شخصیات نقطۂ نظر

آئے، ٹھہرے اور روانہ ہو گئے۔۔۔ (دوسرا حصہ)

دوسرا حصہ

پہلا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔


سوال: سفارت میں کیسے آئیں؟ پہلے سے سوچا ہوا تھا یا یہ اتفاقی طور پر ہوا؟

” اتفاقی ہی سمجھ لیں۔ میری زندگی کا بڑا حصہ ملک سے باہر گذرا ہے۔ والد کویت میں انجنیئر تھے۔ میں دو سال کی تھی جب ہم کویت گئے۔ وہیں اے لیول ، او لیول کیا۔ گریجویشن کے بعد میرا دل تھا کہ میں پاکستان جاؤں۔ میرے والد نے رائے دی کہ  سول سروسز میں جاؤ تاکہ  تمھیں ملک کی خدمت کا جو شوق ہے وہ بھی پورا ہو جائے گا۔میں نے جب امتحان دیا تو میں نے ترجیحات کی فہرست میں  فارن سروسز کو آخر میں رکھا۔ میں انتطامیہ میں جانا چاہتی تھی۔ ریونیو اور انفارمیشن میں جانا چاہا۔ جرنلزم کا مجھے شوق تھا اور مجھے میری پہلی چوائس مل بھی گئی۔لیکن مجھے وزارت اطلاعات میں آ کر سخت مایوسی ہوئی۔ جو میرے تصور میں تھا اور جو میں کرنا چاہ رہی تھی وہ ناممکن نظر آ رہا تھا۔ ضیاالحق کا زمانہ تھا۔وزارت اطلاعات  بالکل ایک پراپیگنڈا  تھا۔میرے مزاج کے خلاف تھا یہ سب۔ میں باہر کی پلی بڑھی تھی اور مجھے آزادانہ کام کرنے کی عادت تھی تو میں نے ایک بار پھر امتحان دیا ۔سیکنڈ چوائس پر فارن سروسز کو رکھا۔ پہلی خواہش پھر بھی انتظامیہ ہی تھی۔ لیکن جب میرا انٹرویو ہوا تو انھوں نے کہا کہ جی آپ انتظامیہ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ کو پاکستان کے بارے میں اتنا پتہ نہیں ہے۔ یہاں کے سسٹم سے آپ ناواقف ہیں۔ آپ کو زبانیں بھی آتی ہیں باہر رہنے کا تجربہ بھی ہے۔ آپ کا بیک گراونڈ دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کو فارن سروسز میں ہونا چاہیے۔ میں تذبذب کا شکار تھی۔ لیکن میرے شوہر نے حوصلہ دیا بلکہ سمجھایا کہ تم پاکستان کی بیوروکریسی سے واقف نہیں ہو یہاں کام کرنے کا طریقہ کچھ اور ہی ہے۔ بس اس طرح میں سفارت میں آگئی۔ ”

میرا اگلا سوال یہ تھا۔

سوال:  بطور خاتون کبھی آپ کو یہ احساس ہوا کہ آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے؟

” خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک  تو ہے؛  کہیں کہیں تو کافی حد تک ہوتا ہے اور آپ محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر میری ایران تقرری۔ میں تو  کافی عرصے سے جانا چاہ رہی تھی لیکن صرف خاتون ہونے کی وجہ سے مجھے ایران نہیں بھیجنا چاہ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مجھے خاتون ہونے کے ناتے وہاں مسئلے ہو سکتے ہیں۔ میں نے اسی لیے آپ دونوں سے پوچھا بھی کہ مجھے ایران میں قیام کے دوران کیا مسائل پیش آ سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اس لحاظ سے اچھی تبدیلی آرہی ہے کہ اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہے، کام بھی کر رہی ہے اور خود مختار ہے  تواس کا  سوشل لیول اوپر ہو جاتا ہے،  اسٹیٹس بن جاتا ہے۔ اس کا خاتون کو ایڈوانٹج ملتا ہے۔وہ آپ اپنی جگہ بنا لیتی ہیں۔حالانکہ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ جنسی ہراسانی ہوتی ہے۔لیکن کیونکہ تعلیم یافتہ عورت کی ایمپاورمنٹ ہوئی ہوتی ہے،  وہ ہمت سے  کھڑی ہو جاتی ہے ۔ لیکن ہم محسوس کرتے ہیں کہ مردوں کو ابھی بھی کئی  اعتبار سے  ترجیح مل جاتی ہے”۔

سوال: تو پاکستانی تعلیم یافتہ عورت کا مسئلہ کیا ہے؟

” پاکستان کی تعلیم یافتہ عورت کا ان دنوں سب سے بڑا مسئلہ  یہی جنسی ہراسانی ہے۔  یہ مسئلہ نیا نہیں ہے لیکن اچھی پیش رفت یہ ہے کہ  اب اس پر بات ہو رہی ہے۔ خواتین کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں۔  عورتوں کی بڑی تعداد اب کام کر رہی ہے، شہروں میں بھی اور دیہاتوں میں بھی۔ اس وجہ مردوں کی انانیت  پر کسی حد تک ضرب پڑی ہے؛ وہ خود کو غیر محفوظ سا محسوس کرنے لگے ہیں؛ اسی لیے سوچتے ہیں کہ اسے کیسے دبا سکیں اور عورت کو احساس کمتری میں ہی مبتلا رکھیں۔ وہ عورت کو دبانے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔ ایک طریقہ جنسی ہراسانی ہے۔ 2016ء  میں  انسدادِ ہراسانی (اینٹی ہراسمنٹ)  قانون بنا؛  اب ہر شعبے میں ایک کمیٹی ہے جس میں جنسی ہراسانی کی شکار خواتین اپنی شکایات لے کر جا سکتی ہیں ۔کمیٹی اس پر ایکشن لیتی ہے۔ اور اگر کوئی مرد اس میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے سزا بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن ابھی بھی ہم کافی  پیچھے ہیں اور ابھی بھی اور بہت کچھ کرنا ہے۔ اب پاکستان میں تو غربت بھی ہے۔ سماجی مسئلے ہیں۔ اس لیے بھی عورت کی تضحیک ہوتی ہے اسے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتا ہے۔ یہاں بھی عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ انھیں مردوں کے برابر تنخواہ نہیں دی جاتی۔ تو یہ ایک گلوبل چیلنج ہے۔ لیکن کہیں زیادہ ہے کہیں پہ کم؛ لیکن کسی نہ کسی صورت میں یہ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ناروے میں گھریلو تشدد کے واقعات نہیں ہوتے یا یہاں جنسی ہراسانی نہیں ہوتی تو میں نہیں مانتی۔ لیکن کیونکہ یہاں کی عورت میں ایمپاورمنٹ آچکی ہے وہ چپ نہیں رہتی۔ پاکستان میں بھی اب عورت بول رہی ہے۔ سامنے آ رہی ہے۔ اپنے پر کیے گئے ظلم کو دنیا کے سامنے لا رہی ہے۔ ”

(رفعت مسعود صاحبہ سے مل کر لگتا ہے کہ ان کا اور ادب کا کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہے۔ یہی سوچ کر میں نے پوچھا ۔)

سوال: ادب سے کوئی تعلق یا شوق؟

” کچھ کچھ۔۔۔ میری ڈگری  انگریزی ادب  میں ہے۔ تو مجھے ظاہر ہے ادب سے لگاؤ ہے۔  مجھے شاعری پسند ہے۔ ڈرامہ پسند ہے اور فکشن بھی۔ لیکن انگلش میں۔ اردو میرے لیے پڑھنا مشکل ہے۔ اب بھی مجھے دقت ہوتی ہے اردو پڑھنے میں۔ کیونکہ اردو کبھی اس طرح پڑھی ہی نہیں۔ اب پڑھ تو لیتی ہوں لیکن آسانی سے نہیں۔ اردو شاعری پڑھنا تو بہت ہی مشکل ہے۔ لیکن میں نے یہ طریقہ نکالا ہے کہ میں شاعری سنتی ہوں۔ مشاعرے،  غزلیں، نظمیں سنتی ہوں اور لطف اٹھاتی ہوں۔ آرٹ کی جہاں تک بات ہے اس میں بہت دلچسپی ہے۔ میری بیٹی آرٹسٹ ہے۔ وہ ویژول آرٹ میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے۔ پاکستان میں بھی اب ماڈرن آرٹ بہت ترقی کر رہا ہے۔ اچھے با صلاحیت آرٹسٹ آ رہے ہیں۔ ”

سوال:  کیا آپ پاکستانی ڈراموں کو بھی آرٹ کی ایک صنف سمجھتی ہیں؟”

” جی جی ! یہ بھی آرٹ کی ایک قسم ہے۔ لیکن یہ کچھ زیادہ ہی کمرشل ہو گیا ہے۔ بلکہ میں تو کہوں گی کہ پاکستانی نیوز چینل بھی ڈراموں سے کم نہیں۔ ”

سوال: کوئی پاکستانی ڈرامہ دیکھا یا دیکھتی ہیں؟

” بہت عرصہ ہو گیا نہیں دیکھا۔ ایک دیکھا تھا جس نے کافی اثر چھوڑا تھا۔ وہ اے آر وائی پر آیا تھا اور ایک خواجہ سرا کے متعلق تھا۔یہ بہت پاورفل ڈرامہ تھا بہت سٹرونگ میسج  تھا اس میں۔ یہ ایک نہایت بولڈ قدم تھا ۔ اس قسم کے ڈرامے یا تحریریں جس میں کوئی میسج ہو کوئی سماجی مسئلہ ہو اس کا سماج اور عمومی رویوں پر  ضرور اثر پڑتا ہے۔ ڈرامہ آرٹ کی ایک مضبوط قسم ہے۔ پاکستانی تھیٹر بہت اسٹرونگ میڈیم ہے۔ اور بہت اچھا پرفارم کر رہا ہے۔ تھیٹر فلم اور ڈرامے سے کہیں زیادہ پاورفل ہے۔ اس میں آپ لائیو پرفارمنس دیکھتے ہیں۔ انور مقصود کے تھیٹر ڈرامے بہترین ہیں۔ ایک تو ان کے قلم میں بڑی کاٹ ہے۔ موضوع اچھا ہوتا ہے پھر فنکاروں کا اسٹیج پر ڈیلیور کرنا ، بہت پر تاثر ہو جاتا ہے۔ ایک آرٹ کی صنف جو پاکستان میں بالکل ترقی نہیں کر رہی وہ ہے رقص۔ ہمارے پاس اچھے ڈانس استاد ہیں وہ سکھا سکتے ہیں لیکن لوگ اس طرف کم ہی آتے ہیں۔ موسیقی بہت ترقی کر رہی ہے پھل پھول رہی ہے لیکن ڈانس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ رقص کے ذریعہ بھی مضبوط پیغام دیا جا سکتا ہے۔ یہ تفریح بھی ہے؛  موسیقی سے اس کا قریبی رشتہ ہے لیکن پتہ نہیں کن وجوہات کی بنا پر رقص پر توجہ نہیں دی جاتی۔”

سوال: موسیقی سنتی ہیں ؟

” اوہ ہاں۔۔۔ موسیقی سنتی ہوں۔  مجھے مغربی موسیقی بھی پسند ہے اور صوفی موسیقی یعنی قوالی  مجھے بہت پسند ہے۔ غزلیں سننا بھی بہت اچھا لگتا ہے۔ مغربی موسیقی میں کلاسیک کے علاوہ مجھے جاز بہت ہی پسند ہے۔ ”

جاز کے نام پر پرویز اور میں دونوں ہی کھل اٹھے۔۔۔ ہمیں بھی جاز اور بلیوز بہت پسند ہے۔

ان تمام سوالات کے بعد سفیر صاحبہ نے ایک بار پھر ایران کے بارے میں مزید جاننا چاہا۔اور اب سوال ان کی جانب سے آئے۔اور میں نے اور پرویز نے جہاں تک ہو سکا جواب دیے۔ تسلی بھی دی کہ ایران برا ملک نہیں۔ لوگ تو بہت ہی اچھے اور ملنسار ہیں۔ مہمان نوازی میں اپنی مثال ہیں۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ان کا وقت وہاں بہت اچھا اور یادگار رہے گا۔

چودہ جون کو سفیر صاحبہ کی الوادعی تقریب تھی ۔سولہ جون کو سفیر صاحبہ نے اپنی رہائش گاہ پر عید ملن پارٹی رکھی۔ بہت اچھا طعام اور اس سے بھی اچھا کلام۔  انھوں نےنہایت عمدہ تقریر کی۔ ان کے مزاج میں انکساری اور اپنائیت ہے جو ان کی طرف کھینچتی ہے۔ ان سے یہ ساری ملاقاتیں یادگار رہیں گی۔ ان کے لیے ہماری بہترین خواہشات۔

ناروے کے بادشاہ کے ساتھ
نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

One thought on “آئے، ٹھہرے اور روانہ ہو گئے۔۔۔ (دوسرا حصہ)”

  1. واقعی خواتین کو ہر جگہ ہی ہراسانی کا سامنا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ تقریبا ہر سماج ہی میں اسے صرف سیکس آبجیکٹ ہی سمجھا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے