حالاتِ حاضرہ نقطۂ نظر

آبی قلت اور خشک سالی کے خدشات

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں پاکستان میں پانی کی قلت کا اندیشہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی،حدت میں اضافے اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے  جیسے عوامل کی وجہ سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے- ترقی یافتہ اور مہذب ممالک ان مسائل سے نمٹنے کے لیے عرصہ دراز سے طویل المیعاد منصوبوں پر عمل پیرا ہیں ۔ اس کے  برعکس پاکستان میں  اس حوالے سے مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا فقدان رہا ہے۔ اگر وجوہات کا جائزہ  لیا جائے تو اس میں سیاسی، سماجی، اقتصادی، اور جانے کون کون سے عوامل حصہ لیتے نظر آئیں گے، تاہم  ماہرین کی اکثریت کے مطابق آبی قلت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے  پانی کے ذخائر اور ڈیمز کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔

ڈیمز کی تعمیر کے حالیہ عدالتی فیصلے اور اربابِ اختیار کے عزم و ارادے کے باوجود ہم  ڈیم فنڈ میں مطلوبہ سرمائے کا حصول ممکن نہیں بنائے۔ اس کی وجہ بھی  یہ نہیں کہ شادی بیاہ میں زر و جواہر لٹاتے، عوامی اجتماعات میں عظیم الشان پنڈال و جلسہ گاہ سجاتے، مذہبی رسوم کے حوالے سے لنگر و چراغاں سے زمین و آسماں کو منور کرتے نیز اسٹیٹس کی اندھی دوڑ میں حصہ لیتے عوام کے پاس سرمایہ نہیں، بلکہ  یہاں بھی وہی سیاسی پسند و ناپسند اور رائے عامہ پر اثرانداز ہونے اور اسے گم راہ کرنے والے اپنی کوششوں میں کامیاب ہیں۔ اجتماعی مفاد پر اپنی وقتی راحت و تسکین کا سامان کرنے والے مذاق اڑانے میں مگن ہیں تو کچھ عالم فاضل اس فیصلے کے حوالے سے افواہوں کی تخلیق و خدشات کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔

کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ کالاباغ ڈیم جیسا اہم منصوبہ سیاست،انا پرستی،ضد اور ہٹ دھرمی کی نظر ہو گیا- قومی ہم آہنگی کے لیے  سنجیدگی سے کوششیں نہیں کی گئیں۔ ڈیم کی بلندی میں اضافے کی شکایات دور کرنے کے لیے بلندی کو کم کر نے یا  گہرائی میں اضافے جیسے حل تلاش  کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا تھا-دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسی  جائز شکایات (دشواریاں)   سامنے آتی ہیں جن کے  ازالے کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے مناسب اور قابل عمل حل تلاش کیے  جا تے ہیں۔ حال ہی میں  چین میں بننے والا تھری گارجز ڈیم،  برازیل کے ایتائپو ڈیم،  واشنگٹن کا گرینڈ کُولی ڈیم بھی ڈیم کے عجائبات میں سے ہیں جہاں بلندی و گہرائی کے مسائل پر قابو پاکر ڈیم تعمیر کیے گئے۔

مشترکہ حکمت عملی کے لیے آل پارٹیز کانفرنسز اور عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کے آپشنز کو بھی استعمال کیا جاسکتا تھا جو کہ  نہيں کیا گیا۔ علاوہ ازيں ، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جیسے  آمرانہ ادوار، جن میں مقتدر فرد تمام اختیارات  کے بلاشرکت ِ غیرے مالک تھے،  میں یہ منصوبہ باآسانی مکمل کیا جا سکتا تھا۔ تاہم اب  وقت کا مزید ضیاع کیے بغیر مسئلے کا فوری،قابل عمل اور قابل قبول حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

کالا باغ جیسے اہم منصوبے کے علاوہ بھاشا ڈیم کی طرز پر مزید  چھوٹے منصوبے بنا کر پانی کے ذخائر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے-چین جیسے دوست ممالک کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بڑے منصوبوں کے علاوہ دریاؤں اور نہروں پر چھوٹے ڈیمز بھی بنائے جاسکتے ہیں  جبکہ  بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے قابل عمل منصوبوں پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔  ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر استعمال شدہ اور آلودہ پانی کو صاف کر کے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے علاوہ ذخیرہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہوا کی نمی سے پانی کشید کرکے ذخیرہ کرنے پر بھی تحقیق کی جا سکتی ہے۔ سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبے بھی بروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔

کھنبیوں کی طرح اُگ آنے والے آر او پلانٹس اور بوتلوں کے پانی نیز ٹینکر مافیا سے بھتے لے کر عوام کو پانی قیمتاً فراہم کرنے  اور اس کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کو پانی کے بِل بھیجنے والے ارسا پر بھی گرفت کی جانی ضروری ہے۔ نلکوں سے ہوا آتی ہے یا کیچڑ جبکہ پانی کا بِل لگاتار آتا ہے۔   شہر بھر میٹھے پانی کو ترس  رہے ہیں لیکن ٹینکر مافیا جو من مانی قیمت پر پانی فروخت کر رہا ہے وہ یہ پانی کہاں سے لا رہا ہے؟ پانی کی چوری سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ تمام دریاؤں،نہروں اور موجودہ ڈیمز کی صفائی کے مربوط نظام کے ساتھ بہاؤ کی صورت حال اور ذخائر کی استعداد میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔

یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ آئندہ ملکوں کی ترقی و خودکفالت کا مقام پانی پر خود انحصاری سے متعین ہوگا۔ لہٰذا  مستقبل قریب میں آنے والے خطرات و خدشات سے نمٹنے کے لیے  سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

One thought on “آبی قلت اور خشک سالی کے خدشات”

  1. ماہرین کی اکثریت کے مطابق آبی قلت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پانی کے ذخائر اور ڈیمز کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔
    یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ آئندہ ملکوں کی ترقی و خودکفالت کا مقام پانی پر خود انحصاری سے متعین ہوگا۔ لہٰذا مستقبل قریب میں آنے والے خطرات و خدشات سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
    نلکوں سے ہوا آتی ہے یا کیچڑ جبکہ پانی کا بِل لگاتار آتا ہے۔
    اجتماعی مفاد پر اپنی وقتی راحت و تسکین کا سامان کرنے والے مذاق اڑانے میں مگن ہیں تو کچھ عالم فاضل اس فیصلے کے حوالے سے افواہوں کی تخلیق و خدشات کو ہوا دینے میں مصروف ہیں۔

    ایک ایک سطر سچی، مبنی بر خلوص اور حقیقت کی عکاس ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے