکہ پی پی اور پی ٹی آئی کو مخلوط حکومت دی جائے گی تاکہ پی ٹی آئی اپنے آپے میں رہے اور پی پی مؤثر جی حضوری بجالاتی رہے جبکہ ان کے سر پر ن لیگ کی حزبِ اختلاف کی تلوار آئندہ پانچ برس لٹکتی رہے۔ اس کے حق میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہےکہ ن لیگی سابقہ حکومتی عہدیداروں کو تو احتساب کے عمل سے گزارا جارہا ہے لیکن پی پی  پی پر ہاتھ زرا نرم کردیا گیا ہے۔ حالانکہ پی پی پی  کے دور میں ہوشربا بدعنوانی ہوئی، مگر ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کو گلوخلاصی ملی ہوئی ہے۔ اس دور کا کوئی بڑا اسکینڈل نہیں چھیڑا جارہا۔ اس دور کے سابقہ وزرائے اعظم بدترین الزامات کے باوجود حالتِ سکون میں ہیں۔

انتخابات کے متوقع نتائج کا تجزیہ کرنے کےلیے سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل کو خاطر میں لایا جاتا ہے مگر باخبر ،  اہل خبر اور مقتدر حلقوں میں رسائی کے حامل حلقے اس پر بضد ہیں کہ اقتدار کا حصول محض خلائی مخلوق کی شٹل اور تھرڈ ایمپائر کی انگشت کا ہی مرہون منت ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

فیضان رحیم
ترجمہ نگار، صحافی، محقق، بلاگر فیضان رحیم رجائیت پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ مطالعہ اور سیاست و سماجی مسائل پر خامہ فرسائی ان کا مشغلہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے