شخصیات نقطۂ نظر

آئے ، ٹھہرے اور روانہ ہو گئے۔۔۔ (پہلا حصہ)

لیکن اس آنے، ٹھہرنے اور روانہ ہونے تک بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔  کچھ لوگ کم عرصہ میں بھی بہت کچھ کر جاتے ہیں اور کچھ آئے بھی وہ گئے بھی وہ۔۔۔ چلیں  جانے دیجیے۔ سفیر بھی آتے ہیں، کچھ عرصہ ٹھہرتے ہیں اور پھر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یاد رہ جاتی ہیں ان کی باتیں اور باتوں سے بھی کہیں زیادہ ان کے کام۔

رفعت مسعود ناروے میں پاکستان کی سفیر ہیں۔ وہ تین سال یہاں رہیں اور اب اپنی مدت مکمل کر کے جا رہی ہیں۔  جو کام انھوں نے کیے ہیں وہ یاد رکھے جائیں گے۔اور ناروے کی پاکستانی کمیونٹی ان کی شکرگزار بھی ہے اور ان کی کمی بھی محسوس کرے گی۔

میری ان سے پہلی ملاقات شگفتہ شاہ کی وساطت سے ہوئی۔

کوئی سال ڈیڑھ سال  پہلےکی بات ہے شگفتہ پیاری کا فون آیا "محفل آجاؤ۔ میڈم سفیر بھی آ رہی ہیں۔ مل کر باتیں واتیں کریں گے”۔ ان دنوں شگفتہ اور ان کے شوہر طارق بھائی کا اوسلو میں ایک  ریسٹورنٹ”  محفل”  تھا۔ مجھے اشتیاق کھینچ لے گیا۔ دیکھیں تو سہی خاتون سفیر کیسی ہیں۔ وہاں بس ہم تینوں ہی تھے۔ سموسے، پکوڑے ،پانی پوریاں اور ڈھیر ساری باتیں۔ میں نے بھرپور لطف اٹھایا۔ رفعت مسعود کی سادگی، ذہانت ، ملنسار طبیعت اور کام کی لگن دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں دعا کی کہ کاش ان کا قیام یہاں لمبا ہو اور یہ کچھ  معاملات سنوار کر جائیں۔اور کچھ نہیں تو سفارت خانے کی عمارت تو ٹھیک ٹھاک ہو جائے جو بڑی ہی شکستہ حالت میں ہے اور گندگی اس سے بھی سوا ہے جو ہر کونے کھدرےمیں دکھائی دیتی ہے۔ یعنی بالکل دیسی ماحول۔  نصف ایمان تو یہیں کھودیا گیا۔

سفیر صاحبہ محبت سے ملیں۔ باتوں باتوں میں انھیں پتہ چلا کہ میرے شوہر کا تعلق ایران سے ہے تو انھوں نے پوچھا "فارسی بلد ہستید؟” ( فارسی آتی ہے؟)

"بعلہ ” (جی) میں نے جواب دیا اور ہم کچھ دیر فارسی میں بات چیت کرنے لگے۔  یہ فارسی کی چاشنی تھی یا ان کی خلوص بھری قربت کی، ہم نے پھر ملنے کے وعدے لیے اور دیے۔

دل میں یہی تھا کہ اب ان سے ملتے ملاتے رہیں گے۔ کئی مواقع آئے میں نے ملنا چاہا بھی، اور ملاقات کے بلاووں کی حامی بھی بھر لی۔ لیکن یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے۔ برا ہو اس غم ِدوراں اور غم جاناں کا کہ  ہمارا ملنا نہ ہو سکا۔

پھر پچھلے دنوں اچانک ایک دعوت نامہ ملا۔ سفیر صاحبہ کی الوداعی تقریب کا۔ ارے اتنی جلدی۔۔۔ ! ابھی تو مجھے ان سے ملنا تھا۔۔۔۔ بلکہ گھلنا ملنا تھا۔۔۔۔ کچھ جاننا تھا۔۔۔ کچھ پوچھنا تھا۔ خیر تشنہ سوالوں کے راہ سجھانے پر ہی مجھے خیال آیا کہ ان سے ایک انٹرویو کر لیا جائے۔ جتنے سوال ہو سکیں کرلوں۔کاش سفیر صاحبہ بہت مصروف نہ ہوں۔۔۔ کاش وہ میرے لیے وقت نکال سکیں۔۔۔۔ میں نے پیغام  بھیجا، وقت مانگا ۔۔۔ جواب ملا ” آجاؤ۔۔۔”

میں نے میاں سے کہا، وہ بھی میرے ساتھ چلیں۔ وہ  میری زبانی سفیر صاحبہ کی اتنی تعریفیں سن چکے تھے کہ بنا حجت راضی ہو گئے۔ اس دوران یہ بھی معلوم ہوچکا  تھا کہ سفارت خانے کی عمارت تبدیل ہو گئی ہے اور نئی عمارت بہت اچھی اور صاف ستھری ہے۔ دیکھا تو  واقعی ایسا ہی تھا۔ دل کو خوشگوار حیرت ہوئی۔صفائی بھی، آرائش بھی اور خوش اخلاق عملہ بھی۔ دروازے پر ایک صاحب نے مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہا، دل خوش ہو گیا۔

ہمیں انتظار کروائے بغیر وہ آ گئیں  اور ہمارا بھرپور خیرمقدم بھی کیا۔ مجھ سے گلہ بھی کہ میں کہاں غائب ہو گئی تھی۔ میں نے اپنے میاں پرویز کا تعارف کروایا  اور اب گفتگو فارسی میں ہونے لگی۔ رسمی باتوں کے بعد میں نے پوچھا،  آپ کی اگلی پوسٹنگ کہاں ہو رہی ہے؟

” ایران” انھوں نے جواب دیا۔ میں مسکرا دی اور پرویز کھل اٹھے۔

 کچھ دیر بعد  میں نے سوالات کا سلسلہ شروع کیا۔ سفیر صاحبہ سے کیے گئے سوال و جواب اس حوالے سے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ ہمارے ایک اچھوتے موضوع یعنی ‘سفارت’  پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ہمارے کئی سفیر اور بیوروکریٹ لکھاری بھی رہے ہیں تاہم   ایک غیرواضح خارجہ پالیسی کی روشنی میں ہماری نصابی و ہم نصابی و غیر نصابی تمام ہی کتب میں  اس کے بارے میں ایک آدھ رسمی پیراگراف کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ آپ کو یہاں سفیر صاحبہ کے الفاظ میں ان کے روزو شب اور کام کے بارے میں معلومات ملیں گی۔   


پہلا حصہ

سوال:  سفارت کیا ہے؟

” سفارت بلاشبہ دنیا کے قدیم ترین پیشوں میں سے ہے۔ یہ خیر سگالی   اور اس کا اظہارہے۔ پرانے زمانے میں قبیلے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات، دوستی، تجارت ، امن و امان اور باہمی اعتماد بڑھانے کے لیے ایلچی بھیجے جاتے تھے تاکہ یہ ایلچی اپنے قبیلے  اور اس کے عمائدین و  حکومت کہ طرف سے معاہدے کر سکیں۔ آج کے دور میں یہی کام ممالک کے درمیان ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سفارت کاری اس طرح کی جائے کہ جنگ کے امکانات نہ ہوں  اور امن  کی کوششیں نیز قیامِ امن  کو   ترجیح دی جائے اس کے ساتھ  ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھائے جائیں۔ سماجی طور پر ممالک ایک دوسرے کے نزدیک آ سکیں۔ قوم پرستی  کو کم کر کے انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کیے جائیں۔  یوں جب دو ملک نزدیک آئیں گے اور ان میں روابط بڑھیں گے تو  سیاسی طور پر تعلقات بھی بہتر ہو جائیں گے ۔ اقوام متحدہ کا  اس ضمن میں بڑا کردار رہا  ہے۔ اس کے مطابق ایسے مسائل جو پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں  جیسے ماحول کی آلودگی،  غربت، صحت کے مسائل اور دہشت گردی ان سے نمٹنے کی  مشترک راہ پیدا کی جائے۔ یہ ایک نیا اور بہت بڑا چیلنج ہے۔

سوال: اس حوالے سے آپ ایک سفیر کے کردار کو کیسے  بیان کریں گی؟

سفیر کا پہلا کام تو یہ ہے کہ اپنے ملک کا مفاد سامنے رکھے۔ جس ملک میں وہ جائے وہاں اپنے ملک کی صحیح نمائندگی کرے۔  اپنے ملک کا سافٹ امیج پیش کرتے ہوئے دوسرے ملکوں کو اپنی ثقافت سے آشنا کرے۔ اپنی مصنوعات کو متعارف کرائے اور تجارت کو فروغ دے۔ اس کے علاوہ اس ملک میں مقیم اپنے ہم وطنوں کے ساتھ خوش گوار تعلقات نیز ان کو پیشہ ورانہ معاونت فراہم کرے۔ ”

سوال: بطور سفیر آپ کا سب سے بڑا چیلنج کیا ہوتا ہے؟

"فی الوقت تو  ایک سفیر کے طور پر سب سے بڑا چیلنج دنیا کے  سامنے پاکستان کی مثبت تصویرپیش کرنا ہے۔ یہ کام مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک سمجھا جانے لگا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ملک ہے  جہاں مذہبی انتہا پسند ہیں، اقلیتوں کو کوئی تحفظ نہیں، جہاں خواتین پر تشدد ہوتا ہے، غیرت کے نام پر بچیوں کے قتل ہوتے ہیں ،بچوں سے مزدوری لی جاتی ہے۔ حالانکہ کہیں یہ مسائل ضرور ہیں لیکن یہ پاکستانی کی حقیقی تصویر نہیں۔  یہ سارے ٹھپے  ہٹانا اور ملک کا ایک مثبت اور خوشگوار تاثر  دوسروں کو دکھانا آسان نہیں۔ بدقسمتی سے ملک سے خبریں بھی  کچھ ایسی ہی آتی ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے پاکستان میں سب ہی تو برا نہیں ہے۔ لوگ اتنے اچھے ہیں۔ اکثریت موڈریٹ اور امن پسند ہے۔ لیکن وہ ایک خاموش اکثریت ہے۔ اچھا ہو اگر ان کی بھی آواز اٹھے۔ ”

سوال:  کہاں کہاں تعینات رہیں اور کس جگہ سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہوا؟

” انگلینڈ، فرانس، ترکی انڈیا، ناروے اور اب ایران جا رہی ہوں۔ انڈیا میں سب سے زیادہ چیلنجیز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے ہمارے تعلقات کچھ عجیب سے ہیں کبھی بہت قریبی اور کبھی اتنے فاصلے۔ لوگ وہاں کے بہت اچھے ہیں۔ مل کر امن و آشتی سے رہنا چاہتے ہیں لیکن حکومتوں کا کچھ اور ہی رویہ ہوتا ہے۔”

” میرا خیال ہے کہ لوگ کہیں کے بھی ہوں امن سے ہی رہنا چاہتے ہیں۔”

” جی بالکل۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دنیا میں شدت پسند حکومتیں آ رہی ہیں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کے بجائے دھونس اور دھمکی سے کام لیا جا رہا ہے۔ بھارت میں بھی حکومت کچھ ایسی ہی ہے۔”

سوال: ” سب سے اچھا وقت کہاں گزرا؟

” ترکی میں” ایک دم جواب آیا۔ ” ترکی کے لوگ بہت ہی ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ ترکی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ شکر ہے کہ وہاں ابھی بھی پاکستان اور پاکستانیوں کی عزت ہے اور وہ ہم سے پیاربھی کرتے ہیں۔ بس ایک مشکل وہاں پیش  آئی زبان کا مسئلہ۔ وہ لوگ اپنی زبان پر بہت ناز کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے ملک میں آنے والے ترکی زبان میں ہی بات کریں۔ ہمیں یہ بھی احساس ہوا کہ ہم کو  وہاں بازار سے کوئی چیز خریدنے میں بھی دقت ہوتی تھی۔ کوئی ہماری بات سمجھتا ہی نہیں تھا۔ بس پھر مجھے ہی نہیں پوری فیملی کو بھی یہ زبان سیکھنی پڑی۔ ترکی زبان اردو سے بھی ملتی جلتی ہے اور فارسی سے بھی۔  ہم نےبا قاعدہ کلاسز لیں۔ میرے میاں نے جلدی سیکھ لی لیونکہ ان کے پاس وقت تھا۔ وہ استاد ہیں،  پاکستان کی قائداعظم یونیورسٹی میں اور وہ چھٹیوں پر ترکی آئے تھے۔ مجھے وقت لگا سیکھنے میں کیونکہ میرے پاس وقت کی کمی تھی۔ مجھے زبان کا کہیں اور مسئلہ  نہیں رہا۔ انگلینڈ میں تو قطعی کوئی دقت نہیں ہوئی۔ میں نے اسکول میں فرنچ پڑھی تھی اس لیے فرانس میں بھی مشکل نہیں ہوئی۔ انڈیا میں ایک طرح سے اپنی ہی زبان تھی۔ بس ترکی میں بڑا مسئلہ  تھا۔”

اور اب ایران میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا آپ کو کیونکہ آپ فارسی بھی جانتی ہیں۔ ” پرویز نے کہا۔

” جی ہاں یہ مجھے اطمینان ہے کہ وہاں زبان کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔”

سوال:  کتنی زبانیں آپ کو آتی ہیں اور فارسی کہاں سے سیکھی؟

” فارسی میری مادری زبان ہے۔ اس کے علاوہ  اردو، انگلش، فرنچ اور ترکی اور تھوڑی سی عربی بھی۔ وہ اس لیے کہ میرے والد کویت میں ملازمت کرتے تھے اور میں وہیں اسکول گئی تھی۔ ابتدائی تعلیم کویت میں ہی حاصل کی۔ ایک سفیر ہونے کے ناتے ایک سے زائد زبانیں جاننا خود میرے کام کے حوالے سے بھی بہت مفید رہا۔ ”

سوال: یہاں نارے میں قیام کے دوران  نارویجین سیکھی؟

” نہیں بھئی یہ زبان نہ سیکھ سکی۔ مشکل زبان ہے۔۔۔ بس مہربانی اور شکریہ ہی سیکھا۔ ویسے بھی یہاں سب انگلش بول اور سمجھ لیتے ہیں۔ اتنی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی زبان سیکھنے کی”

سوال:  اچھا ناروے  آپ کو کیسا لگا؟

” میں ناروے کے بارے میں اتنا کچھ نہیں جانتی تھی۔ جب مجھے پتہ چلا کہ میری پوسٹنگ ناروے ہو رہی ہے تو منھ  سے یہی نکلا تھا ۔۔۔ اوہ ناروے۔۔۔ میں۔۔۔ اوہ۔۔۔  لیکن آ کر پتہ چلا کہ یہ کتنا اچھا ملک ہے۔ بس اگر یہاں اتنی شدید سردی نہ ہو تو رہنے کے لیے دنیا کی بہترین جگہ ہے۔”

جی ہاں ناروے کی سردی اللہ کی پناہ۔۔اتنے برسوں  سے یہاں رہنے کے باوجود ہم اس کے عادی نہیں ہو سکے۔

” ناروے کے لوگ بہت اچھے ہیں۔کچھ اپنے آپ میں ہی رہتے ہیں لیکن بداخلاق بالکل نہیں ہیں۔”

اس پر مجھے یاد آیا کہ سفیر صاحبہ نے ایک نارویجین اخبار کو انٹرویو دیا تھا اس میں کہا تھا کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ نارویجین بہت سرد لوگ ہیں۔ مجھے ایسا نہیں لگا۔مجھے تو یہاں بہت اچھے اور گرم جوش لوگ ملے۔ ہاں ان میں ڈسپلن بہت ہے اور یہ اچھی بات ہے۔

سوال:  آپ کے خیال میں ناروے میں مقیم پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ  کیا ہے؟

” ان کی اپنی شناخت۔ وہ ابھی بھی اسی پرانے زمانے میں جی رہے ہیں جس زمانے میں وہ وطن چھوڑ کر یہاں آئے تھے۔ زمانہ آگے نکل گیا ہے۔ پاکستان آگے نکل گیا ہے لیکن یہ پاکستانی ابھی بھی خود کو اس دور میں رکھے ہوئے ہیں۔ آپ ضرور اپنی ثقافت اور  مذہب کو فوقیت  دیں لیکن زمانے کے ساتھ چلتے ہوئے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ یہاں کی وہ باتیں اپنائیں جو آپ کو سوٹ کرتی ہیں جو آپ کے ذاتی فائدے کے لیے ہیں اور دوسری باتوں کا احترام نہ کریں۔ آپ نے خود اس ملک کو رہنے کے لیے چنا ہے اور یہاں آپ کو برابر کے حقوق ملے ہیں۔ اب یہ آپ کا ملک ہے۔ اسے خراب نہ کریں۔ حجاب اور نقاب کو مسئلہ  نہ بنائیں۔یہاں شریعت نافذ کرنے کے دعوے نہ کریں۔ میں تو یہاں مقیم پاکستانیوں سے یہ بھی کہتی ہوں کہ دوہری شہریت کا مطالبہ نہ کریں۔ ابھی تو آپ اس ملک کے شہری ہیں کوئی آپ کو نکال نہیں سکتا۔ دوہری شہریت ملنے کے بعد اگر آپ نے قوانین توڑے اور دوسرے شہریوں کو اذیت دی تو آپ کو واپس بھی بھیجا جا سکتا ہے۔”

سوال:  ناروے میں پاکستانی لڑکیوں کی جبری شادی ایک بڑا مسئلہ  ہے۔ اس کے حل کی کوئی تجویز؟”

” یہ ایک بڑا مسئلہ  ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانی ابھی تک اسی پرانے زمانے میں جی رہے ہیں۔ وہی برادری سسٹم وہی خاندانی ترجیحات۔ اب تو جبری شادی پاکستان میں بھی کم کم ہی ہوتی نظر آتی ہے۔ زمانہ بدل گیا ہے۔ پاکستان  کے دیہاتوں تک میں مولوی نکاح نہیں پڑھاتا،  اگر کوئی ایسی شک کی بات نظر آئے کہ لڑکی کی رضامندی نہیں ہے۔قانون بن گئے ہیں۔ سزا ہوتی ہے۔ لیکن یہاں پاکستانیوں کا مزاج نہیں بدل رہا۔ میں کہتی ہوں کہ دیکھیے  زمانے کے ساتھ چلیے۔جب آپ یہاں آئے تھے تو آپ کو کتنی مشکلات کا سامنا ہوا تھا۔ لیکن اب آپ سیٹ ہو چکے ہیں۔ پھر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان سے اپنے کسی بھانجے بھتیجے کو لے آئیں اور پھر انھیں  بھی انہی مشکلات کا سامنا ہو۔ سوچیں  کہ ایسے بچے یا بچی جو بہت مختلف ماحول میں پلے بڑھے ہوں وہ شادی کے بعد کتنے سماجی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ذہنی ہم آہنگی نہیں ہوتی۔  ایسے نکاح جو زبردستی ہوں وہ تو شرعی طور پر بھی جائز نہیں۔شادی بچوں کی مرضی اور پسند سے ہو۔ یہاں کا ماحول الگ  ہے وہاں کا الگ۔بہتر تو یہ ہے یہیں شادیاں کریں۔ لیکن اگر بچے اس پر راضی ہیں کہ پاکستان میں شادی کریں تو اس کی بھی انھیں آزادی ہونے چاہیے۔ناروے میں بھی جبری شادی پر سخت قانون بنا ہوا ہے اور اس پر سزا بھی ملتی ہے۔ کئی بچیوں نے حکومت سے مدد مانگی ہے اور انھیں مدد ملی بھی ہے۔ لیکن اب بھی یہاں یہ ہوتا ہے۔”


یہاں میرے سوالات کا پہلا حصہ ختم ہوا۔  دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔ 

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

One thought on “آئے ، ٹھہرے اور روانہ ہو گئے۔۔۔ (پہلا حصہ)”

  1. بہترین تحریر نادرہ جی، معلوماتی بھی ہے اور زندگی کے لیے نئے نشان منزل کا تعین کرتی ہوئی بھی۔ اندازہ ہوا کہ سفیر کسی بھی ملک میں بس افتتاحی تقاریب کا حصہ بننے نہیں جاتے کچھ کام بھی کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے