حالاتِ حاضرہ سیاست طنز و مزاح نقطۂ نظر

آئینے کے سامنے

[White House Oval office]

” مسٹر پریزیڈنٹ آپ چار جولائی یعنی امریکہ کی آزادی کے دن پر تقریر کریں گے۔ اس کی تیاری کر لیجیے۔”

” اوہ یس۔۔یس۔۔۔یس۔۔۔اچھا یاد دلایا۔ بس ابھی”

” آپ کی تقریر لکھی جا چکی ہے۔ بس آپ پریکٹس کر لیجیے۔”

” ہمم۔۔۔ نو۔۔ نو۔۔نو۔۔ میں اس دن پر کسی اور کی لکھی تقریر نہیں پڑھوں گا، خود فی البدیہہ کچھ کہوں گا، جیسے وہ اوباما کرتا تھا۔ ”

اسٹاف کے چہروں پر تشوش کے آثار۔۔۔ لیکن صدر کی بات ٹالی نہیں جا سکتی۔۔۔ ۔

"مجھے ایک بڑا سا آئینہ چاہیے جس کے سامنے میں کھڑا ہو کرتقریر کی پریکٹس کروں۔”

آئینہ بھی آ گیا۔ صدر صاحب نے بال سنوارے جو ماتھے سے ہوتے ہوئے اب ناک تک پہنچنے لگے تھے۔

” میرے پیارے امریکیو! آج کا دن امریکہ کے لیے اہم ترین دن ہے۔ آج ہم آزاد ہوئے تھے۔ امریکہ جو خود ایک طرح کی دنیا ہے۔ امریکہ میں ہر طرح کے لوگ ہیں اور سب ہی مل جل کر رہتے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ باقی دنیا کے لوگ بھی ہماری اس مثال سے کچھ سیکھ سکتے۔ کس خوبی سے ہم سب یہاں رہتے ہیں۔ امریکہ کو سلاد کا پیالہ اسی لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں طرح طرح کے رنگ برنگےلوگ آباد ہیں۔ اور وہ سب امریکی ہیں۔ ہم سب ایک ہیں۔ بالکل ایک۔۔۔ہمم م م ۔۔۔ بس ذرا ان کالے لوگوں کو اگر نکال دیا جائے تو باقی کے سب  ایک جیسےلوگ مل جل کر رہ سکتے ہیں۔ کالے تو بالکل بھی ہم جیسے نہیں۔ شکل و صورت رنگ روپ سب مختلف۔ یہ غلام لوگ ہیں یہ ہم جیسے ہو ہی نہیں سکتے۔ اسی طرح آپ اب ان لاطینی، میکسیکن وغیرہ کو بھی الگ کر دیں۔ یہ بھی ہم میں سے نہیں ہو سکتے۔ یہ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ ہیں۔ انھیں  امریکہ سے دور رکھنا چاہیے۔  اسی لیے تو میں امریکی بارڈر پر دیوار بنانا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ادھر نہ آسکیں اور امریکہ کو غیر محفوظ نہ بنائیں۔ پھر بھی میں دل بڑا کر کے ان کے بچوں کو یہاں رکھ رہا ہوں۔ بس بچوں کے ماں باپ ہی کو تو نکالا تھا نا؟  اتنی سی بات پر اتنا ڈرامہ؟ اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا کمیشن ایک بے کار ادارہ ہے۔ ہم اسے نہیں مانتے۔

اور یہ مشرق وسطیٰ کے لوگ۔۔۔ اف اف۔۔۔ یہ جذباتی، غصیلے لوگ جو ذرا ذرا سی بات پر لڑنے مرنے کو آجاتے ہیں۔ امریکہ کو اپنا دشمن مانتے ہیں۔ آئے دن ہمارا جھنڈا جلاتے رہتے ہیں۔ انھیں میں منع کرتا ہوں کہ یہاں نہ آئیں۔ بیڈ بیڈ پیپل۔۔۔ ویری بیڈ پیپل۔۔۔ ایران کو میں جلد ہی دیکھ لوں گا۔۔۔ ایرانی حکومت، بیڈ حکومت۔۔۔۔اور یہ عرب۔۔۔ یہ بالکل غیر جمہوری لوگ ہیں۔۔۔۔ ۔ان عربوں کو اپنے اپنے ملکوں میں جمہوریت لانا پڑے گی۔ سعودی عرب کی بات اور ہے۔ وہ امیزینگگگگگ لوگ ہیں۔ اچھا ہوتا اگر اس طرح کی طرز حکومت امریکہ میں بھی ہوتی۔

انڈیا اچھا ملک ہے۔ اس کا وزیر اعظم ۔۔ واہ۔۔۔ گریٹ مین۔ انڈین لوگوں نے میرے لیے بہت دعائیں کی تھیں۔ فنننننٹاسٹک پیپل۔لیکن وہ اپنے ملک میں ہی رہیں تو اچھا ہے۔ یہاں نہ آئیں۔ اور وہ پ۔ے۔ کیس۔ ٹین۔۔{پاکستان}۔۔۔ نو نو نو۔۔ ۔ پاکستانی لوگ اچھے لوگ نہیں۔ ڈالر ہم سے لیتے ہیں اور ہمیں ہی دشمن کہتے ہیں۔ دوغلے کہیں کے۔۔۔ وہ بھی یہاں نہ آئیں۔

مشرق بعید کے لوگ بھی عجیب و غریب ہیں۔ چینیوں کو دیکھو۔ سستا مال اور سستی مزدوری دے کر ساری دنیا کو کنگال کر رہے ہیں۔ ویسے میں سوچ رہا ہوں کہ امریکی میکسیکن بارڈر پر دیوار بنانے کا ٹھیکا کسی چینی فرم کو دے دوں۔ سستے میں کام ہو جائے گا۔ کوریا کے راکٹ مین کا سب کو پتہ ہے کہ کتنا پاگل ہے۔ معاہدہ کر تو لیا اس سے لیکن ذرا بھی گڑ بڑ کی تو دیکھ لوں گا اسے۔ اور یہ جاپانی بھی وہی ہیں نا جو جنگ عظیم میں ہم سے لڑتے رہے ہیں؟ اور مجبور ہو کر ہمیں ان پر ایٹم بم گرانا پڑا؟ یہ بھی لڑاکا قوم ہے۔

باقی دنیا کی طرف آتے ہیں۔ آسٹریلیا  اچھا ملک ہے اس کی تاریخ بھی امریکہ جیسی ہے۔ دنیا کے کئی کونوں سے لوگ آئے اور بس گئے۔ اصلی باشندے تو جانے کہاں گئے اور کس حال میں ہیں۔ یہ لوگ امیزنگ لوگ ہیں۔ فینٹاسٹک لوگ۔ لیکن ان کی نسل کچھ مشکوک ہے۔ آخر کو یہ ہیں تو وہی مجرم لوگ نا جنہیں برطانیہ مختلف جرائم کی سزا کے طور پر کالے پانی یعنی آسٹریلیا بھیجتا تھا۔ یہ لوگ انہی مجرموں کی نسل سے ہیں۔ ان پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ گاڑیاں بھی غلط سمت میں چلاتے ہیں۔

افریقہ کے بارے میں کیا کہوں؟ ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ تعلقات رکھے جا سکیں۔ ایک زمانے میں یہاں سے امریکہ میں غلام لائے جاتے تھے۔ اور انھیں  ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔۔۔ اب اور کیا کہوں؟

یورپ اچھا ہے۔ یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ اور سیویلایزڈ ہیں۔ ناروے تو بہت ہی اچھا ہے۔ ان کی وزیر اعظم آئیں تھیں یہاں۔ میں نے بہت تعریفیں کیں جو انھیں  ہضم نہیں ہوئیں۔ کہنے لگیں صدر صاحب آپ سے ہم برقی کاریں خریدتے ہیں اس لیے کہ ماحول کی آلودگی کم ہو سکے۔ میں نے اس طنز کو نظر انداز کر دیا۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کرنے کی۔ ہر وقت ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم آلودگی پھیلا رہے ہیں۔ احمق نہیں جانتے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔ فیکٹریاں اور کارخانے نہیں چلیں گے تو ترقی کیسے ہو گی؟ ۔۔۔ماحول کو بھی دیکھ لیں گے۔

ویسے یہ یورپی ممالک ابھی تک پرانے وقتوں میں جی رہے ہیں۔ بادشاہ ،ملکہ ،شاہی خاندان۔۔ حد ہے قدامت پرستی کی۔برطانیہ کو دیکھ لیں۔ بنتے تو بہت ترقی یافتہ ہیں لیکن اپنی بوڑھی ملکہ کو لیے بیٹھے ہیں۔ مجھے تو شہزادہ چارلس پر ترس آتا ہے۔  میری عمر کا ہو گیا ہے۔ وہ آخر کس عمر میں جا کر کنگ بنے گا؟ فرانس اچھا ملک ہے۔ لوگ بھی مہذب ہیں۔ لیکن یہ لوگ جب بولتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے تتلا رہے ہیں۔ آیا تھا میکرون یہاں اپنی  عمر رسیدہ بیوی کے ساتھ۔  میری بیوی دیکھو اور اس کی دیکھو۔۔۔ میں نے پیرس معاہدہ توڑ دیا۔ یہ بھی وہی ماحول کی باتیں۔۔بک بک بک بک۔  وقت کا زیاں ہے اور میرے پاس فرصت نہیں۔ ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں۔ جرمنی کے بارے میں کیا کہوں ۔۔۔ مجھے طعنہ دیا جاتا ہے کہ میری رگوں میں بھی جرمن خون ہے۔ لیکن وہ انجیلا مرکل ۔۔۔ وہ ایسی عجیب نظروں سے مجھے دیکھتی ہے جیسے میں ہٹلر کے خاندان سے ہوں۔وہ خود ہٹلر جیسی لگتی ہے۔

اور ہاں کینیڈا۔۔ واہ واہ۔۔۔ کینیڈا بہت اچھا ملک ہے۔ ان کی انگریزی بھی ہم سے ملتی جلتی ہے۔ آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔ لیکن یہ ٹروڈو مجھے اچھا نہیں لگتا۔چھوٹے لوگوں کے ساتھ ناچتا گاتا رہتا ہے۔ کچھ عجیب سا ہے، لیکن میرے سامنے بولنے کی اسے ہمت نہیں ہے۔ بعد میں باہر جا کر چوں چوں کرتا ہے۔

روس سے ہمارے تعلقات اچھے بھی ہیں اور برے بھی۔ ہم ساتھ بھی ہیں اور نہیں بھی۔ یہ لوگ ابھی نئے نئے امیر ہوئے ہیں اس لیے سنبھالے نہیں جا رہے۔ میری طرح خاندانی امیر نہیں ہیں۔میرے ہوٹلز، ٹاورز اور گولف کلبز کہاں کہاں نہیں ہیں۔ سوچ رہا ہوں وائٹ ہاؤس بھی خرید لوں۔

اور یہ مشرقی یورپ ۔۔۔ اس کا تو ذکر ہی بے کار ہے۔ یہ لوگ کسی گنتی میں نہیں۔ بس سلووینیا ایک اچھا ملک ہے۔ یہاں کے لوگ فنٹاااااسٹک ہیں۔

اسرائیل بہت اچھا ملک ہے۔ جسٹ امیزینگگگگگ۔۔۔۔ یہاں کے لوگ بھی بہت فنٹاسسسسسٹک ہیں۔ہمارے ان سے اچھے تعلقات ہیں۔ کیا ہوا اگر یہ جیسیز کو نہیں مانتے لیکن ایران کے معاملے میں ہمارے ساتھ ہیں۔ بلکہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔یروشلم کو میں نے اسرائیل کا دارالحکومت مان کر وہاں ہمیشہ کے لیے امن کردیا ہے۔ اب نہ رہے گا فلسطین نہ رہیں گے فلسطینی۔

اور یہ کیا جی سیون اور جی ایٹ کے اجلاس کرتے ہیں یہاں؟ دنیا میں صرف ایک  جی ہے۔۔۔ ایک گریٹ ملک ہے اور وہ ہے امریکہ۔۔ گریٹ کنٹری گریٹیسٹ کنٹری۔ خود دیکھ لیجیے ۔

سب سے پہلے امریکہ ۔۔۔بلکہ صرف امریکہ۔۔۔ گریٹ امریکہ ۔۔۔امریکنز آر گریٹ پیپل۔۔۔ہم یہاں امن  سے رہ سکتے ہیں اگر یہ کالے پیلے لوگ چلے جائیں تو۔ ان ریڈ انڈینز کو بھی کسی اور طرف چلے جانا چاہیے۔ بہت ہی نکمے لوگ ہیں۔ ہماری معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔

امریکیو!  آپ کو آزادی کا دن مبارک ہو۔

God bless you and God bless America

 

 

 

 

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

2 thoughts on “آئینے کے سامنے”

  1. بلاشبہ بہترین تحریر! امریکی ذہنیت، بالخصوص ٹرمپ کی ذہنیت کی بخوبی عکاسی کی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹرمپ خواہ جتنا بھی بد مذاق اور جاہل انسان نظر آتا ہے اس میں لسانی و عصبی و نسلی تفاخر اور تعصب بھی موجود ہے تاہم ہمارے موجودہ سیاست دانوں سے کہیں درجے بہتر ہے۔ وہ جس درخت پر آشیانہ بنائے بیٹھا ہے اس کی جڑیں نہیں کاٹ رہا۔ ہمارے ہاں تو ایک رہنما کا جس قدر قحط الرجال آج ہے اس کی شاید تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ سب جڑیں کاٹنے والے، لوٹ مار کرنے والے جمع ہیں، تبدیلی کا نام لینے والے پرانے مہرے استعمال کر رہے ہیں حکومت حاصل کرنے کو جانے کن کن خرافات کا حصہ بن رہے ہیں اور جنھیں آج اپنی خرافات اور اپنے متنازعہ فیصلوں، یو ٹرنز پر عوامی ردعمل کی مطلق فکر نہیں وہ عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد کس طرح عوام کو جوتے کی نوک پر رکھیں گے یہ بھی واضح ہے۔ اللہ رحم کرے ہم سب پر۔

    1. یہ سب طاقت اور پاور کا کھیل ہے۔ جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے وہ یہی سب کچھ کرتا ہے۔ ٹرمپ کو بس الفاظ کو شوگر کوٹ کرنا نہیں آتا ورنہ یہی سب تو دوسرے بھی کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ہو رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے