سماج نقطۂ نظر

امید زندگی 

ٹیم ورک کے حوالے سے ایک ٹریننگ سیشن کے دوران اچانک کال آئی  جس کی وجہ سے ٹرینر صاحب کو بات روک کر فون اٹینڈ کرنا پڑا۔ فون بند ہوا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ہم سب ہی انھیں ایسے دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ سکھر میں رہنے والی ان کی  ایک کزن نے خود کشی کی کوشش کی ہے اور وہ اس وقت آئی سی یو میں ہے۔ دعاؤں کی درخواست  اور معذرت کرتے ہوئے وہ اپنے ساتھی ٹرینر کو ہمارے پاس چھوڑ کر سکھر روانہ ہوگئے۔  سیشن کے دوسرے دن بھی ہم پریشان رہے اور صرف یہی پتا چلا کہ خاتون کی ڈیتھ ہوگئی تھی رات میں اور آج تدفین تھی۔ تیسرے اور آخری دن ٹرینر صاحب واپس آچکے تھے تب ہی ہمیں اس دردناک کہانی کا پتا چلا۔

لڑکی کی شادی کم عمری میں ہی کردی گئی تھی۔ میٹرک پاس کرنے کا انعام ہاتھ میں مہندی کی صورت اس کی لکیروں کو بدلنے چلا تھا۔ سسرال میں حسبِ رواج ایک بہو، زندگی کی ساتھی یا خاندان کی رکن شامل نہیں کی گئی تھی بلکہ ایک صفائی ستھرائی کرنے، کھانا پکانے، اور معذور ساس کو سنبھالنے والی نرس کو لایا گیا تھا، جس سے حسبِ توفیق دل بستگی کا   کام بھی لیا جاتا تھا، وہ بھی دو وقت روٹی اور دو جوڑے کپڑوں کے عوض۔ زباں بندی کا حکم تھا اور کام میں تاخیر کی صورت میں بے دریغ مار پٹائی۔ اسی طرح روتے دھوتے  دو سال گزرے اور محض 17 برس کی عمر میں ایک چھوٹا بچہ بھی زندگی میں شامل ہوگیا۔ اولاد کی خوشی دکھوں کا درماں تھی لیکن اکثر خیال آتا پہاڑ سی عمر کیسے کٹے گی۔ والدین کے ہاں جانے کی اجازت نہ تھی اور جو کبھی جانے دیا جاتا تو بھی زبان بند رکھنے کی ہزار دھمکیوں کے ساتھ۔ والدین بیٹی کے چہرے پر لکھی دکھ کی تحریر پڑھ بھی لیتے تو بھی ان دیکھا کر دیتے کہ گھر بیٹھ جانے والی بیٹی کا بوجھ تو پہاڑ سے بھاری تھا۔ کئی بار شدید تشدد سے بےہوش ہوگئی تو ایک دو بار ہاسپٹل بھی لے جانا پڑا۔ جسم نیل اور چوٹوں سے ہی نہیں گرم سلاخوں  سے بھی داغ دار تھا۔ اس بار ہمت جمع کرکے ماں باپ کے در پر آئی تھی اور آتے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ واپس نہیں جائے گی۔ والدین نے زخموں پر مرہم تو رکھے پر برادری کے سمجھانے بجھانے پر مفاہمت پر اتر آئے تھے۔ کل ماں نے کہہ دیا تھا کہ سسرالی لینے آئیں گے تو اسے واپس جانا ہوگا ۔ ماں کے آگے روئی، دہائی دی زخم دکھائے لیکن ماں آنسو پیتی صبر کی تلقین کرتی رہی۔ رات تک وہ زندگی سے اس قدر مایوس ہوچکی تھی کہ مٹی کا تیل پی لیا۔

ہاسپٹل میں ہوش آیا بھی تو دکھیاری ماں کو بیٹے کی فکر ستائی اور بیٹے کو آوازیں دیتی آنسو بہاتی جان ہار گئی۔

قصور کس کا تھا؟ سماج کا، شوہر کا، والدین کا جو طلاق کے لفظ سے خوف زدہ ہوچکے تھے۔۔۔ جو بھی تھا لیکن اب جانے والی پلٹ کر نہیں آسکتی تھی۔

خودکشی کے اکثر معاملات میں لوگ مرنا نہیں چاہتے، وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے درد مرجائیں۔ دراصل اللہ تعالی نے ہر انسان کی ایک قوت برداشت رکھی ہے،  لیکن  یہ برداشت بھی تو ایک حد رکھتی ہے۔ بعض اوقات  درد اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ انسان بے بس ہو جاتا ہے اور درد کی  انتہا کو پہنچ  کر اپنی جان لینے پر تُل جاتا ہے۔  میرا یقین ہے کہ  اللہ تعالی کسی کو اس کی استطاعت  سے زیادہ دکھ نہیں دیتا تو پھر کیا وجہ ہے جو انسان خود کشی تک پہنچ جاتا ہے؟  میری ناقص رائے میں  کسی جگہ کوئی کمی ہے تو  Motivation کی۔  ہم سہارے کھو بیٹھتے ہیں۔ اپنائیت کا کوئی احساس ہمیں  میسر نہیں ہوپاتا جو زندگی کی طرف مڑنے پر مجبور کرتا۔  اولین ترجیح تو یہ  ہوسکتی ہے کہ یہ Motivation ہم اللہ تعالی سے اور نماز سے حاصل کریں۔  دوسرا میرا ذاتی تجربہ  یہ بھی ہے کہ درود پاک پڑھیں اس سے بہت سکون ملتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیں 5 وقت  دن میں بلاتا ہے کہ فلاح کی طرف آؤ،  کامیابی کی طرف آؤ۔۔۔ کیا ہم نے نماز کو واقعی فلاح و کامیابی کے تناظر میں اپنایا؟

مذہب کے علاوہ ہمیں دوسری  Motivation اپنے اردگرد  کے لوگوں سے ملتی ہے۔ مخدوش حالاتِ زندگی میں جب ہمیں   حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ حوصلہ ہمیں اپنے والدین ، بہن بھائیوں اور دوستوں سے ملتا ہے۔ مانا! بہت سے انسان فطرتا ً ایسے ہوتے ہیں جن کو اپنے مسائل  شیئر کرنے کی عادت نہیں ہوتی، یا ان کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔  وہ شاید یہ سمجھتے ہیں  کہ اپنا مسئلہ شیئر کرنے کی صورت میں وہ خود سے لڑی جانے والی جنگ ہار جائیں گے اور ان کی عزت نفس پر حرف آئے گا ۔  یہ خوف بھی  لوگوں کو  زندگی سے دور کرتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ اپنے پیاروں کو جذباتی شکستگی سے بچانا چاہتے ہیں، ان کی زندگی کو خوشیوں سے بھرنا چاہتے ہیں یا ان کے مسائل کا درماں بننا چاہتے ہیں تو پہلے ان کے ساتھ اعتماد کا رشتہ استوار کریں۔ اس کا ایک طریقہ   یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے اندر دوسروں کا دکھ محسوس کریں۔   مثبت انداز میں لوگوں کی زندگی میں  جھانکنے کی کوشش کریں کہ شاید آپ کے ارد گرد کوئی ایسا رشتہ ہو جسے آپ کی ضرورت ہو لیکن وہ اقرار نہ کر سکتا ہو۔ اس کی مدد کریں ، اس کو حوصلہ اور ایک نیا جذبہ دیں۔  شاید آپ کے الفاظ اور عمل  سے کوئی زندگی میں واپس لوٹ آئے۔ اپنے رشتے کے چھوٹ جانے، اس کے جان سے گزر جانے کے بعد پچھتانے یا رونے کے بجائے،  بس ایک چھوٹا سا کام کریں ؛ اپنے پیاروں ، اپنے ارد گرد موجود   لوگوں کے اندر جینے کی امید پیدا کریں۔ اپنے رشتوں کو وقت دیں، ان کے درد کو خود پر محسوس کرنے کی کوشش کریں، ان کی بات سنیں، ان کے مسائل کے حل تلاش کریں، ان کا ہاتھ تھام کر انھیں زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے قابل بنائیں۔ انھیں ایک غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے  ان کے لیے سماج سے ٹکرانے کی ہمت پختہ کریں۔   اپنے پیاروں کو اپنے پیار کا احساس دلائیں۔

اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ، آمین!

ارسلان احمد
ارسلان احمد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ عرصہ پانچ سال سے لاہور ہائی کورٹ میں پریکٹس کر رہے ہیں۔ لکھنے پڑھنے، خصوصاً شاعری سے گہرا شغف ہے۔ ایک وکیل کی آنکھ دن بھر میں وہ کچھ دیکھ لیتی ہے جو شاید ایک عام آدمی کی نظر سے کبھی نہ گزرتا ہو۔ انسانیت کی بلندیاں ہوں یا پاتال کی پستیوں میں منھ کے بل گری سسکتی ہوئی انسانیت؛ آنکھ جو مناظر دکھاتی ہے اسے تحریر میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
http://[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کیجیے